<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113</id><updated>2011-04-22T05:50:45.232+05:00</updated><title type='text'>نعمان کی ڈائری</title><subtitle type='html'>ایک عام سے لڑکے کی فضول سی باتیں</subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>78</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-115291936475177418</id><published>2006-07-15T04:18:00.000+05:00</published><updated>2006-07-15T04:22:44.766+05:00</updated><title type='text'>دهشت</title><content type='html'>کراچی میں شیعه مذهبی رهنما حسن ترابی خودکش بم دھماکے میں هلاک هوگئے۔ ان کے ساتھ هلاک هونے والوں میں ایک &lt;a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/07/060714_turabi_update_blast.shtml"&gt;آٹھ ساله معصوم بچه&lt;/a&gt; بھی شامل هے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وه کونسی جنت هے جو اس معصوم کے بیگناه قتل سے اس خودکش حمله آور کو حاصل هوئی هوگی؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تشدد، عدم برداشت، وحشت، بربریت اور جهالت کی یه رو همیں بها کر کهاں لے جائے گی؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شاید اسی جنت میں جهاں وه خودکش حمله آور پهنچ چکا هے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-115291936475177418?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/115291936475177418/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=115291936475177418' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/115291936475177418'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/115291936475177418'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/07/blog-post.html' title='دهشت'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-115270636520457191</id><published>2006-07-12T16:20:00.000+05:00</published><updated>2006-07-12T17:12:45.290+05:00</updated><title type='text'>Minahil in Fairytopia</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/minahil-fairytopia.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/minahil-fairytopia.jpg" alt="مناہل پرستان میں" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مناہل &lt;a href="http://www.imdb.com/title/tt0450982/"&gt;پرستان&lt;/a&gt; میں&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-115270636520457191?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/115270636520457191/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=115270636520457191' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/115270636520457191'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/115270636520457191'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/07/minahil-in-fairytopia.html' title='Minahil in Fairytopia'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-115077766957751759</id><published>2006-06-20T18:22:00.000+05:00</published><updated>2006-06-20T19:17:32.023+05:00</updated><title type='text'>کراچی کے کتے</title><content type='html'>چار پاؤں والے جانوروں میں سب سے زیادہ جو جانور کراچی میں پایا جاتا ہے وہ ہے کتا۔ کتے کو یہ اعزاز شہر کی بلیوں سے سخت مسابقت، اور چوہوں کے مردم شماری کے رضاکاروں سے چھپے رہنے کے سبب حاصل ہوا ہے۔ بلیاں گرچہ کراچی والوں کے درمیان رہنے میں کافی ماہر ہیں اور اپنی بقا کے تقریبا تمام ضروری گروں سے آگاہ ہیں لیکن چند ناگریز وجوہات کی بنا پر وہ اپنی آبادی اسقدر اضافہ نہیں کرپاتی ہیں جتنا کہ کتے کر رہے ہیں۔ ان وجوہات میں سب سے قابل ذکر بلی کے بلونگڑوں کا چھوٹا سائز ہونا ہے۔ عموما یہ بچے یا تو پیروں تلے آجاتے ہیں (جیسے ہماری بلڈنگ میں چند دن پہلے ہوا ہے) یا پھر انہیں کوئی بلا یا کتا مار ڈالتا ہے۔ کتے کے پلے پیدائشی اسٹریٹ اسمارٹ ہوتے ہیں اور عموما دن بھر گاڑیوں کے نیچے دبکے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے۔ گرچہ بلی کے بلونگڑے زیادہ کیوٹ ہوتے ہیں مگر کراچی والے انتہائی سخت دل ہیں۔ کسی بلی کے بچے کے زندہ رہنے یا مرجانے سے یا کتوں کی آبادی زیادہ ہونے سے انہیں کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی۔ تاوقتیکہ کوئی کتا انہیں کاٹنے کی احمقانہ کوشش کرے اور کاٹنے والے کتوں کا ایسے شہر میں جینا بہت محال ہے جہاں بچے بچے کے ہاتھ میں آتشیں اسلحہ ہو اور ہر نکڑ پر فرض شناس پولیس افسران تعینات ہوں۔ ایسے کتوں کو منٹوں میں جہنم رسید کردیا جاتا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کتوں کی ہوشیاری اور ابن الوقتی کی وجہ سے کراچی میں ہر جگہ آپکو کتے مٹر گشتی کرتے نظر آئیں گے۔ دن ہو یا رات، اکیلے یا اپنے غول کے ساتھ یہ کتے شہر کی سڑکوں پر راج کرتے ہیں۔ ان کتوں میں کراچی والوں جیسی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ مثلا خود غرضی، مطلب پرستی، جلد بازی اور ڈپریشن وغیرہ۔ عام طور پر کتے کو بڑا وفادار جانور مانا جاتا ہے۔ مگر کراچی میں گھومنے والے کتوں سے وفا کی امید نہ رکھئیے گا ورنہ کسی ہسپتال میں بیٹھے انجکشن لگوراہے ہونگے۔ دراصل یہ کتے بڑے خوددار ہیں۔ اپنی روزی کچرے کے ڈھیروں (جو کہ شہر میں وافر مقدار میں موجود ہیں) سے خود حاصل کرتے ہیں۔ اور یقین مانیں تکہ بوٹی اور پتہ نہیں کیا لوازمات یہ روز نوش جان فرماتے ہیں۔ یہ شہری کتے آپ کی پھینکی ہوئی ہڈی بوٹی بشکریہ قبول تو کرلیں گے مگر دم ہلا کر آپکی طبیعت کو بہلانا ضروری نہ سمجھیں گے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کراچی والوں جیسی ایک اور خصوصیت جو ان میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ غریبوں پر ہی بھونکتے ہیں۔ اگر کوئی مشکوک افراد موٹرسائیکلوں پر کلاشنکوفیں تھامیں گھوم رہے ہوں تو یہ کتے انہیں درخوداعتنا نہیں سمجھتے مگر جہاں کوئی غریب کچرا چننے والا یا سائیکل پر ڈبل روٹی سپلائی کرنے والا نظر آیا ادھر ان کی فرض شناسی فورا بیدار ہوجاتی ہے۔ لیکن بڑے بوڑھوں نے خوب کہا ہے کہ جو بھونکتے ہیں وہ کاٹتے نہیں۔ اسلئیے عموما غریب لوگ کتوں کے بھونکنے کو بالکل مائنڈ نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے خوفزدہ ہوکر دوڑیں لگاتے ہیں۔ یہ کتے امیروں پر اور خصوصا مہنگی گاڑیوں والوں پر تو بالکل نہیں بھونکتے کہ کہیں مبادا گاڑی میں کوئی اعلی افسر نہ بیٹھا ہو اور وہ جھنجھلاہٹ میں آکر شہر میں کتوں کیخلاف آپریشن کلین اپ نہ شروع کروادے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کراچی کے کتے تندرست اور چست ہوتے ہیں اس کا سبب اچھی خوراک اور روزانہ چہل قدمی کی عادت ہے شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی کتے کے ہارٹ اٹیک سے مرنے کی خبر نظر سے نہیں گزری۔ یہ کتے کراچی کی دیگر آبادی کی طرح محنتی بھی بہت ہوتے ہیں۔ دن ہو کہ رات روٹی روزی کی دوڑ دھوپ میں مصروف رہتے ہیں۔ شاید ان میں سے چند کتے کم خوابی کا بھی شکار ہوں۔ مگر معیشت کا پہیہ چلاتے رہنے کے لئیے قربانیاں تو دینی ہی پڑتی ہیں۔ ایک اور چیز جو دیکھنے میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ مختلف رنگ و نسل کے کتے مل کر اپنی ایک چھوٹی سی تنظیم بنالیتے ہیں اور کسی نہ کسی گلی محلے پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ جو کتا تنہا رہ گیا یا اپنے علاقے سے دور ہوگیا تو دوسرے علاقے کے کتے اسے جینے نہیں دیتے اور اس شہر خراباں میں مرنے کی فرصت کسے ہے۔ کتوں کی یہ اجتماعی زندگی اور تنظیم سازی کی صلاحیت ان کے جمہوری رجحان کا پتہ دیتی ہے۔ اگر کتوں کو کراچی میں ووٹ دینے کا حق ہوتا تو شاید وہ کسی جرنیل کی حمایتی جماعت کو تو ہرگز ووٹ نہیں دیتے تاہم یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ ان کتوں کی ابن الوقتی کا ذکر میں اوپر کرچکا ہوں۔ ہوسکتا ہے ان کی تنظیم فوج کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کے بعد ملک اور اپنی نسل کے بہترین مفاد میں کوئی سمجھوتہ کرلیتی۔ کراچی کی بلیوں میں اسقدر ابن الوقتی نہیں پائی جاتی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اجتماعی زندگی گذارنے میں ان بلیوں کو اتنی دلچسپی نہیں ہے شاید وہ بادشاہت میں یقین رکھتی ہیں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-115077766957751759?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/115077766957751759/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=115077766957751759' title='31 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/115077766957751759'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/115077766957751759'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/06/blog-post_20.html' title='کراچی کے کتے'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>31</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114932023074857120</id><published>2006-06-03T12:12:00.000+05:00</published><updated>2006-06-03T12:37:10.766+05:00</updated><title type='text'>جو لوح ازل پہ لکھا ہے</title><content type='html'>&lt;a href="http://www.ppp.org.pk/CoD.html"&gt;میثاق جمہوریت&lt;/a&gt; کے نام سے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کا آجکل بہت چرچا ہے۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے سربراہان پر بدعنوانیوں کے سینکڑوں الزامات ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بجائے اس کے کہ یہ دیکھا جائے کہ کون کہہ رہا ہے ، پہلے اس پر غور کیا جانا چاہئیے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ دونوں سیاسی جماعتیں ملٹری ڈکٹیٹرشپ کیخلاف ایک معاہدے کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ اس معاہدے پر عمل درآمد ہوتا ہے یا نہیں لیکن معاہدے کا طے پاجانا ہے ملٹری ڈکٹیٹرشپ کے لئیے بڑا دھچکا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئیے ضروری ہے کہ عنان اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو پاکستان کے عوام کو جوابدہ ہوں۔ پاکستان میں عدلیہ اور پریس آزاد ہو اور اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم ہو۔ ملٹری ڈکٹیٹرشپ چاہے اس کی نیت کتنی ہی صاف ہو، پاکستان کی عوام کو جوابدہ نہیں، لوٹوں کی ایک کھیپ کو اسمبلی میں بٹھا دیا گیا ہے اور ربراسٹیمپ بنے رہنے کے عوض کبھی آٹے کے بحران، کبھی چینی کے بحران اور کبھی &lt;a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/06/060601_steel_mill_sc_zs.shtml"&gt;نجکاریوں&lt;/a&gt; کے کمیشنز کے ذریعے انہیں نوازا جارہا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عدلیہ کی بے بسی سے ملک کا بچہ بچہ آگاہ ہے۔ جب جی چاہا عدالت عظمی سے حکمرانی کا سرٹیفیکیٹ لے لیا۔ بیچارے جج صاحبان اپنا وقت پتنگ بازی، سات سمندر پار چھپنے والے کارٹونوں اور ولیموں میں کھلائے جانے والے کھانوں کے از خود نوٹس لے کر گزارتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ملک میں تقریبا ہر اہم غیر فوجی ادارے میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجیوں کو &lt;a href="http://newsforums.bbc.co.uk/ws/thread.jspa?threadID=961"&gt;بھر لیا گیا&lt;/a&gt; ہے۔ کرکٹ کے میچ ہوں، یا پانی کی تقسیم، ہاکی کی ترویج ہو یا بجلی کی سپلائی ہر محکمے پر فوج نے اپنا قبضہ جما رکھا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پریس کی آزادی کو ویج ایوارڈز، اشتہارات، اور حقوق نشر و اشاعت کے ذریعے کنٹرول کرلیا گیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایک نیوز چینل &lt;a href="http://www.mcb.org.uk/features/features.php?ann_id=457"&gt;آثار قیامت&lt;/a&gt; پر معلومات افزاء پروگرام پیش کرتا رہتا ہے تو دوسرا چینل لوگوں کو "&lt;a href="http://www.geo.tv/zs/"&gt;ذرا سوچئیے&lt;/a&gt;" کے نام سے نان ایشوز پر سوچنے کی دعوت دیتا رہتا ہے۔ ان پروگراموں کے بعد جو وقت بچ جاتا ہے اس میں ہر پندرہ منٹ بعد ٹائم چیک کے ذریعے عوام کو صحیح وقت سے مطلع کیا جاتا رہتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایسی صورتحال میں ضروری ہے کہ پاکستانی ایسے لوگوں کے ہاتھ مضبوط کریں جو طاقت کے مرکز کو جی ایچ کیو سے نکال کر پارلیمنٹ میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارا ملک ہے اس ملک پر کون حکومت کرے گا اور اس کے ادارے کون چلائے گا اس فیصلے کا اختیار ہمارے پاس ہونا چاہئیے۔ جس شخص کو ہم ووٹ دے کر منتخب کریں گے وہ کم از کم کل کلاں کو ہمارے گلی محلوں میں ووٹ لینے تو آئے گا۔ پارلیمینٹ کی بالادستی سے آئین کی بالادستی قائم ہونے کی امید تو باقی رہے گی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دیگر احوال یہ ہے کہ گذشتہ شب کراچی کی تاریخ کا غالبا سب سے &lt;a href="http://www.geo.tv/geonews/details.asp?id=120120"&gt;بھیانک ٹریفک جام&lt;/a&gt; تھا۔ میلوں دور تک گاڑیوں کا بمپر سے بمپر جڑا تھا۔ جو لوگ شام کو دفتروں سے نکلے تھے وہ آدھی رات تک گھر نہ پہنچ سکے تھے۔ شہر میں مسلسل لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن چار سو میگاواٹ کی بجلی کی کمی کو کسی بھی طرح پوری کرنے سے قاصر ہے اوپر سے ان کی تنصیبات کو تخریب کاری کی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حکومت اور کے ای ایس سی عوام کو کسی بھی قسم کی امید دلانے سے معذور ہیں۔ اب گرمیوں کے خاتمے پر ہی اس بحران کے خاتمے کی امید ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۔۔۔اور اسی امید پر ہماری دنیا قائم ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114932023074857120?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114932023074857120/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114932023074857120' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114932023074857120'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114932023074857120'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/06/blog-post.html' title='جو لوح ازل پہ لکھا ہے'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114721548451898152</id><published>2006-05-10T03:40:00.000+05:00</published><updated>2006-05-10T03:58:04.763+05:00</updated><title type='text'>نمبر ون کی دوڑ</title><content type='html'>حکومت پاکستان اتنی نالائق ہے کہ ناکام ترین ریاستوں کے مقابلے میں بھی نویں پوزیشن بمشکل حاصل کرپائی ہے۔ افغانستان پاکستان کے ہاتھوں شکست کھا گیا ورنہ پاکستان کا اس فہرست میں دسواں نمبر ہوتا۔ جیسا کہ ہمارے اردو اخبارات کے کالم نویس حضرات لکھتے ہیں کہ یہ حکومت کے لئیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ تمام عالم اسلام کو اس مسئلے پر سوچ بچار کرنی چاہئیے اور امت مسلمہ کو فوری طور پر متحد ہوجانا چاہئیے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حکومت پاکستان نے اس جائزے کو واقعتا لمحہ فکریہ جانا ہے اور اس دن سے روز و شب پہلی پوزیشن کے حصول کے لئیے تن من دھن سے جت گئے ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;رپورٹ چھپنے کے بعد سے کراچی میں مسلسل لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ پچھلے ایک ہفتے سے ہمارے محلے میں پانی نہیں آرہا۔ ہم میٹھا پانی صرف کھانا پکانے اور پینے کے استعمال میں لیتے ہیں ورنہ دیگر گھریلو کاموں کے لئیے ہم بورنگ کا کھارا پانی استعمال کرتے ہیں۔ بجلی اور پانی کو چھوڑئیے، آج سوئی سدرن کی بی مینڈکی کو بھی زکام ہوا اور وہ ہماری دکان کی گیس بغیر کسی اطلاع کے خواہ مخواہ منقطع کرگئے۔ بجلی پانی گیس کی عدم دستیابی اپنی جگہ۔ کراچی کی بدحال پبلک ٹرانسپورٹ بھی پرسوں غیر اعلانیہ ہڑتال پر تھی۔ حکومت پاکستان نے یہ مسائل شبانہ روز محنت سے پیدا کرے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پاکستان آرمی کی بی ٹیم اور کرپٹ سیاستدانوں کی ٹیم اے آر ڈی نے بھی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ لحاظہ وہ حکومت کی نااہلی میں کوئی رکاوٹ اٹکانے سے قطعا گریز کرتے ہوئے مسلسل نان ایشوز کی سیاست میں مشغول ہیں۔ جیسا کہ، عامر چیمہ کی شہادت، شادی بیاہ میں ون ڈش کھانے، سرحد میں حسبہ بل کا نفاذ، لندن میں فوٹو سیشن، وغیرہ وغیرہ۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt; لیکن ہنوز دلی دور است کے مصداق ناکام ترین ملکوں کی فہرست میں پہلی پوزیشن پانے سے پاکستان ابھی  بہت دور ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج رات دس بجے ہماری دکان پر تین مسلح ڈاکوؤں نے دھاوا بول دیا اور ہماری دکان سے سارا کیش صاف کرگئے۔ بیچارے ڈاکو، چونکہ ہم ماشاءاللہ مستقبل میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اسلئیے اپنی دکان پر صرف معمولی کیش رکھتے ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرح ہمارے ڈاکو بھی اپنی نالائقی پر کڑھ رہیں ہونگے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہمیں تو اس رات کا انتظار ہے کہ جب ہم اپنے گھر میں، اندھیرے اور حبس میں، صرف پانی کی ایک بوتل اور مٹھی بھر چاول لئیے، بندوق تھامے باری باری پہرا دے رہے ہونگے۔ لیکن کمبخت صیہونی اور نصرانی سازشیوں کا کیا بھروسہ؟ کیا خبر وہ تب بھی ہمیں اس فہرست میں پہلی پوزیشن دینے سے انکار کردیں؟&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114721548451898152?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114721548451898152/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114721548451898152' title='10 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114721548451898152'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114721548451898152'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/05/blog-post_10.html' title='نمبر ون کی دوڑ'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>10</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114673614978849974</id><published>2006-05-04T14:44:00.000+05:00</published><updated>2006-05-04T14:49:09.806+05:00</updated><title type='text'>پاکستان کی ضروریات</title><content type='html'>کراچی ان دنوں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کررہا ہے۔ دن میں کراچی کی عوام پیٹرول مہنگا ہونے، گیس کی عدم دستیابی، اور ٹریفک کے مسائل کی وجہ سے پیدل سفر کرنے پر مجبور ہے۔ اور رات، فلیٹوں میں رہنے والے لوگ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے سڑکوں پر جاگ کر گزار رہے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کے ای ایس سی کی نئی انتظامیہ بڑی صاف گو اور دیدہ دلیر واقع ہوئی ہے۔ حکومت پاکستان نے ان سے طے پانے والے معاہدے کی صریحا خلاف ورزی کی۔ جس کا نتیجا کراچی کی عوام بھگت رہے ہیں۔ معاہدے کے تحت کے ای ایس سی کو سپلائی کی جانیوالی بجلی میں کئی گنا کمی کردی گئی ہے۔ کے ای ایس سی کے ترجمان کے مطابق کراچی میں بجلی کی ضرورت اکیس سو میگاواٹ ہے۔ جب کہ ان کے پاس صرف گیارہ سو میگاواٹ بجلی کی سپلائی ہے۔ گرچہ بجلی کی سپلائی میں کمی گرمیوں میں متوقع تھی لیکن صورتحال سنگین ہونے کی ذمہ دار واپڈا ہے جس نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر بجلی کی ترسیل میں اچانک کوئی وجہ بتائے بغیر تین سو میگا واٹ کمی کردی۔ کراچی کا ایٹمی بجلی گھر بھی نامعلوم وجوہات کی بناء پر بند پڑا ہے۔ کے ای ایس سی کے ترجمان کے مطابق انہیں اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی کہ سپلائی کی کمی کب تک پوری کردی جائیگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ادھر کراچی کی بپھری ہوئی عوام کے ای ایس سی کے کئی شکایتی مراکز پر پتھراؤ کرچکی ہے۔ کئی جگہوں پر شکایتی عملے کو تشدد کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایک دو علاقوں میں زبردست توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔ جس کے بعد کے ای ایس سی کے عملے کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے اور شکایتی مراکز کے باہر پولیس کی موبائلز تعینات کردی گئی ہیں۔ شہر بھر میں لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور کئی علاقوں میں بارہ بارہ گھنٹے بجلی غائب رہنا معمول ہوگیا ہے۔ میں بھی یہ پوسٹ لکھتے وقت دو تین بار محفوظ کرچکا ہوں کہ بجلی کا کیا بھروسہ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کاروبار کو ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ لوگوں کو پہنچنے والی ذہنی اذیت کا اندازہ لگانا اس سے بھی دشوار۔ اسی شور و غوغا میں کسی شر پسند یہودی رسالے نے پاکستان کو دنیا کی نویں ناکام ترین ریاست قرار دے دیا ہے۔ جو یقینا سراسر پروپگینڈہ ہے۔ پاکستان کے خزانے میں اربوں روپے پڑے ہیں اور ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف پاکستان کی تعریف کررہے ہیں۔ کیا ہوا اگر پاکستان کے لوگ اکیسویں صدی میں بجلی سے محروم ہیں۔ یہ تو کوئی ثبوت نہیں کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے۔ پاکستان کی ضروریات کا یہودی لابی کو کیا ادراک؟ پاکستان کی اصل ضروریات کا ادراک تو جنرل مشرف کو ہے۔ پاکستان کے لئیے بجلی، گیس، پانی، پیٹرول، بنیادی انسانی حقوق انتہائی غیرضروری ہیں۔ ہاں جنرل مشرف کی میلی وردی پاکستان کے لئیے بہت ضروری ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کئی لوگ ہزار بار جرنیل صاحب سے گزارش کرچکے ہیں کہ عالیجاہ آپ اتنے سالوں سے یہ وردی پہنے ہیں۔ پاکستان کے غریب عوام بھی پانی کی تنگی کے باوجود کپڑے بدل لیتے ہیں۔ آپ بھی وردی اتار دیں تاکہ اسے دھویا جاسکے اس پر لگے داغ چھڑائے جاسکیں۔ لیکن جرنیل صاحب کو غالبا دھڑکا ہے کہ فوج کا کوئی دھوبی ان کے خلاف سازش نہ کردے اور نئی دھلی ہوئی وردی کسی اور جرنیل کو نہ پہنادے۔ پاکستان کے جرنیل ہوں یا عوام سب بہت مجبور اور بے کس ہیں۔ لیکن نویں ناکام ترین ریاست۔ یہ تو سراسر بکواس ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114673614978849974?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114673614978849974/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114673614978849974' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114673614978849974'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114673614978849974'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/05/blog-post.html' title='پاکستان کی ضروریات'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114613482745575503</id><published>2006-04-27T15:40:00.000+05:00</published><updated>2006-04-27T15:47:07.473+05:00</updated><title type='text'>روشن و افشاں، نیر و تاباں</title><content type='html'>کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن والوں کو نامعلوم مجھ سے کیا بیر ہے کہ میں جہاں جاتا ہوں وہ وہاں کی بجلی منقطع کردیتے ہیں۔ تین روز پہلے میں دکان جانے سے پہلے گھر پر شام کی چائے پینے کو تیار بیٹھا تھا کہ بجلی چلی گئی۔ اندھیرے اور گرمی میں گرما گرم چائے پی۔ منہ پر پانی کے چھپکے مار کر دکان جانے کو نکل پڑا۔ کراچی میں ٹریفک ایک اہم مسئلہ ہے۔ گرچہ میں دکان پیدل جاتا ہوں مگر گاڑیوں کی قطاروں، تشدد پر مائل ڈرائیوروں اور فٹ پاتھوں پر قابض پتھارے داروں سے بچ نکلنا ایک الگ جنگ ہے۔ دکان پہنچتے پہنچتے پسینوں سے میری ٹی شرٹ بھیگ گئی۔ اوپر سے دکان پر اندھیرا میرا منہ چڑا رہا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پسینوں کی لڑیاں ماتھے سے ہوتی ہوئی میری ناک سے ٹپاٹپ بہہ رہی تھیں اور ساتھ ہی گاہگوں کا رش۔ اس وقت ہماری دکان پر دہی کے لئیے دودھ گرم کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی کڑاہی کا گرم دودھ بھی چولہے پر رکھا ہوتا ہے۔ بجلی نہ ہو تو دکان کسی تنور کی طرح دہکنے لگتی ہے۔ باہر ٹریفک کا چنگھاڑتا شور اور بے چین و بے صبر گاہگ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس سے پہلے کہ صورتحال میری برداشت سے باہر ہوجاتی۔ محکمہ بجلی کے کسی افسر کی غلطی سے دکان کی بجلی بحال ہوگئی۔ کچھ دیر جو ہوا کے جھونکے ملے تو پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگی۔ دکان پر کھڑا ہونا محال ہوگیا۔ میں طبعا تھوڑا نفاست پسند واقع ہوا ہوں۔ عوامی بیت الخلاء استعمال کرنا میری نفیس طبیعیت پر گراں گزرتا ہے مگر جو گھمسان کی جنگ میرے پیٹ میں اٹھ رہی تھی اس کے لئیے مجبورا قریبی مسجد کے بیت الخلاء میں پناہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ دکان بند ہونے تک کوئی چار چھ پھیرے وہاں کے لگائے۔ رات کو دوا لی اور گھر آگیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گھر آکر اے سی کی ٹھنڈی ہواؤں کے پرلطف جھونکوں نے مدہوش کردیا اور میں چین کی نیند سوگیا۔ مگر میرا چین اور آرام کے ای ایس سی کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ انہوں نے علی الصبح آٹھ بجے پھر بجلی بند کردی۔ غصے سے مجبور ہوکر میں نے محکمہ بجلی کے شکایتی نمبر پر فون کیا جہاں شکایت سننے والے کو میری شکایت سے زیادہ دلچسپی اس بات میں تھی کہ میری بلڈنگ کا پلاٹ نمبر کیا ہے۔ جھلا کر میں نے ٹیلیفون بند کردیا اور کے ای ایس سی کے زونل دفتر کے شکایتی مرکز پر فون کیا۔ جہاں ایک صاحب نے نہایت خوش خلقی سے مجھے مطلع کیا کہ کے ای ایس سی کے کئی فیڈر ٹرپ کرگئے ہیں اور وہ بہت مشکل سے صورتحال سنبھال پارہے ہیں۔ میرے استسفار پر کہ بجلی بحال ہونے کی امید کب تک ہے انہوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ کسی قسم کی یقین دہانی کرانے سے قاصر ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوپہر ایک بجے بجلی آئی، مگر ساتھ ہی میرے پیٹ کی مروڑ بھی اپنے عروج پر تھی۔ چکر متلی اور گھبراہٹ کو کسی کل قرار نہ آتا تھا۔ بالآخر شام سات بجے اپنے فیملی ڈاکٹر کے کلینک پر اپنی والدہ کے ہمراہ پہنچا۔ انہوں نے جھٹ مجھے اسٹریچر پر لٹا ایک ڈرپ اور دو انجکشن ٹھونک دئیے۔ اے سی کی ٹھنڈی ہوا اور انجکشن کی غنودگی سے میری آنکھ لگ گئی۔ امی میرے سرہانے بیٹھی رہیں اور میرے ہاتھ سہلاتی رہیں۔ ماں کی ممتا کے لمس سے جو طمانیت ملتی ہے کوئی دوا اس کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ دل کو بڑا قرار آیا لیکن محکمہ بجلی والوں کو کسی مخبر نے اطلاع کردی کہ نعمان فلاں ڈاکٹر کے کلینک میں چین کی نیند سورہا ہے۔ بس پھر کیا تھا انہوں نے فورا وہاں کی بجلی بھی بند کردی۔ مگر میں تھکن سے اتنا چور تھا کہ اب کڑھنے کی بھی ہمت نہ رہی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;رات بارہ بجے گھر پہنچا اور ایک بجے تک دواؤں کے زیر اثر بستر پر گر بے ہوش گیا۔ اگلے دن دوپہر ایک بجے جاگا۔ اب گھر میں چھپا بیٹھا ہوں ڈر رہا ہوں کہ کہیں کوئی میرا بلاگ پڑھ کر کے ای ایس سی کو میرے جائے وقوع کی اطلاع نہ کردے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114613482745575503?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114613482745575503/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114613482745575503' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114613482745575503'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114613482745575503'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/04/blog-post_27.html' title='روشن و افشاں، نیر و تاباں'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114596903089090419</id><published>2006-04-25T17:35:00.000+05:00</published><updated>2006-04-25T17:43:50.913+05:00</updated><title type='text'>قابل اعتراض</title><content type='html'>&lt;a href="http://noumaan.blogspot.com/2006/04/blog-post_114577537403084345.html"&gt;اعتراضات&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب تک میں دودھ کی دکان اور اپنے نوکر کے بارے میں لکھتا تھا تب تک میرا بلاگ عمدہ لٹریچر کے طور پر داد و تحسین پاتا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اجمل انکل نے ان الفاظ میں تعریف کرکے میری حوصلہ افزائی کی جس کے لئیے میں تہہ دل سے ان کا مشکور ہوں ورنہ کہاں میں اور کہاں لٹریچر۔ ہاں البتہ میری دیگر پوسٹس میرے خلل دماغ کی طرف اشارہ کرتی معلوم ہوتی ہیں۔ اب حقائق کو کس طرح لکھا جانا چاہئیے یہ کام تو دانشوروں کا ہے نہ کہ دودھ فروشوں کا۔ تاہم حقائق تلخ اور عموما ادبی معیار سے پست ہوا کرتے ہیں۔ انہیں لکھتے ہوئے الفاظ کے استعمال اور ظرافت کے پھول کھلانا تو بہت ہی مہارت کا کام ہے جو یقینا میرے پاس نہیں۔ اگر ہوتی تو شاید میں کسی روزنامے کا مدیر یا کالم نویس ہوتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرا پاکستان کے افضل صاحب کو میرے قول فعل مشکوک معلوم ہوتے ہیں غالبا افضل صاحب مجھے ایک ایسے ترازو میں تولنے کی کوشش کررہے ہیں جس میں وہ اپنے ضمیر کو تولتے ہیں۔ جہاں غیرت اور حمیت، صحیح اور غلط پر بھاری پڑتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یاسر صاحب کو میری پوسٹ میں سندھی پنجابی تعصب نظر آتا ہے جو کہ مضحکہ خیز ہے۔ میں صرف حقائق کی طرف اشارہ کررہا تھا۔ حقائق یہ بھی ہیں کہ سندھ میں بھی خواتین کا استحصال کم و بیش اسی مقدار میں موجود ہے۔ اس بابت اخبارات بھرے پڑے ہیں۔ اسلام میری پوسٹس کا موضوع عموما نہیں ہوتا اسلئیے میں اسلام میں خواتین کے حقوق پر گفتگو نہیں کرونگا۔ تاہم خواتین کے استحصال کا اسلام سے اتنا تعلق نہیں جتنا ہمارے معاشرے سے ہے۔ لڑکیوں کو آزادی بالکل دی جائے اور اگر کوئی لڑکی تیراکی کا لباس پہن کر پاکستانی مردوں کی آنکھوں کے سامنے آنے کی ہمت کرتی ہے تو اسے اس کی پوری آزادی ہونی چاہئیے۔ اگر پاکستانی مرد کسی عورت کو کم لباس میں دیکھ کر خود پر قابو نہیں رکھ سکتے اور اس کا ریب کرنے پر مائل ہوتے ہیں تو اس کی سزا مردوں ہی کو ملنی چاہئیے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس ملک کے مرد بکنی پہنی ہوئی عورت کو تو جنسی طور پر ہیجان خیز سمجھتے ہیں لیکن یہی مرد اپنے گھروں میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے چڈی پہنے ہوئے چست بدن پہلوانوں کو اپنے گھر کی خواتین کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے میں اتنا تکلف محسوس نہیں کرتے۔ یا پاکستانی چینلوں پر چست جینز اور اوپری بدن کے فگر کی نمائش کرتے مرد انہیں قابل اعتراض معلوم نہیں ہوتے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114596903089090419?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114596903089090419/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114596903089090419' title='9 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114596903089090419'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114596903089090419'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/04/blog-post_25.html' title='قابل اعتراض'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>9</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114577537403084345</id><published>2006-04-23T11:38:00.000+05:00</published><updated>2006-04-23T11:57:34.683+05:00</updated><title type='text'>ظلم جاری رہتا ہے</title><content type='html'>&lt;blockquote&gt;جمعہ 21 اپريل کو سندھ ہائی کورٹ کے حيدرآباد سرکٹ بنچ نے ازخود مواخذہ کرتے ہوئے ارونا اور اسکے خاوند معظّم کے خلاف سول جج حيدرآباد کا ديا ہوا پوليس ريمانڈ معطل کرديا ۔ ہائی کورٹ کا حکم بذريعہ ٹيليفون اور فيکس فيصلہ کے ايک گھينٹے کے اندر تمام متعلقہ آفيسران اور محکموں کو پہنچا ديا گيا ۔ مزيد جوڈيشيل مجسٹريٹ اوکاڑہ نے ارونا اور معظّم کے خلاف تمام کيس ختم کر کے اُن کی رہائی کا حُکم دے ديا ۔ اور وہ دونوں پوليس کی حفاظت ميں حيدرآباد کيلئے روانہ ہوگئے ۔&lt;br /&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;br /&gt;عدالتی کرپشن۔ پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن حقائق کی روشنی میں ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا وہ حقائق اتنے سادہ ہیں کہ سول جج حیدرآباد کو صرف ارونا کے بیان، اس کے شوہر کے بیان، نکاح نامے اور گواہان کے بیانات کی ضرورت تھی۔ لیکن چونکہ پولیس نے حدود کے تحت رپورٹ درج کی تھی اسلئیے ملزمان کا فوری ریمانڈ سول جج کی مجبوری تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;[...]ارونا نے جوڈيشيل مجسٹريٹ اوکاڑہ کو بتايا کہ دو صوبائی وزيروں نے اُس کے خلاف اُسکے والدين کی اعانت کی ۔[...]&lt;br /&gt;مزید کرپشن&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;[...]ايک ريٹائرڈ جج عطا محمد کی چوبيس سالہ بيٹی۔[...] ثبوت کہ قانونی واقفیت رکھنے والے شخص نے جان بوجھ کر ایک قانون کے سقم کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;[...]جب اُس کی آنکھ کھُلی تو وہ سکھر ميں تھی ۔ پھر اُسے ساہيوال ليجايا گيا جہاں اُسے اپنے خاوند معظم سے عليحدگی پر مجبور کيا گيا اور تين دن تک مارا پيٹا گيا مگر وہ نہ مانی ۔ پھر اُسے اسلام آباد لے گئے جہاں چار ماہ تک اُس پر يہی دباء ڈالا جاتا رہا ۔ [...] خواتین پر ہونے والا تشدد جس کا ذکر میری پچھلی پوسٹ میں تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یقینا کچھ لوگ خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور یوں مطلب براری کی کوشش کرتے ہیں اور چند اصحاب اس میں ایک آدھ آیت کا بھی تڑکا لگادیتے ہیں گویا ان کی خبروں کے قرآنی ثبوت ہوں۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ مظالم ہمارے معاشرے میں تیزی سے رواج پارہے ہیں۔ کچھ لوگ آنکھیں بند کرلینے کو ترجیح دیتے ہیں کچھ آواز اٹھانے کو۔ ارونا کی کہانی صرف ارونا کی کہانی نہیں پاکستان میں لاکھوں عورتیں ہر سال جبر، طلم، اور تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ ارونا کے حقائق ہماری معاشرتی منافقت سے بھی پردہ اٹھاتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پچھلی پوسٹ کے تبصرہ جات میں ایک صاحب مجھ سے پوچھتے ہیں۔ "کيا ہم اور آپ ايک منٹ کيلۓ بھي يہ گوارہ کرسکيں گے کہ ہماري ماں يا بہن اس طرح گھر سے بھاگ جاۓ يا پھر ہماري بيوي کسي سے آنکھ مٹکا لڑا کر ہميں چھوڑ کر چلي جاۓ۔"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں آپ کے بارے میں تو نہیں کہہ سکتا لیکن میرے ساتھ یہ صورتحال اسلئیے پیش نہیں آسکتی کیونکہ ہمارے یہاں شادی وغیرہ کے سلسلے میں لڑکی کی رائے اور پسند کو فوقیت نہیں دی جاتی بلکہ اسے حتمی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر میری بہن یا ماں گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو میں ان کی بہادری پر فخر کروں گا۔ اگر میری بیوی کسی غیر مرد سے آنکھ مٹکا لڑا کر مجھے چھوڑنا چاہے گی تو میں اسے بخوشی طلاق دے دونگا۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114577537403084345?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114577537403084345/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114577537403084345' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114577537403084345'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114577537403084345'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/04/blog-post_114577537403084345.html' title='ظلم جاری رہتا ہے'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114577338372447822</id><published>2006-04-23T11:18:00.000+05:00</published><updated>2006-04-23T11:23:03.736+05:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/nepal-democracy.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/nepal-democracy.jpg" alt="نیپال کی تحریک" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/story/2006/04/060422_nepal_movement.shtml"&gt;نیپال آزادی کی راہ پر&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114577338372447822?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114577338372447822/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114577338372447822' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114577338372447822'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114577338372447822'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/04/blog-post_23.html' title=''/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114561289825181475</id><published>2006-04-21T14:31:00.000+05:00</published><updated>2006-04-21T14:48:18.270+05:00</updated><title type='text'>ایک ظلم اور</title><content type='html'>پسند کی شادی کرنے والی ایک لڑکی ارونا کو پنجاب پولیس حیدرآباد سے اپنی تحویل میں لے کر پنجاب لے گئی جہاں اسے اس کے والدین کے حوالے کردیا جائے گا۔ &lt;a href="http://www.geo.tv/geonews/details.asp?id=115599"&gt;جیو ٹی وی پر ارونا&lt;/a&gt; کو ہاتھ جوڑ کر التجائیں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں وہ میڈیا سے فریاد کررہی ہے کہ وہ اس کی مدد کریں۔ ارونا کا کہنا ہے کہ اس نے معظم سے چھ مہینے پہلے شادی کرلی تھی اور اس کے والدین نے ان میاں بیوی کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا ہے۔ ارونا نے فریاد کی کہ اس کی مدد کی جائے کیونکہ اس کے والدین اسے قتل کردینا چاہتے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پنجاب پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ارونا کو جلد از جلد عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ وفاقی حکومت نے بھی سندھ اور پنجاب حکومت سے واقعے کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ارونا یا کوئی بھی دوسری عاقل اور بالغ لڑکی پاکستان میں اپنی پسند سے شادی نہیں کرسکتی؟ کیا لڑکیاں کوئی ریوڑ ہیں جنہیں ان کے مالکین سے کوئی جدا نہیں کرسکتا اور مالکین کا جس کھونٹے سے جی چاہے انہیں اسی کھونٹے سے باندھا جائے؟ ارونا ایک عاقل اور بالغ لڑکی ہے اسے اپنی مرضی سے شادی کرنے کا اتنا ہی اختیار ہونا چاہئیے جتنا کسی لڑکے کو ہے۔ ارونا کی پولیس حراست نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ خواتین کے ساتھ برتے جانیوالے امتیازی سلوک کی ایک اور تازہ مثال ہے۔ ایسے ہی امتیازی سلوک اور قوانین کی وجہ سے پاکستان بھر کی جیلوں میں دو سو چھیالیس خواتین قید ہیں۔ بی بی سی اردو پر شائع شدہ عورت فاؤنڈیشن کی &lt;a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/04/060420_women_in_jail_ra.shtml"&gt;رپورٹ کے مطابق&lt;/a&gt; ان خواتین کی عمریں تیرہ سے ستر سال تک ہیں۔ تیرہ اور ستر سال بذات خود ایک قابل غور اشاریہ ہے جو امتیازی اور غیرمساوی قوانین کا شکار ہونے والی خواتین کی درد بھری کہانی سنا رہا ہے۔ ان میں سے اکثر خواتین قید سے پہلے کھیتی باڑی، فیکٹری یا بیوٹی پارلرز میں ملازمت کرتی تھیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;قیدی خواتین میں سے بعض شوہر کی اجازت کے بغیر میکے چلی گئیں تھی اور کچھ نے مارپیٹ سے تنگ آکر شوہر سے خلع کا تقاضہ کیا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ خواتین نے زبردستی جنسی تعلقات سے اور کچھ نے بیروزگار شوہر کے کہنے پر جسم فروشی سے انکار کیا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور کچھ نے زبردستی کی شادی سے انکارکیا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;رپورٹ کے مطابق کچھ خواتین پر ذاتی دشمنی اور زمینی تنازع کی وجہ سے بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پندرہ خواتین زنا کے بعد حاملہ ہوگئیں جبکہ ایک عورت نے اسقاط حمل کروایا۔&lt;br /&gt;اکسٹھ بچے ماؤں کے ساتھ رہتے ہیں جن کی عمر ایک ماہ سے بیس سال تک ہے۔&lt;br /&gt;حدود آرڈیننس کے تحت قید کاٹنے والی خواتین کی اکثریت نا خواندہ ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;زیادہ تر قیدی خواتین کا تعلق پنجاب سے ہے۔ ریپ، گھریلو تشدد، کارو کاری، پاکستان میں خواتین کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس سے ہم اب کلچر، ثقافت یا روایات کے نام پر آنکھیں نہیں چرا سکتے۔ پاکستان میں عورت کو پیدا ہوتے ہی گھر میں بھائیوں کے مقابلے میں امتیازی سلوک کا نشانہ خود اس کے ماں باپ بناتے ہیں جس سے اس کے اندر اپنے حقوق کا ادراک ختم ہوجاتا ہے اور وہ اپنے خلاف برتے جانے والے سلوک کو مذہب، روایات اور ثقافت کے نام پر قبول کرنے لگتی ہے۔ لڑکیوں میں شرح خواندگی بے حد کم ہے اور دس سال سے کم عمر اسی فیصد لڑکیاں کم خوراکی کا شکار ہوتی ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پاکستان کے مستقبل سے کس طرح کوئی امید رکھی جاسکتی ہے جب یہاں ملک کی پچاس فیصد آبادی خود اپنوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114561289825181475?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114561289825181475/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114561289825181475' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114561289825181475'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114561289825181475'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/04/blog-post_21.html' title='ایک ظلم اور'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114548276648511626</id><published>2006-04-20T02:39:00.000+05:00</published><updated>2006-04-20T02:39:30.273+05:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>ابنٹوڈیسکٹاپ سے بلاگر &lt;br /&gt;&lt;p&gt;یہ پوسٹ میں &lt;a href="http://www.ubuntu.com"&gt;ابنٹو لنکس&lt;/a&gt; سے بذریعہ جینوم بلاگ اینٹری پوسٹر بھیج رہا ہوؒں۔ آج کل میرا سب سے زیادہ پسندیدہ مشغلہ ابنٹو اور لنکس ہی ہیں۔ دیکھیں &lt;a href="http://my-ubuntu-blog.blogspot.com"&gt;میرا ابنٹو بلاگ&lt;/a&gt;۔ &lt;/p&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114548276648511626?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114548276648511626/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114548276648511626' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114548276648511626'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114548276648511626'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/04/blog-post_20.html' title=''/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114507989977209743</id><published>2006-04-15T10:42:00.000+05:00</published><updated>2006-04-15T10:44:59.786+05:00</updated><title type='text'>دہشت گردوں کی ٹولی سنی تحریک</title><content type='html'>نشتر پارک بم دھماکہ ایک اور خونچکاں سانحہ۔ لیکن ایک اور المناک داستان دھماکوں کے بعد شروع ہوتی ہے۔ شہر بھر کے کاروباری اور تجارتی ادارے تین روز سے بند ہیں۔ لوگ گھروں میں محصور ہیں کیونکہ ٹرانسپورٹ نہیں چل رہی۔ ٹرانسپورٹ اسلئیے نہیں چل رہی کیونکہ پٹرول پمپ بند ہیں۔ ہماری دکان بند ہوئے آج لگاتار پانچواں دن ہے۔ صبح تھوڑی دیر کو دکان کھولتے ہیں تو موٹرسائیکلوں پر سوار سنی تحریک کے دہشتگرد دکان بند کرانے آجاتے ہیں۔ ہماری دکان سے کچھ دور ایک دکاندار کے دو ملازمیں کو دکان بند نہ کرنے پر فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مولانا عباس قادری، مولانا افتخار بھٹی وغیرہ حقیقی کے لڑکوں کے بل پر ہمارے علاقے میں بھتہ خوری کرتے رہے ہیں اور میرے لئے یہ امر باعث حیرت ہے کہ کس طرح بدقماش لوگوں کو ہمارے یہاں شہید بنادیا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل شہید تو وہ لوگ ہیں جن کے نام بھی کسی اخبار میں نہیں چھپے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;سنی تحریک وہی جماعت ہے جو مساجد پر قبضے کے لئیے خونریز حملے کرتی ہے جیسا کہ کل ہی شاہ فیصل کالونی میں انہوں نے اپنی نو دریافت شدہ دہشت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں ایک مسجد پر قبضہ کیا ہے اور مسجد کے باہر موجود بیکری کو نذرآتش کردیا۔ ان کے کارکنان بدنام زمانہ اٹھائی گیرے ہیں۔ جو جنگلیوں جیسے داڑھیاں بڑھا کر اور سندھی ٹوپیاں پہن کر قاری فلاں فلاں قادری بن جاتے ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ صحیح ہے کہ بم دھماکوں کے ملزمان گرفتار ہونے چاہئیں لیکن ساتھ ہی سنی تحریک کے دہشت گردوں کی بھی سرکوبی ہونی چاہئیے جنہوں نے شہر کو اتنے دن سے دہشت زدہ کررکھا ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114507989977209743?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114507989977209743/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114507989977209743' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114507989977209743'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114507989977209743'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/04/blog-post.html' title='دہشت گردوں کی ٹولی سنی تحریک'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114380604296163409</id><published>2006-03-31T16:49:00.000+05:00</published><updated>2006-03-31T16:54:02.976+05:00</updated><title type='text'>جہالت کی سمت ایک اور چھلانگ</title><content type='html'>آج صبح سویرے حکومت پاکستان نے پاکستانی عوام سے دنیا کا سب سے بڑا آزاد انسائیکلوپیڈیا، &lt;a href="http://en.wikipedia.org"&gt;ویکیپیڈیا&lt;/a&gt; بھی چھین لیا ہے۔ ویکیپیڈیا کے بعد اب گوگل کی باری ہے۔ اس کے بعد جیسے میں نے &lt;a href="http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_12.html"&gt;پہلے لکھا تھا&lt;/a&gt; ہم ایسے سرچ انجن اور انٹرنیٹ ذرائع استعمال کررہے ہونگے جہاں ہر تلاش کے نتیجے میں دس میں سے نو لنک آیات قرآنی کے اور ایک حکومت پاکستان کا ہوگا جس میں ہمیں بتایا جائے گا کہ پاکستان کس طرح رات دگنی اور دن چوگنی ترقی کررہا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پچھلے چھ مہینے سے پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ انتہائی مایوس کن ہے اور میں ذاتی طور پر بہت دلبرداشتہ ہوں۔ پاکستان اب انسانوں کے رہنے کے لائق ملک نہیں رہا۔ میں دیکھ رہا ہوں جیسے ہی کوئی مناسب قانونی موقع ملا میں پاکستان چھوڑ کر جانے کا سوچ رہا ہوں۔ کوئی بھی ملک کوئی بھی جگہ جہاں اس جہالت، نفرت، گھٹن اور قید سے چھٹکارا مل سکے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانیوں کا وقار پوری دنیا میں اسقدر مجروح ہوچکا ہے کہ پاکستانیوں کے لئے ترک وطن کرنا بھی بے حد مشکل ہوگیا ہے۔  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خدا پاکستانی عوام کی حفاظت کرے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114380604296163409?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114380604296163409/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114380604296163409' title='9 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114380604296163409'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114380604296163409'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_31.html' title='جہالت کی سمت ایک اور چھلانگ'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>9</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114332580854592604</id><published>2006-03-26T03:10:00.000+05:00</published><updated>2006-03-27T10:42:04.836+05:00</updated><title type='text'>ساکنان شہر قائد کے عالمی مشاعرے کی روداد</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/mushaira.0.jpg"&gt;&lt;img style="display:block; margin:0px auto 10px; text-align:center;cursor:pointer; cursor:hand;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/mushaira.0.jpg" border="0" alt="سامعین مشاعرہ" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کراچی کے لوگ ادب اور علم دوست ہیں۔ کوچہ ثقافت، کتب میلے، مشاعرے ہمارے شہر کی ایک اور خوبی ہیں۔ اگر آپ انٹرنیٹ پر لفظ مشاعرہ شہروں کے نام کے ساتھ تلاش کریں تو آپ کو تقریبا تمام خبریں کراچی ہی کی نظر آئیں گی۔ مزاحیہ، نعتیہ، مرثیہ خوانی، اور روایتی مشاعرے شہر میں سال بھر منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ کوچہ ثقافت میں ہر اتوار ایک مشاعرے کا اہتمام ہوتا ہے۔ لیکن ان سب مشاعروں میں ساکنان شہر قائد کے عالمی مشاعرے کی محفل سب سے بڑی اور ممتاز ہے جس میں ہر سال دنیا بھر سے شعرائے کرام تشریف لاتے ہیں اور اپنا کلام ہزاروں کے مجمعے کے آگے پیش کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تئیس مارچ کی شب اس سلسلے کا سولہواں سالانہ مشاعرہ تھا جس میں کم و بیش پانچ سے دس ہزار سامعین نے شرکت کی۔ جن میں ایک بڑی تعداد طلباء و طالبات، گھریلو خواتین اور بچوں کی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نیشنل اسٹیڈیم میں، کراچی کی روایتی ٹھنڈی ہواؤں اور برقی قمقموں کے درمیان، فرشی نشستوں پر اہل دل دس بجے ہی اچھی اچھی نشستیں گھیر بیٹھے تھے۔ مشاعرہ شروع ہوتے ہوتے رات کے گیارہ بج گئے۔ مگر پھر جو محفل جمی ہے تو صبح چھ بجے تک داد و تحسین کی صداؤں سے فضا گونجتی رہی۔ مشاعرہ کمیٹی کے منتظم اعلی اظہر عباس ہاشمی نے ہر سال کی طرح پچھلے سال سے بہتر انتظامات کئیے تھے۔ تمام رات بہترین نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا گیا۔ مشاعرے کی نظامت رضوان صدیقی نے کی، کرسی صدارت گورنر سندھ عشرت العباد نے سنبھالی۔ جی نہیں اس میں اقتدار کا تعلق نہیں، شہر قائد کی خوش نصیبی ہے کہ اسے ہمیشہ علم اور ادب دوست گورنر میسر آئے جیسے گورنر معین الدین حیدر، جناب حکیم محمد سعید، اور موجودہ گورنر عشرت العباد۔ اسلئیے گورنر سندھ کا صدارت کرنا بھی روایت ہوچلا ہے۔ دیگر مہمانان میں وزیر داخلہ سندھ رؤف صدیقی، وفاقی وزیر صفوان اللہ، ناظم اعلی مصطفی کمال اور آئی جی سندھ شامل تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مشاعرے میں جمیل الدین عالی، محترمہ کشور ناہید، اور جون ایلیا کی کمی محسوس کی گئی۔ جمیل الدین عالی صاحب علیل ہونے کے سبب اور محترمہ کشور ناہید ذاتی مصروفیات کی بنا پر شرکت نہ کرسکیں۔ جون ایلیا ہم سے جدا ہوچکے ہیں۔ ان کی کمی محسوس کرنے کی وجہ نوجوان شاعر قیصر وجدی بنے، جنہوں نے جون ایلیا کے لہجے میں اپنا کلام پیش کیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مشاعرے میں پاکستان سے مشہور شعرائے کرام، راغب مراد آبادی، پروفیسر عنایت علی خان، انجم شادانی، شیخ الجامعہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، ذکیہ غزل، ثروت ظفر، اور عباس تابش کے کلام کو زیادہ سراہا گیا۔ گورنر سندھ اور وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے بھی چند اشعار سنائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بھارت سے آنے والے شعرائے کرام نے مشاعرہ لوٹ لیا۔ جناب وسیم بریلوی نے اپنا کلام پیش کرنے سے پہلے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں آج باشعور سامعین کے سامنے اپنا کلام پیش کرنے جارہا ہوں۔ بھارت سے آنے والے دیگر شعراء میں طاہر فراز، شیاما سنگھ صبا، مدن موہن دانش اور مظفر رزمی شامل تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بھارت کے علاوہ آسٹریلیا، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، متحدہ عرب امارت اور کویت سے آئے ہوئے شعرائے کرام نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ تاہم جو بات سب سے زیادہ محسوس کی گئی وہ یہ تھی کہ سنایا گیا زیادہ تر کلام پچھلے مشاعروں کی نسبت بہت ہلکا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; تصویر میٹروبلاگنگ پر آفرین کی اس &lt;a href="karachi.metblogs.com/archives/2006/03/our_crowds_can.phtml"&gt;پوسٹ&lt;/a&gt; سے لی گئی ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114332580854592604?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114332580854592604/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114332580854592604' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114332580854592604'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114332580854592604'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_26.html' title='ساکنان شہر قائد کے عالمی مشاعرے کی روداد'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114272017408422238</id><published>2006-03-19T02:50:00.000+05:00</published><updated>2006-03-19T03:26:52.346+05:00</updated><title type='text'>پاکستان فوجی قبضے میں</title><content type='html'>قاضی حسین احمد نے حال ہی میں ایک &lt;a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/03/060318_osama_benazir_qazi_ra.shtml"&gt;انٹرویو میں یہ تسلیم&lt;/a&gt; کیا ہے کہ جماعت اسلامی کے اسامہ بن لادن سے روابط رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن نے جماعت اسلامی کے لاہور میں قائم ہیڈکوارٹر المنصورہ کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ القاعدہ کے چیف اسامہ بن لادن نواز شریف کے زبردست حامی تھے اور انہوں نے نواز شریف کو جتوانے کے لئے ارکان پارلیمینٹ کو خریدنے کے لئیے رقوم فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی تھی۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوگئیں ایک تو یہ کہ جماعت اسلامی اگر خود دہشت گرد نہیں تو کم از کم دہشت گردوں کے ساتھ ہمدردی ضرور رکھتی ہے، دوسری یہ کہ جماعت اسلامی ارکان کی خرید و فروخت کے بارے میں مذاکرات بھی کرتی رہی ہے۔ جماعت اسلامی کو بخوبی پتہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت اتنا سیاسی شعور نہیں رکھتی کہ وہ صحیح اور غلط میں تمیز کرسکے، لہذا قاضی کو ان کا کوئی ڈر نہیں رہ گئی حکومت یا امریکا، تو جب سیاں ہوئے کوتوال تو ڈر کاہے کا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ساتھ ہی ایک اور &lt;a href="http://209.41.165.188/urdu/details.asp?nid=101415"&gt;معمولی خبر&lt;/a&gt; یہ بھی ہے کہ پاسبان (جماعت اسلامی کی ایک ذیلی شاخ) کل ایک عاشق رسول کا یوم شہادت منارہی ہے۔ عبدالقیوم نامی اس شخص نے ایک ہندو کو رسول کی شان میں گستاخی کرنے پر قتل کردیا تھا۔ اس سلسلے میں کراچی شہر میں پرچے بانٹے گئے ہیں اور لوگوں سے ایک جلوس میں شرکت کی استدعا کی گئی ہے جہاں عاشق رسول کی اس عظیم خدمت کے سلسلے میں مقررین تقاریر کریں گے اور قوم کے نوجوانوں کو اس قسم کی مزید حرکتوں پر اکسائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ عبدالقیوم والا واقعہ انیس سو پینتیس میں پیش آیا تھا اور پاسبان نے پہلے کبھی نہ اس شخص کا یوم شہادت منایا نہ یوم ولادت۔ پھر اچانک یہ اشتہار بازی کیوں؟ ملاحظہ فرمائیے جماعت اسلامی اور انتہاپسند مذہبی جماعتوں کے ترجمان اخبار سے &lt;a href="http://ummat.com.pk/Colourpage_report/March2006/16-march/main-story.html"&gt;یہ مضمون&lt;/a&gt; جس میں عبدالقیوم کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملائے گئے ہیں۔ کیوں؟ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ کہیں گے کہ نعمان پاگل ہوگیا ہے، الٹی سیدھی ہانک رہا ہے۔ لیجئیے میں وضاحت کئے دیتے ہوں۔ باقی آپ لوگ خود سمجھدار ہیں جو کڑیاں رہ جائیں وہ آپ جوڑ لیجئے گا۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں اور اگر نہیں جانتے تو میں بتائے دیتا ہوں کہ جماعت اسلامی پاکستانی فوج کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ اس کا کام ملک میں فوجی اقتدار اور اثر و رسوخ کو مضبوط کرنا ہے۔ بش کی آمد سے پہلے امریکی افواج نے خود پیش قدمی کرکے پاکستان کی حدود میں بمباری کی اور القاعدہ کے رہنماؤں کو مارنے کی کوشش کی۔ یہ سراسر ان کا اپنے اتحادی پاکستانی فوج پر کھلا عدم اعتماد کا مظاہرہ تھا جس سے افواج پاکستان کے اعلی حلقوں میں سخت بے چینی پھیلی۔ نتیجہ: جماعت اسلامی نے بڑے بڑے جلوس کرے۔&lt;br /&gt; &lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/general-musharraf.jpg"&gt;&lt;img style="float:left; margin:0 10px 10px 0;cursor:pointer; cursor:hand;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/general-musharraf.jpg" border="0" alt="تصویر- جنرل مشرف" /&gt;&lt;/a&gt;امریکی صدر بش کی آمد سے پہلے افغانستان سے ایسے &lt;a href="http://usa.mediamonitors.net/content/view/full/27087"&gt;اشارے&lt;/a&gt; مل رہے تھے کہ افغانی پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام لگارہے ہیں۔ حامد کرزئی نے مبینہ طور پر کچھ ثبوت بھی بین الاقوامی میڈیا کو فراہم کئے۔ یہ بات بھی پاکستان کے علم میں تھی کی صدر بش افغانستان کا اچانک دورہ کریں گے اور دورہ بھارت کے دوران بھی پاکستان کی انتہاپسندی کے خلاف کارکردگی پر بھارت کی جانب سے شکایات سنیں گے۔ لہذا ناموس رسالت کے نام پر ایک ریلی منعقد کی گئی اور اس میں توڑ پھوڑ کرواکر بین الاقوامی نیوز ایجنسیوں سے فوٹو کھنچوائے گئے۔ واضح رہے کہ لاہور اور پشاور میں ہونے والے دونوں ہنگاموں کے پیچھے جماعت اسلامی کی کال شامل تھی اور یہ بھی واضح رہے کہ تمام ملکی اور غیرملکی نیوز ایجنسیوں نے یہ رپورٹ دی ہے کہ ان ہنگامہ آرائیوں کو روکنے کی پولیس نے کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کی۔ ڈرامے میں مزید رنگ بھرنے کے لئے لاہور میں دوبارہ احتجاجی ریلی کی گئی جس میں فوجی حکومت نے اپنی روشن خیالی ظاہر کرتے ہوئے تشدد کے ذریعے احتجاج کو روکا۔ یعنی بین الاقوامی میڈیا کو دو تصاویر پیش کی گئ ایک انتہاپسند پاکستان کی اور دوسری روشن خیال فوجی حکومت کی۔ مغرب کو ایک بار پھر ان دو میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس ڈر کے مارے کہ کہیں مغرب نواز شریف کی طرف جھکاؤ نہ پیدا کرلے قاضی صاحب کے بیان کے ذریعے نواز شریف کو بھی انتہاپسندوں میں گھسیٹ لیا گیا۔ نواز شریف کے دور میں افغانستان میں طالبان کو جس طرح مضبوط کیا گیا تھا اس سے بھی مغرب میں ان کا ریکارڈ خراب ہے۔ دوسرا یہ کہ سعودی حکومت کے نواز فیملی سے تعلقات بھی انہیں ایک آئیڈیل چوائس نہیں بناتے۔  محترمہ بینظیر پر یہ الزام اس لئے نہیں لگ سکتا کیونکہ مغرب کو بخوبی اندازہ ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;صدر بش پاکستان آئے اور پتہ نہیں انہوں نے کیا کہا سنا۔ مگر اس کے بعد سے جنرل مشرف کا رویہ نہایت جارحانہ ہوگیا ہے اور انہوں نے بین الاقوامی میڈیا میں اپنی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف کارکردگی پر بڑی بڑی باتیں کی۔ اس کے باوجود مغربی حلقوں سے پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مزید پیش رفت کرے۔ اس دباؤ کے باوجود وزیرستان میں مقامی طالبان کی پرتشدد کاروائیاں جاری ہیں اور فوجی آپریشن کے باوجود انہوں نے وہاں اپنے &lt;a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/03/060318_pakistani_taliban_ra.shtml"&gt;دفتر کے قیام کا اعلان&lt;/a&gt; بھی کیا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بے فکر رہیں پاکستان کی طالبانائزیشن نہیں ہورہی بلکہ مغرب کو صرف یہ دکھایا جارہا ہے کہ اگر افغانستان میں ہماری مداخلت برداشت نہ کی گئی، اگر ہم پر جمہوریت کے حوالے سے دباؤ بڑھایا گیا یا اگر ہمیں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری پر مجبور کیا گیا تو ہم اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرسکتے ہیں۔ صدر بش کہہ کر گئے تھے کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے کہ جہاں ایک آدمی عدالت سے استدعا کرتا ہے کہ وہ پاکستانیوں کی انٹرنیٹ پر توہین آمیز مواد کی پاکستانیوں تک رسائی روکے اور پاکستانیوں کو لاکھوں ویب صفحات پڑھنے سے محروم کردیا جاتا ہے۔ یہ کیسی روشن خیالی ہے کہ اگلی سنوائی میں وہی فریق عدالت کو بتاتا ہے کہ مذکورہ بلاکنگ کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور توہین آمیز خاکے ابھی بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ایک آزاد ملک کی نام نہاد آزاد عدالت فریقین کو بنیادی انسانی حقوق کے منافی مطالبات کرنے پر سرزنش نہیں کرتی۔ یہ کیسا آزاد ملک ہے جہاں آزاد تحقیقاتی احتساب بیورو شوگر مل مالکان کی بلیک میلنگ سے ڈر کر تحقیقات بند کردیتا ہے؟ یہ سب کچھ روشن خیالی اور جمہوریت کی سمت گامزن حکومت کی ناک کے نیچے ہورہا ہے اور دھڑلے سے ہورہا ہے۔ شوگر مل مالکان نیب کو یہ دھمکی اخبارات میں دیتے ہیں یعنی قاضی صاحب کی طرح وہ بھی نڈر اور دلیر ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مغرب اور امریکہ کو دھوکا دیا جارہا ہے اور پاکستان کی عوام؟؟ عوام بے چاری تعلیم سے محروم ہے انہیں نہ اپنے حقوق کا ادراک ہے نہ سمجھ۔ ہر طرف سے اسلام اسلام اسلام کی یلغار ہورہی ہے اور بے چاری عوام بے بس تماشائی بنی اپنے ملک کی ناموس لٹتے دیکھ رہی ہے۔ جتنے مذہبی اجتماع اس ملک میں ہوتے ہیں شاید ہی دنیا میں کہیں ہوتے ہوں۔ مسجدیں، مدرسے، خانقاہیں، تبلیغی جماعتیں، جہادی تنظیمیں، ملاازم جس طرح اس معاشرے میں اپنی جڑیں بنا چکے ہیں اسے اکھاڑنے میں اب تک مغرب کا نہ کوئی مفاد تھا نہ دلچسپی۔ پاکستانی عوام کو جہالت کے سبب علم ہی نہیں کہ کیا صحیح ہے کیا غلط۔ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ کس طرح وہ اپنی آزادیاں ہر بڑھتے دن کے ساتھ کھو رہے ہیں۔ انہیں یہ شعور ہی نہیں کہ اسلام کے نام پر ان کے سر پر فوجی اقتدار بٹھایا جارہا ہے۔ انہیں علم ہی نہیں کہ وہ ایک ایسے اندھے کنوئیں میں دھکیلے جاچکے ہیں جہاں سے نکلنے کے لئے اب سالوں درکار ہونگے وہ بھی تب جب عوام کو احساس ہوگا کہ وہ کنوئیں میں دھکیلے جاچکے ہیں۔ مگر عوام کو یہ احساس ہونے کون دیگا؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;قابل غور مطالعہ: &lt;a href="http://usa.mediamonitors.net/content/view/full/28284"&gt;پاکستان فوجی قبضے میں&lt;/a&gt; (انگریزی مضمون) ۔ &lt;br /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114272017408422238?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114272017408422238/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114272017408422238' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114272017408422238'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114272017408422238'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_19.html' title='پاکستان فوجی قبضے میں'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114257485401705651</id><published>2006-03-17T10:51:00.000+05:00</published><updated>2006-03-17T10:56:34.880+05:00</updated><title type='text'>تازہ ترین</title><content type='html'>&lt;a href="http://noumaan.podomatic.com/enclosure/2006-02-16T00_48_57-08_00.mp3"&gt;عبداللہ کے گاؤں کا احوال۔&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114257485401705651?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114257485401705651/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114257485401705651' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114257485401705651'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114257485401705651'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_17.html' title='تازہ ترین'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114248314266987693</id><published>2006-03-16T08:56:00.000+05:00</published><updated>2006-03-16T09:25:42.703+05:00</updated><title type='text'>کیا آپ کی ونڈوز میں ہے یہ بات؟</title><content type='html'>&lt;a href="http://www.ubuntu.com"&gt;&lt;img style="margin:10px;  text-align: left; float:left;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/UbuntuStrapLogo.1.jpg" alt="اوہ! اوہ!ا بنٹو" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;میں پچھلے کچھ سالوں سے کمپیوٹر استعمال کررہا ہوں۔ میرے کمپیوٹر پر پہلے ونڈوز انسٹال تھی۔ ونڈوز اٹھانوے اور پھر ایکس پی۔ لیکن چوری شدہ ونڈوز استعمال کرنے پر میرا دل ملامت کرتا رہتا تھا۔ خدانخواستہ میں اتنا غریب نہیں کہ اصل ونڈوز خرید نہ سکوں لہذا ضمیر کی اس خلش سے بچنے کا آسان طریقہ تھا چوری شدہ یا مسروق ونڈوز سے جان چھڑانا۔ اس کے دو حل تھے ایک تو یہ کہ میں ونڈوز کا لائسنس حاصل کرلوں یا پھر اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم انسٹال کرلوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک سال پہلے میں نے دوسرے راستے کو ترجیح دی۔ کیونکہ پہلا راستہ مہنگا اور اتنا پائیدار نہیں کہ اس پر اعتماد کیا جاسکے اور پیسے خرچ کرنے کے بعد آرام نہ ملے تو کیا فائدہ؟ لہذا میں نے اپنے کمپیوٹر کے لئے لنکس ریڈ ہیٹ کا دسواں ورژن ایک سو پچاس روپے میں لینکس پاکستان والوں سے خریدا۔ مگر اس میں بہت مسئلے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، انسٹالیشن کے بعد ہارڈویر کے چند مسائل کی وجہ سے میں اسے استعمال نہ کرسکا اور مجبورا ونڈوز کی طرف دوبارہ رجوع کیا۔ مگر پھر وہی الجھن، حالانکہ پورا پاکستان نیک سے نیک، شریف سے شریف، ایماندار سے ایماندار، امیر سے امیر ترین اور غریب تر لوگ بھی مسروق شدہ ونڈوز استعمال کررہے ہیں۔ کسی کو اس میں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ اور میں کونسا ایسا پارسا ہوں کہ مسروق شدہ ونڈوز استعمال نہیں کرونگا؟ اگر بل گیٹس کو یہ ناگوار ہوتا تو کب کا یہ ڈاکہ زنی رکوادیتا۔ مگر اس نے نہیں رکوائی کیوں؟ تاکہ ہم لوگ چوری شدہ ونڈوز استعمال کرتے رہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ دن بعد میں نے &lt;a href="http://www.ubuntu.com"&gt;ابنٹو&lt;/a&gt; کے بارے میں پڑھا۔ یہ لنکس کی &lt;a href="http://www.debian.org/"&gt;ڈیبیان&lt;/a&gt; پر مبنی ڈسٹرو ہے۔ ان کے ویب سائٹ پر ایک لنک تھا جہاں سے کوئی بھی ابنٹو دنیا میں کہیں بھی بالکل مفت منگواسکتا تھا۔ بس پھر کیا تھا میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فٹ فارم پر کر ارسال کیا۔ دو ہفتے میں مجھے ابنٹو کا پیکیج موصول ہوگیا۔ اس پیکیج میں ایک لائیو سی ڈی تھی اور ایک انسٹال سی ڈی۔ پہلے لائیو سی ڈی لگا کر دیکھی تو پتہ چلا کہ میرا سسٹم ابنٹو سے مکمل کمپیٹیبل ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ڈرتے ڈرتے اپنی ڈی ڈرائیو صاف کی، سی ڈرائیو میں ونڈوز رہنے دی اور ڈی میں ابنٹو کی انسٹالیشن شروع کی۔ انسٹالشن میں ونڈوز سے دگنا وقت لگا۔ تاہم آسانی سے انسٹالیشن ہوگئی۔ لاگ آن ہوا ویب براؤسر کھولا تو میرا کیبل کنکشن بالکل ٹھیک چل رہا تھا۔ ای میل کلائنٹ کنفگر کیا تو پتہ چلا کہ میرے کیبل والے کا روٹر ونڈوز کا آئی ایس اے سرور استعمال کرتا ہے۔ کیبل والے سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ وہ لنکس کے بارے میں مدد فراہم کرنے سے قاصر ہے تاہم ان کے پاس ایک لڑکا کام کرتا ہے جو لنکس پر نیٹ ورکنگ کا تجربہ رکھتا ہے لیکن وہ ان دنوں دبئی گیا ہوا تھا اور اس کی آمد دو مہینے سے پہلے متوقع نہیں تھی۔ مایوس ہوکر میں نے ونڈوز کی سی ڈی کے ذریعے ابنٹو کا صفایا کردیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ دن بعد اردو محفل پر لنکس کارنر دیکھا۔ تو دل میں ایک امید جاگی اور ابنٹو کے بارے میں ایک &lt;a href="http://www.urduweb.org/mehfil/viewtopic.php?t=1666"&gt;پوسٹ&lt;/a&gt; لکھی اس امید پر کہ شاید کچھ مدد مل جائے اور پوسٹ لکھنے کے فورا بعد ابنٹو دوبارہ انسٹال کی۔ اب بھی وہی مسائل درپیش تھے جو پچھلی انسٹالیشن میں تھے۔ مگر اب کی بار میں نے ہمت نہ ہارنے کا تہیہ کررکھا تھا۔ ابنٹو کے چیٹ روم میں گیا، سپورٹ فورمز پر مدد طلب کی مگر کوئی بھی ونڈوز کے آئی ایس اے سرور کے بارے میں مدد فراہم کرنے پر تیار نہ تھا۔ بالآخر چند گھنٹوں کی مسلسل تلاش اور دسیوں حل آزمانے کے بعد بالآخر ایک حل مل ہی گیا جسے آزمانے سے ای میل، چیٹ، ایف ٹی پی سب نے کام شروع کردیا۔ اب مسئلہ تھا موڈیم کنفگر کرنے کا، چونکہ میرا موڈیم کنکسنٹ لنکس سے کمپیٹیبل نہیں تھا اور کاپی رائٹ کے مسئلوں کی وجہ سے ابنٹو اس کا ڈرائیور فراہم کرنے سے قاصر تھا۔ تلاش کرتا کرتا &lt;a href="http://www.linuxant.com/company/"&gt;لنکسنٹ&lt;/a&gt; نامی سائٹ پر پہنچا جہاں سے ہزار مشکل کے بعد بالآخر اپنے موڈیم کے لئیے سوفٹویر حاصل کیا۔ موڈیم کنفگر کیا اور وہ فورا کنیکٹ ہوگیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک اور مسئلہ موسیقی کے حوالے سے تھا۔ رئیل فارمیٹ، ایم پی تھری، ویو اور اے وی آئی فارمیٹ بائی ڈیفالٹ ابنٹو میں شامل نہیں تھے اور کوئی لنکس بیسڈ میڈیا پلیر انہیں اسوقت تک نہیں چلاسکتے جب تک خصوصی کوڈیکس ڈاؤنلوڈ نہ کئے جائیں۔ بہر حال کوڈیکس بھی انسٹال ہوگئے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب کوئی ایسا کام نہیں بچا تھا جو میں ونڈوز پر کرسکتا تھا اور ابنٹو پر نہیں۔ لہذا پچھلے ایک ہفتے سے میں مسلسل ابنٹو استعمال کررہا ہوں اور بہت خوش ہوں۔ اسلئے بھی کہ میں اسے استعمال کرنے کا قانونی طور پر اختیار رکھتا ہوں اور اسلئیے کہ یہ ونڈوز سے ہزار گنا بہتر ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://www.openoffice.org/"&gt;اوپن آفس&lt;/a&gt;، پی ڈی ایف، میڈیا پلئیر، &lt;a href="http://gaim.sourceforge.net/"&gt;ایم ایس این، یاہو، آئی آر سی&lt;/a&gt;، پی ایچ پی، پائتھن، ویب، ای میل، ہزارہا مختلف قسم کے مفت سوفٹویر۔ &lt;a href="http://help.ubuntu.com/quicktour/C/quicktour.html"&gt;سب کچھ تو ہے اس میں&lt;/a&gt;! میں ڈیسک ٹاپ پر ویدر رپورٹ دیکھ سکتا ہوں، ساؤنڈ فائلز ریکارڈ کرسکتا ہوں، ای بکس پڑھ سکتا ہوں، لکھ سکتا ہوں، کئی قسم کے گیم کھیل سکتا ہوں، اپنی بھانجی کے لئے معیاری تعلیمی سوفٹویر انسٹال کرسکتا ہوں، عازب کے لئے آڈیو مکسنگ سوفٹویر شامل ہیں، کچھ پریشانی ہو تو زبردست &lt;a href="http://www.ubuntu.com/support/"&gt;سپورٹ آپشنز&lt;/a&gt; ہیں جہاں سے دو منٹ سے بھی کم وقت میں جواب آتا ہے۔ اور یہ سب کچھ مفت اور قانونی۔ کیا آپکی ونڈوز میں ہے یہ بات؟&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114248314266987693?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114248314266987693/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114248314266987693' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114248314266987693'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114248314266987693'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_16.html' title='کیا آپ کی ونڈوز میں ہے یہ بات؟'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114222563480005416</id><published>2006-03-13T09:47:00.000+05:00</published><updated>2006-03-13T09:53:54.830+05:00</updated><title type='text'>روانڈا کے قتل عام کے درمیان خدا کی کھوج</title><content type='html'>ابھی کچھ دیر پہلے ایمیزون ڈاٹ کام پر Immaculee Ilibagiza کی کتاب &lt;a href="http://www.amazon.com/gp/product/1401908969/ref=pd_ts_b_4/102-4424313-7655366?s=books&amp;v=glance&amp;n=283155"&gt;Left to tell: Discovering God Amidst the Rwandan Holocaust&lt;/a&gt; کے بارے میں پڑھا۔ میں روانڈا کے ہولوکاسٹ کے بارے میں کہیں پڑھ چکا تھا مگر اتنی زیادہ معلومات نہ رکھتا تھا۔ اس کتاب کے بارے میں پڑھنے کے بعد میں نے &lt;a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Rwandan_Genocide"&gt;ویکیپیڈیا&lt;/a&gt; دیکھا، مصنفہ کا یہ &lt;a href="http://www.rferl.org/featuresarticle/2004/04/7925b0b7-82f8-4026-a0bb-db843d089360.html"&gt;انٹرویو&lt;/a&gt; پڑھا اور بہت اداس ہوا۔ میں یہ کتاب ضرور پڑھنا چاہوں گا۔ کہ کیسے کوئی موت کا ایسا بھیانک روپ دیکھنے کے بعد زندگی کی اور زیادہ قدر کرتا ہے۔ کیسے کوئی ایسے دردناک سانحہ کے بعد بھی خدا سے محبت کرسکتا ہے اور کیسے وہ ایسا ظرف پاتا ہے کہ مجرموں کے خلاف کوئی غصیلہ جملہ تک نہ لکھے۔  کیسے؟&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114222563480005416?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114222563480005416/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114222563480005416' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114222563480005416'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114222563480005416'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_13.html' title='روانڈا کے قتل عام کے درمیان خدا کی کھوج'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114212924618650451</id><published>2006-03-12T07:01:00.000+05:00</published><updated>2006-03-12T07:07:26.226+05:00</updated><title type='text'>پرکٹوں کی اونچی اڑانیں</title><content type='html'>بلاگ اسپاٹ ہنوز ملک کی اکثر آئی ایس پیز پر بلاک ہے۔ حالانکہ ڈنمارک کا وہ اخبار جس نے کارٹون چھاپے تھے وہ بالکل بلاک نہیں ہے.اگر اعتراض کارٹونوں پر ہے تو &lt;a href="http://www.jp.dk"&gt;jyllands-posten&lt;/a&gt; کیوں بلاک نہیں جو کہ پاکستان کی ہر آئی ایس پی سے دیکھا جاسکتا ہے مگر بلاگ اسپاٹ ہنوز بلاک ہے۔ پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کا مجموعی رویہ اس بارے میں بڑا مایوس کن ہے۔ یہ مایوس کن رویہ بلاگوں تک ہی محدود نہیں۔ آمر بڑے سے بڑا ظلم ڈھائیں یہ قوم چپ رہتی ہے۔ اور اگر کہیں کوئی کافر رسول پاک کی شان میں گستاخی کردے تو چھ سات مہینے کے مسلسل اشتعال دلانے کے عمل کے بعد بالآخر سڑکوں پر آجاتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ناموس رسالت کو پاکستان کی سڑکوں پر بچانے کے دو تین ہفتے بعد یہی قوم پتنگیں اڑاتی ہے اور معصوم بچوں کے گلے کٹ جانے کے باوجود پتنگ بازی نہ صرف کرتی ہے بلکہ شراب و شباب شدید قلت کے سبب بلیک مارکیٹ ہونے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پتنگ اڑانا ان کا حق ہے اور حکومت انہیں خوشی منانے سے نہیں روک سکتی۔ خوب حق ہے!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;غیرت اسلامی سے سرشار اور رسول پاک کی محبت میں چور چور یہ قوم، بلاگ اسپاٹ، توہین آمیز خاکوں کے شائع کرنے والے سائٹ بلاک ہونے پر حکومت کو سراہتی ہے اور پھر اسی حکومت اور اسی عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خوشیاں مناتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہمارے ملک میں تعلیم کا معیار اتنا گرگیا ہے اور لوگوں کو اپنے حقوق سے اتنی کم آگاہی ہے کہ اکثر لوگ آزادی اظہار رائے کو ڈائریکٹ توہین رسالت سمجھنے لگے ہیں۔ عورتوں کے حقوق کی تنظیموں کو ریپ کروانے والی عورتوں کی انجمنیں اور خانگی صحت کے بارے میں آگاہی پھیلانے والوں کو فحاشی پھیلانے والے سمجھا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی بلاگر بیچارہ ان رویوں پر تنقید کردے تو وہ آزاد خیال (تقریبا لادین، دائرہ اسلام سے نئیرلی ڈسچارجڈ)۔ ہر کام میں انہیں سازشوں کی بو آتی ہے اور ہر لحظہ انہیں یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ دنیا اس انتہائی غریب، نیوکلیائی خطرناک، شدید انتہاپسند اور بے حد جاہل قوم کے خلاف میڈیا پر مہم چلارہی ہے (جیسے اگر دنیا مہم نہ چلاتی تو یہ اب تک امریکہ فتح کرچکے ہوتے)۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لیکن خیر ایک طرح سے ٹھیک ہی ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی اکثریت چوری شدہ ونڈوز پر، چیٹنگ اور فحش مواد دیکھنے کے علاوہ اور کرتی کیا ہے۔ چوری شدہ ونڈوز بھی وہ جس کا مالک بل گیٹس پاکستان میں چار پیسے کی سرمایہ کاری کا روادار نہیں اور ہندوستان میں اربوں کے پروجیکٹ لگا رہا ہے۔ کہتے ہیں بل گیٹس کی جنبش ابرو سے پاکستان میں ونڈوز کی پائریسی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ مگر افسوس کہ بل کی ابرو میں کوئی جنبش نہیں ہوتی اور نہ اس کی اس ساکت ابرو میں کسی عاشق رسول کو کسی سازش کی بو آتی ہے۔ ذرا دو دن کے لئیے ایم ایس این بند کرکے دیکھیں، پورا جی ایچ کیو ہل جائے گا۔ قوم کو یہ احساس نہیں کہ اطلاعاتی معاشرے کے اس اہم ترین دور میں انہیں کس طرف گھسیٹا جارہا ہے۔ وہیں جہاں انہیں آزادی کے فورا بعد گھسیٹ لیا گیا تھا۔ گھٹن کی طرف، غلامی کی طرف اور جہالت کی طرف۔ آج بلاگ اسپاٹ بند ہوا ہے کل یاہو بند ہوگا پھر گوگل اور ویکیپیڈیا۔ اور ہم سب ایک ایسا سرچ انجن استعمال کیا کریں گے جس میں ہر نتیجے میں جنرل صاحب کی تصویر آئے گی اور دس میں سے نو نتیجے آیات قرآنی کے اردو انگریزی ترجموں پر مبنی ہونگے کہ مبادا کہیں ہمارے ایمان میں کوئی کمی نہ آجائے۔ جو رہی سہی کسر رہ جائیگی وہ ہم خود ہی کلام پاک کے ترجمے اور تفاسیر بلاگ کرکے پوری کرلیا کریں گے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://help-pakistan.com/main/dont-block-the-blog/"&gt;&lt;img src="http://help-pakistan.com/main/wp-content/uploads/2006/03/dontblocktheblog1.jpg" alt="بلاگ اسپاٹ جاری کرو تحریک" title="بلاگ اسپاٹ جاری کرو تحریک" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114212924618650451?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114212924618650451/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114212924618650451' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114212924618650451'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114212924618650451'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_12.html' title='پرکٹوں کی اونچی اڑانیں'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114195806583478830</id><published>2006-03-10T07:26:00.000+05:00</published><updated>2006-03-10T07:34:25.860+05:00</updated><title type='text'>تم سے تو اچھا میں کتے پال لیتا</title><content type='html'>شاکر: &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عمر قریبا بائیس تئیس سال۔ رنگ سانولا، بال گھنے سیاہ، آسمانی رنگ کی شلوار قمیض، پیر میں باٹا کے چپل جن کے تلے گھسے ہوئے ہیں۔ ذہنی توازن اکثر غیرمتوازن رہتا ہے۔ راہ چلتوں کو اکثر ملتا ہے مگر کوئی اسے گمشدہ سمجھ کر نہیں لوٹاتا۔ چار و ناچار اسے رات کو خود ہی گھر لوٹنا پڑتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شاکر بھی ایک نمبر کی فلم ہے۔ ایک دن کیا ہوا، جمعے کے بعد اس کی دکان پر اس کا ایک دوست آیا۔ دوست نے جمعے کی خوشی میں کاٹن کا کرارا شلوار قمیض پہن رکھا تھا۔ ہنسی مذاق ہونے لگا اور مذاق مذاق میں شاکر نے ان کی قمیض پہ لگی جیب پکڑ کر کھینچی تو وہ ہاتھ میں آگئی۔ شاکر کا دوست بہت غصہ ہوا اور اس نے شاکر کو خوب باتیں سنائیں۔ شاکر بے چارے کے چہرے پر اللہ نے کچھ ایسے نقوش بنائے ہیں جن سے یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید وہ مسکرا رہا ہے۔ نتیجتا دوست صاحب اور بھی زیادہ غصہ میں کھولنے لگے۔ وہ تو جوابا شاکر کی قمیض پھاڑنا چاہ رہے تھے وہ تو بھلا ہو کچھ مشترکہ دوستوں کا کہ جنہوں نے عین موقعے پر پہنچ کر بیچ بچاؤ کرادیا اور شاکر کی پسندیدہ چیک کے خانوں والی شرٹ آنجہانی ہونے سے بچ گئی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بظاہر شاکر کافی حد تک نارمل نظر آتا ہے۔ عام طور پر لوگ اس سے جب ملتے ہیں تو بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہر وقت مسکراتا رہتا ہے۔ کم بولتا ہے، سب کی سنتا ہے اور بس سر ہلاتا رہتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہاں صحیح کہہ رہے ہو تم!&lt;br /&gt;بالکل صحیح&lt;br /&gt;درست&lt;br /&gt;کیا بات ہے&lt;br /&gt;اوہ&lt;br /&gt;ہممم&lt;br /&gt;آ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور آخر میں جب کوئی تنگ آکر کہتا ہے بھائی تم کچھ بولتے کیوں نہیں تو کہتا ہے :&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;"تم بولو نا! میں سن رہا ہوں۔"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرے ساتھ وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ میں تو اچھے اچھوں کو بلوا دیتا ہوں۔ اور کبھی کبھی تو میں گونگوں سے بھی کافی دیر تک گفتگو کرلیتا ہوں پھر شاکر کیا چیز ہے۔ ایک دن سب اپنے اپنے دادا نانا کے قصے سنا رہے تھے۔ تو شاکر نے ہم پر یہ انکشاف کیا کہ اس کے دو دادا تھے۔ جس پر خوب قہقہہ پڑا تو اس نے وضاحت کی دوسرے دادا اس کے دادا کے بھائی تھے ان کی بیوی فوت ہوگئی تھی اور کوئی اولاد بھی نہ تھی اسلئیے وہ شاکر کے دادا کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ پھر شاکر نے بتایا کہ اس کے اصلی دادا کے بس دو ہی بیٹے تھے ایک اس کے والد اور ایک اس کے چاچا جو نئی کراچی میں رہتے ہیں۔ شاکر کے والد کے پورے ایک درجن بچے ہیں اور چاچا کے بھی سات آٹھ ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم سب خوب ہنس رہے تھے۔ کسی نے کہا کہ یار تم بارہ کے بارہ بیکار ہو تمہارا باپ دکان چلاتا ہے اور تم جوان لڑکے ایسے ہی سڑکیں ناپتے رہتے ہو۔ اس پر شاکر بولا میرے ابو بھی یہی کہتے ہیں اور کبھی غصے میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ایسی اولاد سے تو اچھا میں کتے پال لیتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ذرا سوچیں چاچا جمال اگر کبھی اپنے درجن بھر بچوں کے ساتھ جن میں سے کئی جوان ہیں کہیں نکلتے ہونگے تو کیسے شرمندہ ہوتے ہونگے۔ کوئی ٹیکسی والا بھی اس ریوڑ کو دیکھ کر ٹیکسی نہیں روکتا۔ ہاں اگر وہ درجن بھر کتوں کے ساتھ نکلتے تو الگ ہی بھرم پڑتا۔ کتا اگر ایک آدھ ساتھ ہو تو ٹہلانے والے کا پالتو سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر نصف درجن سے زیادہ ہوں تو سربراہ مملکت کے سیکوریٹی آفیسرز۔ یہ کتے، چاچا جمال کا نام اگر پوری دنیا میں نہیں تو کم از کم محلے بھر میں تو روشن کرہی دیتے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے شاکر کو مشورہ دیا کہ اپنے ابا سے کہو کہ اب پال لیں۔ تو شاکر بولو یار وہ تو پالنا چاہتے ہیں مگر ہم نہیں پالنے دیتے کہ گھر میں خواہ مخواہ مقابلے کی فضا پیدا ہوگی اور ہر لمحے ہماری عادتوں اور خصائل کا کتوں سے تقابل کیا جائے گا۔ میں نے کہا تو کیا ہوا ابھی بھی تو تمہارے ابا تم بھائیوں کو دوسروں کے لڑکوں کی مثالیں دیتے ہیں۔ رہنے دو، اس معاملے میں تم بھائی بہت ڈھیٹ ہو۔ شاکر بولا یار کسی انسان کے بچے کو تو ہم اپنے لیول کا ہی نہیں سمجھتے نا اسليئے جب ابا ان سے مقابلہ کرتے ہیں تو یہ ہمارے لئیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ مگر کتے نہیں بھائی کتوں سے ہم مقابلہ نہیں کرسکتے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے کہا تم بھائیوں کو یہ ڈر ہوگا کہ ابا کہیں اپنی جائیداد کتوں کے نام نہ کرجائیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نہیں یار ایسا نہیں ہوسکتا شرعی قانون کی رو سے کوئی باپ اپنی جائیداد میں سے کتوں کو کوئی حصہ نہیں دے سکتا چاہے اس کی اولاد کتنی ہی نااہل ہو اور چاہے کتے اسے کتنے ہی عزیز کیوں نہ ہوں۔ لیکن تمہیں پتہ ہے ہمارے گھر میں جگہ کی تنگی ہے ایک ایک کمرے میں تین تین چار چار افراد ساتھ سوتے ہیں اگر ابو نے کتے پال لئیے تو انہیں بھی ساتھ سلانا پڑے گا۔ دولت جائیداد کے لئیے تو بھائی بھائی کا خون کردیتا ہے اور کتے کا کیا بھروسہ کب کتے پن پر اتر آئے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114195806583478830?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114195806583478830/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114195806583478830' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114195806583478830'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114195806583478830'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_10.html' title='تم سے تو اچھا میں کتے پال لیتا'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114168593469423737</id><published>2006-03-07T03:12:00.000+05:00</published><updated>2006-03-07T03:58:54.796+05:00</updated><title type='text'>انٹرنیٹ، بلاگستان اور پاکستانی قوانین</title><content type='html'>یہ پوسٹ کارٹون بلاک کئیے جانے اور پاکستانی بلاگستان کے بارے میں ہے۔ بلاگ اسپاٹ کی بندش کے خلاف مہم جاری ہے لیکن بلاگ اسپاٹ کی بندش اس گفتگو کا موضوع نہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک بات تو طے ہے کہ یورپی اخبار کے کارٹونوں کا مقصد مسلمانوں کے جذبات سے چھیڑچھاڑ تھا۔ خود اخبار کے کلچرل ایڈیٹر اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ کارٹونوں کا مقصد ایک بحث شروع کرنا تھا۔ ڈنمارک سے ملنے والی چند اطلاعات سے ایسا بھی لگتا ہے کہ ڈنمارک میں مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ رواداری کے بجائے ان سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ کسی خاص طرز فکر کا مظاہرہ کریں۔ جس کے لئیے انہیں مجبور بھی کیا جارہا ہے۔ کارٹونوں پر احتجاج کے سلسلے میں میری کوئی خاص رائے نہیں کیونکہ نبی کریم کی شان اقدس کی جو ناموس میرے دل میں ہے وہ کوئی کارٹون کوئی تعصب پسند شر انگیز دماغ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا اسلئے میرے خیال میں احتجاج کا سب سے مناسب طریقہ یہ ہے کہ ہم اس مسئلے سے لاتعلقی رکھیں۔ اس رائے پر میرے اکثر دوست، میرے گھر والے اور بلاگر ساتھی مجھے خوب برا بھلا کہہ چکے ہیں۔ تاہم یہ بات اس پوسٹ کا موضوع نہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کراچی کے ملین مارچ میں جس میں اگر لاکھ نہیں تو پچاس ہزار لوگ تو ضرور تھے تقریبا سب توہین رسالت پر خفا تھے۔ لیکن کیا ان سب لوگوں نے ڈنمارک کے اخبار کے شائع کردہ کارٹون دیکھ رکھے تھے؟ کیا ان تمام لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے یا یہ تمام لوگ ان لوگوں کی رائے سے متفق ہیں جنہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے یہ کارٹون دیکھ رکھے ہیں؟ اگر کسی نے وہ کارٹون نہیں دیکھ رکھے تو بہت اچھا کیا ہے۔ لیکن اگر کوئی وہ کارٹون دیکھنا چاہے تو اس کے بارے میں کیا خیال کیا جانا چاہئیے؟ ایسے لوگوں کو جو مسلمان ہوکر انٹرنیٹ پر خود ان کارٹونوں کو تلاش کرکے دیکھ رہے ہیں کیا حکومت پاکستان کو انہیں روکنا چاہئیے؟ جبکہ حکومت پاکستان کو معلوم ہے کہ انٹرنیٹ پر کارٹونوں کے ذریعے جو مواد پھیلایا جارہا وہ پاکستان کی اکثریتی آبادی یعنی مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی ہے اور ہماری عوام میں اس بارے میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں اس بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرپارہا ہوں۔ تاہم ایسا دیکھا گیا ہے کہ کئی ملکوں میں ایسے مواد پر کہ جن کی اشاعت کے بعد لوگوں میں اشتعال پھیلا ہو انہیں اٹھا لیا گیا ہے یہ لوگوں تک ان کی رسائی روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہمارے پاس ایسی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ ایسے اقدام سے کتنے فتنوں کا سدباب ہوا ہے۔ کیونکہ اس قسم کے مواد پر جب تک ہنگامہ آرائی نہ ہو حکومتوں کو کیسے پتہ چل سکتا ہے کہ وہ کتنے نقصان دہ، نفرت انگیز اور تکلیف دہ تھے۔ ظاہر ہے جب وہ مواد پھیل جاتا ہے اور لوگ اشتعال میں آتے ہیں تو مقدمے بازیاں ہوتی ہیں تبھی تو حکومت کو یا کسی ادارے کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کسی مواد نے جان بوجھ کر شر پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پاکستان میں بھی جب ہنگامہ آرائی ہوئی اور لوگوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور بات سپریم کورٹ کی بنچ تک پہنچی تبھی یہ موضوع زیر بحث آیا۔ پاکستان کی عوام سپریم کورٹ سے یقینا انصاف کی متوقع تھی۔ سپریم کورٹ کے نوٹس میں یقینا وہ عوامی اشتعال لایا گیا ہوگا جو ان کارٹونوں کے خلاف پایا جاتا ہے۔ یہ اشتعال بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے اور ہزاروں پاکستانی مسلمان اس بارے میں مرنے مارنے کو تیار ہیں۔ اسلئیے ہم کم از کم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سپریم کورٹ کی کاروائی کسی قسم کا اوور ری ایکشن یا غیر منطقی ہے۔ غالبا انہوں نے وہی فیصلہ کیا جو انہیں شر کے سدباب کے لئیے کرنا چاہئیے تھا۔ &lt;br /&gt; &lt;br /&gt;اب مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو پہلے بھی ان تکلیف دہ کارٹونوں تک رسائی تھی ان لوگوں نے تو اب تک وہ کارٹون یا تو دیکھ لئیے ہونگے یا بعد میں دیکھ لیں گے۔ جو دیکھنا چاہے گا وہ تو کسی نہ کسی طرح دیکھ ہی لے گا۔ دوسری بات یہ کہ کارٹون جہاں شائع ہوئے ہیں وہ علاقے پاکستان کے قانون کی زد میں نہیں آتے مگر پاکستان کا انٹرنیٹ ایکسچینج پاکستان کے دائرہ اختیار میں ہے۔ ایک اور بات جو قابل غور ہے وہ یہ کہ عدالت عالیہ نفرت انگیز مواد بلاک کرنے کا حکم دیتی ہے نہ کہ بلاگ اسپاٹ بلاک کرنے کا۔ نفرت انگیز مواد بلاک ہونے سے یقینا پاکستانیوں کے آزادی اظہار کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ عدلیہ کے سامنے یہ امر بھی زیر غور ہوگا کہ پاکستانیوں کی اکثریت ان کارٹونوں سے بیزاری کا اظہار کرچکی ہے۔ بلاگرز کی آزادی اظہار اس فیصلے سے یقینا متاثر نہیں ہوتی اگر کوئی احمق آدمی بلاگ اسپاٹ کو مکمل بلاک کرنے کے بجائے تھوڑی محنت اور کرکے نفرت انگیز مواد ہی بلاک کرتا (ماہرین کے مطابق ایسا ممکن ہے)۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک ایسا مواد جسے ملک کی عوام کی اکثریت نفرت انگیز سمجھتی ہے (جنہوں نے دیکھے ہیں وہ بھی اور جنہوں نے نہیں دیکھے وہ بھی) تب اگر عدلیہ اپنی بساط کے مطابق ایسے نفرت انگیز مواد کیخلاف ایکشن نہیں لیتی تو کیا یہ درست ہوگا؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر ہم یہ طے کرلیتا ہیں کہ جی ہاں عدلیہ کو یہ فیصلہ کرنا چاہئیے کہ اگر کوئی مواد شر پھیلارہا ہے تو اس کی اشاعت اور تقسیم پر پابندی لگادی جائے تو کیا یہ اظہار رائے کی آزادی کو نقصان پہنچانے والی سوچ ہے؟ اگر ہم یہ طے کرلیتے ہیں کہ عدلیہ کو اظہار رائے کی آزادی چاہے اس سے کتنا ہی شر پھیل رہا ہو اسے روکنے یا اس پر قدغنیں لگانے کا کوئی اختیار نہیں تو یہ بھی درست نہیں لگتا۔ آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب دوسرا موضوع۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ توہین رسالت کے بارے میں پاکستان میں قوانین موجود ہیں۔ یہ قوانین صحیح ہیں یا غلط، شرعی ہیں یا غیر شرعی، یہ ہمارا موضوع نہیں۔ موضوع یہ ہے کہ کیا پاکستان میں رہنے والے کسی بلاگر کو توہین رسالت کے الزام میں عدالت میں گھسیٹا جاسکتا ہے اور یہ کہ ہماری مقننہ کے پاس کیا ایسی قانون سازی موجود ہے جو پاکستانیوں کے انٹرنیٹ استعمال کو پاکستان کے قانون کے تحت رکھ سکے؟ بالفرض اگر کوئی پاکستانی بلاگر وہ کارٹون اپنے بلاگ پر شائع کرتا ہے تو کیا اسے توہین رسالت کے الزام کا سامنا ہوسکتا ہے؟ اگر بالفرض ایسا ہوا تو پاکستانی بلاگستان کا کیا ردعمل ہوگا؟ جب ہم ردعمل کی بات کرتے ہیں تو بلاگستان دو گروہوں میں تقسیم ہوجائے گا ایک وہ جو توہین رسالت کے قوانین کو شرعی اعتبار سے درست مانتا ہے اور ایک وہ جو انہیں کسی اعتبار سے درست نہیں مانتا۔ لیکن چونکہ پاکستانیوں کی اکثریت ان قوانین کو درست مانتی ہے تو ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ پاکستانی بلاگستان پر بھی ایسا ہی ہوگا۔ لیکن کیا ہم توہین رسالت کے قوانین کو انٹرنیٹ پر بھی لاگو کرسکتے ہیں جہاں یہ ثابت کرنا بھی محال ہوگا کہ کوئی چیز کسی ملزم نے واقعتا جان بوجھ کر شائع کی ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114168593469423737?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114168593469423737/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114168593469423737' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114168593469423737'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114168593469423737'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_07.html' title='انٹرنیٹ، بلاگستان اور پاکستانی قوانین'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114159628949768478</id><published>2006-03-06T02:59:00.000+05:00</published><updated>2006-03-06T03:04:49.526+05:00</updated><title type='text'>بلاگ اسپاٹ جاری کرو تحریک ۔ خبریں اور اطلاعات</title><content type='html'>بی بی سی اردو پر بلاگ اسپاٹ بند کرنے کے واقعے کی خصوصی کوریج جاری ہے اور &lt;a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/story/2006/03/060305_blog_compaigne_zs.shtml"&gt;بلاگ اسپاٹ پر پابندی کے خلاف تحریک&lt;/a&gt; پر ایک آرٹیکل آج شام ہی شائع ہوا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گلوبل وائسز آنلائن: &lt;a href="http://www.globalvoicesonline.org/2006/03/05/pakistan-blog-o-block/"&gt;پاکستان بلاک بلاگز&lt;/a&gt;&lt;span style="text-decoration: underline;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس کے علاوہ کئی بلاگرز اس بارے میں اپنے بلاگز پر لکھ رہے ہیں اور اس مہم میں کئی ممالک کے لوگ اپنی آواز شامل کررہے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://groups.google.com/group/AGABBIP"&gt;ایکشن گروپ برائے بحالی بلاگ اسپاٹ&lt;/a&gt; اس ضمن میں بہت کام کررہا ہے وہاں سے صورتحال کی پل پل خبریں آرہی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بلاگر کی ٹیکنیکل ٹیم جلد ہی اس سنسرشپ سے نمٹنے کے لئیے پاکستانی بلاگرز کو عیلیحدہ سے آئی پیز پر منتقل کر رہی لیکن اس کا نتیجہ آنے میں کچھ دن درکار ہونگے۔ ایسے شواہد ملے ہیں کہ حکومت پروکسیز کو بھی بلاک کررہی ہے۔ جو ایک خطرناک قدم ہے کیونکہ انٹرنیٹ پر ایسی سینکڑوں پروکسیز ہے اور پی ٹی اے اس مہم میں تھک جائیگی مگر جیتے گی نہیں۔ رابطہ مہم بھی جاری ہے اور دی نیوز پر ایک کالم منگل کے روز اس ایشو پر شائع ہوگا۔ دیر کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا روایتی میڈیا بلاگنگ یا سنسرشپ کو اتنی اہم خبر نہیں سمجھتا کیونکہ وہ اس کے عادی ہیں اور انٹرنیٹ کو بھی کوئی اخبار یا رسالہ ہی سمجھتے ہیں۔ بلاگرز کی پاکستان کے روایتی میڈیا کے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گوگل ایکشن گروپ تمام پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ پاکستان انٹرنیٹ ایکسچیج کے اطہر اے بیگ صاحب کو خط لکھیں۔ اطہر صاحب وہاں نیٹ ورک آپریشنز انچارج ہوتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ انہیں ای میل ایک بیوروکریٹ سمجھ کر نہ لکھیں۔ بلکہ انہیں سیدھا سیدھا یہ بتائیں کہ ہزاروں پاکستانی ایک اہم بلاگنگ ٹول اور معلومات اور آراء کے عظیم سیلاب سے محروم ہوگئے ہیں اور اگر وہ یہ بلاکنگ ہٹادیتے ہیں تو پاکستانی انٹرنیٹ صارفین ان کے بہت مشکور ہونگے۔ ان سے رابطے کی معلومات درج ذیل ہیں:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اطہر اے بیگ&lt;br /&gt;نیٹ ورک آپریشنز سنٹر&lt;br /&gt;پاکستان انٹرنیٹ ایکس چینج&lt;br /&gt;آئی ٹی آئ ڈیویژن، چوتھی منزل ٹیکنیکل بلاک&lt;br /&gt;گیٹ وے ایکسچینج بلڈنگ، مارسٹن روڈ&lt;br /&gt;کراچی پاکستان&lt;br /&gt;ای میل ایڈریس: &lt;span class="english"&gt;noc@pie.net.pk&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;ٹیلیفون نمبر: &lt;span class="" english=""&gt;+92 21 2760066/2774285&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://groups.google.com/group/AGABBIP" target="_blank"&gt;&lt;img src="http://help-pakistan.com/main/wp-content/uploads/2006/03/dontblocktheblog1.jpg" border="0" alt="بلاگ اسپاٹ جاری کرو" style="border:2px solid #025C05;" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114159628949768478?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114159628949768478/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114159628949768478' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114159628949768478'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114159628949768478'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_06.html' title='بلاگ اسپاٹ جاری کرو تحریک ۔ خبریں اور اطلاعات'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114155289522465378</id><published>2006-03-05T14:53:00.000+05:00</published><updated>2006-03-05T15:01:35.633+05:00</updated><title type='text'>پاکستان کا مستقبل جمہوریت ہے۔ بش</title><content type='html'>جنرل مشرف نے کل صدر بش کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے &lt;a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/03/060304_bush_democracy.shtml"&gt;جمہوریت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا&lt;/a&gt; کہ ان کی حکومت پاکستان میں جمہوریت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی وردی سے متعلق آئندہ بھی جو فیصلہ کریں گے وہ آئین پاکستان کے اندر رہتے ہوئے کریں گے۔ انہوں نے خاتون صحافی سے کہا کہ غالبا آپ کا اشارہ میری وردی کی طرف ہے تو میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کے قانون نے ہی مجھے اس بات کی اجازت دی ہے کہ میں وردی کے ساتھ صدر رہ سکوں اور دو ہزار سات کے بعد بھی اس حوالے سے جو فیصلہ ہوگا وہ آئین پاکستان کی حدود میں رہتے ہوئے ہی کیا جائے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جیسے دنیا کو پتہ ہی نہیں کہ آئین پاکستان کی جنرل نے کس طرح دھجیاں اڑائی ہیں اور ربڑاسٹیمپ اسمبلی کے ذریعے خود کو غیر قانونی طور پر صدر بنالیا ہے۔ اور جیسے دنیا کو یہ بھی نہیں معلوم کہ آئندہ صدر مشرف کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور پاکستان کے آئین کی کیا حدود ہیں۔ اسی سوال کے جواب میں جنرل نے کہا کہ پاکستان میں آج اظہار رائے کی آزادی ہے۔ انہوں نے درجنوں ٹی وی چینلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے صرف ایک سرکاری ٹی وی چینل ہوتا تھا آج آپ دیکھیں درجنوں چینل ہیں جو آزادانہ کام کررہے ہیں۔ یہ وہ اس وقت کہہ رہے تھے جب پاکستان میں موجود لاکھوں انٹرنیٹ صارفین کو ہزاروں بلاگ اور سینکڑوں دیگر ویب سائٹ دیکھنے سے روکنے کے لئیے پی ٹی اے نے انٹرنیٹ فراہم کرنے والے اداروں کو نوٹس بھجوارکھے تھے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جس وقت وہ یہ سفید جھوٹ بول رہے تھے اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے صدر عمران خان کو پولیس نے &lt;a href="http://www.dawn.com/2006/03/05/nat2.htm"&gt;نظر بند&lt;/a&gt; کر رکھا تھا کیونکہ وہ صدر بش کی آمد پر احتجاج کرنا چاہتے تھے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114155289522465378?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114155289522465378/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114155289522465378' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114155289522465378'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114155289522465378'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_114155289522465378.html' title='پاکستان کا مستقبل جمہوریت ہے۔ بش'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114154977831943723</id><published>2006-03-05T14:04:00.000+05:00</published><updated>2006-03-05T14:09:38.353+05:00</updated><title type='text'>بلاگ اسپاٹ جاری کرو تحریک</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center;"&gt; متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے&lt;br /&gt;کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے&lt;br /&gt;زبان پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے&lt;br /&gt;ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;p class="english" lang="en"&gt;The current ban on blogspot sites serves only one purpose. It cuts the tongues of Pakistani writers while everyone else is allowed to spread their thoughts and ideas. Free us. Let us tell the world what we are about. Let us be what we are. Free us!&lt;/p&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://groups.google.com/group/AGABBIP" target="_blank"&gt;&lt;img src="http://help-pakistan.com/main/wp-content/uploads/2006/03/dontblocktheblog1.jpg" border="0" alt="بلاگ اسپاٹ جاری کرو" style="border:2px solid #025C05;" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114154977831943723?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114154977831943723/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114154977831943723' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114154977831943723'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114154977831943723'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_05.html' title='بلاگ اسپاٹ جاری کرو تحریک'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114147111396105459</id><published>2006-03-04T16:14:00.000+05:00</published><updated>2006-03-04T16:18:33.990+05:00</updated><title type='text'>بلاگ اسپاٹ جاری کرو تحریک ۔ نئی پیشرفت</title><content type='html'>کل سے اب تک بلاگ اسپاٹ جاری کرو تحریک میں کافی شدت آئی ہے خصوصا بی بی سی کی رپورٹ اور بی بی سی اردو کی کوریج کے بعد۔ پاکستان کے انگریزی بلاگرز نے اپنے بلاگز پر&lt;a href="http://karachi.metblogs.com/archives/2006/03/dont_block_the.phtml"&gt; لکھنا&lt;/a&gt; شروع کردیا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے اور پی ٹی اے کو جلد از جلد بلاک ہٹانے پر مجبور کرنے کے لئیے گوگل پر &lt;a href="http://groups.google.com/group/AGABBIP"&gt;ایک ایکشن گروپ&lt;/a&gt; تشکیل دیا گیا ہے۔ جس کے تحت پاکستانی اور غیرپاکستانی بلاگرز، ان کے دوست اور عالمی بلاگ برادری کو منظم کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ قارئین سے التماس ہے کہ وہ ضرور اس گروپ کی شمولیت اختیار کریں اور بلاگ اسپاٹ جاری کرو تحریک میں عملی حصہ لیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://newsforums.bbc.co.uk/ws/thread.jspa?threadID=632"&gt;بی بی سی اردو کے فورم&lt;/a&gt; پر کچھ اصحاب اس پابندی کو کارٹون تنازعے کی روشنی میں جائز سمجھ رہے ہیں۔ جو کہ سراسر لاعلمی کے سبب ہے۔ دانیال نے اپنے بلاگ پر صورتحال واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور میں وہی باتیں یہاں دہراؤں گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر کارٹون بلاک کرنے کے سلسلے میں بلاگ اسپاٹ کو بلاک کرنا صحیح ہے تو پھر پی ٹی اے کو یاہو، گوگل، ویکیپیڈیا وغیرہ سب بلاک کردینا چاہئیے کیونکہ وہاں پر ہر کوئی نہایت آسانی سے کارٹون دیکھ سکتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے پی ٹی اے یہ نہیں کرسکتا کیونکہ اس سے پاکستانی انٹرنیٹ صارفین معلومات کے اہم ترین ذرائع سے محروم ہوجائیں گے۔ یہی کچھ بلاگ اسپاٹ کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ بلاگ اسپاٹ پر اگر ایک طرف کچھ لوگ توہین آمیز خاکے نقل کررہے ہیں تو دوسری طرف ہزاروں بلاگرز نے ان خاکوں کی مذمت بھی کی ہے۔ ایسے بھی کئی بلاگ اسی بلاگ اسپاٹ پر موجود ہیں جو پڑھنے والوں کو غیرمتشدد اور پرامن احتجاج جاری رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ پی ٹی اے نے چند بلاگ بان کرنے کے چکر میں پاکستانی عوام کو ایسے ہزاروں بلاگ سے بھی محروم کردیا ہے جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس، سیاست، علم اور ادب پر سینکڑوں پوسٹس روزانہ لکھی جارہی ہیں۔ آئین پاکستان کے تحت یہ ایک سنگین غلطی ہے جس کا ادراک پی ٹی اے کو جتنی جلد ہوجائے اتنا ہی اچھا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جس طرح لاہور اور پشاور کی ہنگامہ آرائی سے صرف پاکستانیوں کو نقصان ہوا اور کارٹون تنازعے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ایسے ہی پی ٹی اے کے بلاگ اسپاٹ بند کرنے سے پاکستانیوں کو صرف نقصان ہوگا اور کارٹون تنازعے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کیونکہ بلاگ اسپاٹ بان ہونے کے باوجود پاکستانیوں سمیت تمام دنیا انٹرنیٹ پر باآسانی وہ کارٹون دیکھ سکتی ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114147111396105459?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114147111396105459/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114147111396105459' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114147111396105459'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114147111396105459'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_114147111396105459.html' title='بلاگ اسپاٹ جاری کرو تحریک ۔ نئی پیشرفت'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114141859366051122</id><published>2006-03-04T01:40:00.000+05:00</published><updated>2006-03-04T01:43:13.686+05:00</updated><title type='text'>بلاگ بلاک کیوں؟</title><content type='html'>نعمان کی ڈائری کی تازہ ترین انٹری اب &lt;a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/interactivity/quotes/story/2006/03/060303_nouman_blogspot.shtml"&gt;بی بی سی اردو پر پڑھی جاسکتی&lt;/a&gt; ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بی بی سی اردو پاکستان میں بلاگ اسپاٹ کو بلاک کئیے جانے کی خصوصی کوریج کررہا ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ وہ بی بی سی اردو کے اس فورم پر تشریف لاکر اس سوال کا جواب دیں:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://newsforums.bbc.co.uk/ws/thread.jspa?threadID=632"&gt;بلاگ اسپاٹ پر ایسا کیا تھا؟&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یاد رہے کہ آپ کی رائے کی اہمیت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب حکومت کے غیرمنصفانہ فیصلے پر خاموش رہ کر اس جرم میں شریک ہوسکتے ہیں یا ہھر چند جملے کہہ کر معاشرے میں ایک چھوٹی سی مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114141859366051122?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114141859366051122/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114141859366051122' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114141859366051122'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114141859366051122'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_04.html' title='بلاگ بلاک کیوں؟'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114136888133073037</id><published>2006-03-03T11:45:00.000+05:00</published><updated>2006-03-03T11:58:17.816+05:00</updated><title type='text'>کیا آپ کی آواز زندہ ہے؟</title><content type='html'>جیسا کہ آپ سب جان چکے ہیں کہ حکومت پاکستان نے بلاگ اسپاٹ پر ہوسٹ کئیے گئے تمام بلاگ پاکستان میں رہنے والے انٹرنیٹ استعمال کنندگان کے لئیے ناقابل رسائی بنادئیے ہیں۔ مختلف فورمز پر پاکستانی بلاگر اس بارے میں اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ چند ایک کا خیال ہے کہ سرکاری ادارے بلاگ اسپاٹ پر موجود ڈنمارک کے متنازعہ کارٹون بلاک کرنا چاہتے تھے اور نتیجتا پورا بلاگ اسپاٹ بند کربیٹھے۔ کچھ کا خیال ہے کہ حکومت نے بش کی آمد کے موقع پر بلاگ اسپاٹ بند کیا ہے جس کی وجہ بین الاقوامی رائے عامہ کو پاکستانی ریڈرشپ سے دور رکھنا ہے۔ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ جنرل مشرف میری ذاتی شہرت اور &lt;a href="http://noumaan.blogspot.com/2005/10/blog-post_113046347662025537.html"&gt;مردانہ وجاہت&lt;/a&gt; سے جل گئے ہیں اس لئیے انہوں نے اپنے کارندوں سے میرا بلاگ بند کروادیا ہے۔ وجہ چاہے کچھ بھی ہو، آج پانچواں دن ہے اور بلاگ اسپاٹ ہنوز بلاک ہے اور کسی آئی ایس پی، کسی سرکاری ادارے اور کسی خبر رساں ایجنسی کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرے خیال میں جنرل مشرف کے حالیہ دورہ چین میں جہاں بھارت امریکہ جوہری تعاون زیربحث آیا ہے وہیں چینیوں نے ہمارے جنرل صاحب کو آزادی رائے کے بارے میں بھی چند مشورے دئیے ہیں۔ خصوصا گوگل کو تڑی لگانے کے بعد تو آزادی کے دشمن چینی اور شیر ہوگئے ہیں۔ ہوسکتا ہے انہوں نے مشرف کو مشورہ دیا ہو کہ وہ پاکستان میں لوگوں کی بولتی بند کریں کہیں ایسا نہ ہو کسی دن کوئی معمولی بلاگروں کا گروہ آبپارہ چوک پر آرمی کے ٹینکوں کے آگے کھڑا ہوجائے۔ چینی کی زبان بندی مہم تو اسقدر کامیاب ہے کہ پچھلے ایک سال میں پاکستان میں ہونے والے پے در پے ریلوے حادثات کے باوجود پاکستانی صحافی چینی انجنوں کی کارکردگی پر کچھ بھی لکھنے سے گریزاں ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خیر چھوڑیں، &lt;a href="http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_02.html"&gt;پچھلی پوسٹ&lt;/a&gt; میں بلاگ اسپاٹ کے بلاگز کو گوگل ٹرانسلیشن ٹول کی پروکسی کو استعمال کرتے ہوئے ایکسس کرنے کا طریقہ بیان ہوا تھا۔ ساتھ ہی تبصرہ جات شامل کرنے کا طریقہ بھی بتایا گیا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج کی پوسٹ میں ہم احتجاج کرنے کا لائحہ عمل بیان کریں گے جو کہ دانیال نے&lt;a href="http://danial.pixelsndots.com/archives/380"&gt; تجویز&lt;/a&gt; کیا ہے:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;ul&gt;&lt;li&gt;آپ سب سے گذارش کی جاتی ہے کہ &lt;a href="http://www.pta.gov.pk/index.php?cur_t=vnormal"&gt;اس صفحے&lt;/a&gt; پر موجود ٹیلیفون نمبرز اور ای میل پتوں پر اپنی شکایات اور غم و غصے کا اظہار کریں۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;اگر آپ بلاگر ہیں تو اپنے بلاگ پر اس بارے میں لکھئیے۔ اور دوسرے بلاگرز سے درخواست کریں کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کو بچانے میں ہماری مدد کریں۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;مقامی اخبارات کو ای میلز بھیجیں۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کو &lt;a href="http://www.hrcp-web.org/contact.cfm"&gt;ای میل&lt;/a&gt; بھیجیں۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حقوق انسانی سے &lt;a href="http://www.ohchr.org/english/contact/index.htm"&gt;رابطہ&lt;/a&gt; کیجئیے۔&lt;br /&gt;&lt;/li&gt;&lt;/ul&gt;&lt;br /&gt;آپ کا ایکشن پاکستان میں انٹرنیٹ پر اظہار رائے کی آزادی کے لئیے اور ایک صحت مند پاکستانی معاشرے کی ترقی اور پائیداری کے لئیے بے حد اہم ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114136888133073037?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114136888133073037/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114136888133073037' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114136888133073037'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114136888133073037'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_03.html' title='کیا آپ کی آواز زندہ ہے؟'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114130647005306952</id><published>2006-03-02T18:28:00.000+05:00</published><updated>2006-03-02T18:34:30.053+05:00</updated><title type='text'>مشکل کشا بابا گوگل کیلیفورنیا والے</title><content type='html'>بلاگ اسپاٹ پر ہوسٹڈ بلاگ وزٹ کرنے کے آسان طریقے:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پاکستان میں موجود ایسے قارئین جو بلاگ اسپاٹ پر ہوسٹ کئیے گئے بلاگ وزٹ نہ کرپارہے ہوں وہ درج ذیل طریقوں پر عمل کرکے اس رکاوٹ کو عبور کرسکتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;ol&gt;&lt;li&gt;بلاگ کی آر ایس ایس فیڈ بلاگ لائنز یا کسی دوسرے ویب بیسڈ آر ایس ایس فیڈ ریڈر کی مدد سے سبسکرائب کی جائے۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;سب سے بہترین پراکسی گوگل ٹرانسلیٹ کی ہے۔ اسے استعمال کرنا کا طریقہ یہ ہے:&lt;br /&gt;http://translate.google.com/translate?u=http://googleblog.blogspot.com&lt;br /&gt;یہاں گوگل بلاگ کی جگہ جس بلاگ کو آپ دیکھنا چاہتے ہیں اس کا یو آر ایل دیں۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;تبصرہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اوپر والے طریقے پر عمل کرتے ہوئے بلاگ کو وزٹ کیا جائے اور وہاں سے تبصرے کا لنک کاپی کیا جائے۔ رائٹ کلک کرکے کاپی لنک لوکیشن منتخب کریں۔ اب اپنے براؤسر کی ایڈریس بار میں پیسٹ کریں۔ یہ لنک کچھ اس قسم کا ہوگا&lt;br /&gt;http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;amp;postID=114127921847009965&lt;br /&gt;کیونکہ فی الوقت بلاگر ڈاٹ کام بالکل صحیح چل رہا ہے اسلئیے تبصرہ کرنے یا بلاگ کرنے میں آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئیے۔ لیکن اگر آپ بلاگر ڈاٹ کام پر بھی لاگ آن نہیں ہوپاتے تو مجھے ای میل بھیجیں میرا پتہ ہے وائے ڈاٹ نعمان ایٹ جی میل ڈاٹ کام۔  &lt;br /&gt;&lt;/li&gt;&lt;/ol&gt;&lt;br /&gt;اور اس پوسٹ کے ساتھ ہی نعمان کی ڈائری پر یہ پچاسویں پوسٹ بھیجی گئی یوں میری ہاف سنچری مکمل ہوگئی۔ بے فکر رہیں میں دس ہزار پوسٹس بھیجنے سے پہلے رکنے والا نہیں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114130647005306952?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114130647005306952/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114130647005306952' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114130647005306952'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114130647005306952'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post_02.html' title='مشکل کشا بابا گوگل کیلیفورنیا والے'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114127921847009965</id><published>2006-03-02T10:52:00.000+05:00</published><updated>2006-03-02T11:00:18.493+05:00</updated><title type='text'>بلاگ اسپاٹ پاکستان میں بلاک</title><content type='html'>پاکستان میں بلاگ اسپاٹ کو حکومت نے بلاک کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق  پچھلے چند دن سے بلاگرز کی ایک بڑی تعداد پاکستان سے بلاگ اسپاٹ کو ایکسس کرنے میں مسلسل ناکام ہے۔ تاہم بلاگر بالکل صحیح کام کررہا ہے اور بلاگرز ابھی بھی بلاگنگ کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بلاگرز کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا چاہئیے دیکھیں خالد عمر کے فورم پر یہ تھریڈ: &lt;br /&gt;&lt;br /&gt; اس سلسلے میں‌ آپ سب لوگوں‌سے گذارش ہے کہ متعلقہ حکام کو کم از کم ایک ای میل بھیجیں‌ تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ آیا حکومت نے واقعی یہ سائٹ بلاک کی ہے یا نہیں۔ اگر ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے پاکستانی ہزارہا بلاگ پڑھنے سے محروم کردئیے گئے ہیں۔ لگتا ہے چینی حکومت نے اپنے آمر دوست کو چین میں یہی مشورے دینے کے لئیے بلایا تھا۔ کہ جس طرح ہم نے گوگل کو تڑی لگا کر اپنی مرضی کے سرچ رزلٹ تیار کروائے ہیں ایسے تم بھی بلاگر کو بند کردو ورنہ کہیں یہ بلاگر کسی دن اسلام آباد کے آبپارہ چوک پر تمہارے ٹینکوں کے آگے نہ آکر کھڑے ہوجائیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ پاکستان &lt;a href="http://www.pta.gov.pk/index.php?option=com_content&amp;task=view&amp;id=275&amp;Itemid=202"&gt;ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ای میل کرکے&lt;/a&gt; اپنے غم اور غصے کا اظہار کریں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114127921847009965?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114127921847009965/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114127921847009965' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114127921847009965'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114127921847009965'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/03/blog-post.html' title='بلاگ اسپاٹ پاکستان میں بلاک'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114110796519494611</id><published>2006-02-28T11:22:00.000+05:00</published><updated>2006-02-28T11:30:35.920+05:00</updated><title type='text'>میں بلاگستانی</title><content type='html'>خاکسار کے بلاگ کا تذکرہ دیگر اردو بلاگز کے ساتھ &lt;a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/02/060227_reba_on_blogs_si.shtml"&gt;بی بی سی اردو پر&lt;/a&gt;۔ بی بی سی پر میرے بلاگ کا لنک آنے سے مجھے رات ایک بجے سے چھ ای میلز آچکی ہیں۔ ایک صاحب احتشام نے رومن اردو میں تبصرہ بھی کیا ہے۔ ایک اور صاحب امجد شیخ نے فیض احمد فیض کی ایک نظم کا اسکین بھیجا ہے جو غالبا فیض صاحب کے ہاتھ سے تحریر کردہ صفحے کا عکس ہے۔ آپ سب دوستوں کی حوصلہ افزائی کا شکریہ۔ امید ہے آپ اپنی آراء اور تبصرہ جات سے نوازتے رہیں گے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;  میں نے ریبا شاہد کے سوالات کے بڑے مفصل جواب دینے کی کوشش کی تھی۔ بی بی سی کے آرٹیکل میں آپ پورا انٹرویو نہیں پڑھ پائیں گے اسلئیے پیش خدمت ہیں ریبا کے سوالات اور میرے جوابات: &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آ پ کو بلاگ  کب سےکر رہے ہیں اور آپ کو  اپنا بلاگ شایع کر نے کا خیال کیسے آیا ؟ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں گذشتہ سال اکتوبر سے بلاگنگ کررہا ہوں۔ دانیال اور چند اور بلاگر اردو میں بلاگنگ کو عام کرنے کے لئیے کام کررہے تھے اسکے لئیے انہوں نے ایک ویب سائٹ بنایا تھا جہاں پر نئے بلاگرز کے لئیے اردو بلاگنگ شروع کرنے کے لئیے مشورے اور رہنمائی کی گئی تھی۔ اسے پڑھتے ہوئے ایسے ہی ایک کوشش کری اور ایک بلاگ بنالیا۔ مگر اسے مستقل بنانے کا خیال تب آیا جب میری پہلی ہی پوسٹ پر آٹھ دس تبصرہ جات آگئے۔ اس سے مجھے احساس ہوا کہ جو کچھ میں لکھ رہا ہوں وہ بیکار نہیں جارہا بلکہ اسے پڑھا جارہا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ  کتنی باقائدگی سے اپنا بلاگ اپ ڈیٹ کر تے ہیں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کبھی کبھی تو روزانہ، کبھی تب جب کوئی اہم واقعہ ہو۔ جیسے پاکستان میں زلزلہ یا کارٹونوں پر ہونے والے حالیہ فسادات۔ یا تب جب میرا کچھ لکھنے کو دل چاہ رہا ہو۔ بنیادی طور پر یہ میرے موڈ پر انحصار کرتا ہے کہ میں کتنی باقاعدگی سے بلاگ اپ ڈیٹ کرتا ہوں۔ بعض مرتبہ تو ہفتہ گزر جاتا ہے اور کچھ نہیں لکھتا۔ &lt;br /&gt; &lt;br /&gt;آپ کے نزدیک بلاگنگ کیا معنی رکھتی ہے؟ دوسرے الفاظ میں آپ کے لیے  انٹرنیٹ پر بلاگ کرنا کتنی اہمیت رکھتا ہے ؟ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بہت زیادہ، روایتی اردو میڈیا چاہے وہ ویب پر ہو یا پرنٹ میں عموما خبروں اور واقعات کو وہ ذاتی رنگ نہیں دے پاتا جو بلاگ دیتے ہیں۔اردو میڈیا بہت سی مصلحتوں کا شکار ہے جبکہ بلاگنگ ایسی مصلحتوں سے بالاتر ہے۔ بلاگنگ میرے لئیے ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے میں اپنے دل کی بات اپنے الفاط میں کہہ سکتا ہوں۔اس کی اہمیت اسلئیے بھی میرے لئیے زیادہ ہے کہ اس کے توسط سے میں پڑھنے والوں کے ایک گروہ سے وابستہ ہوگیا ہوں۔ میرے پڑھنے والے اور دیگر اردو بلاگر جس طرح میری رائے پر اور میں جس طرح ان کی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہوں وہ میرے خیال میں ہماری سوچوں پر ایک بہت مثبت اثر ڈالتا ہے۔ میرے خیال میں بلاگنگ ایک ایسا میڈیم ہے جو اگر پاکستان میں اسی طرح ترویج پاتا رہا تو یہ بہت جلد لوگوں کی آراء پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں آجائے گا۔اس سے پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کو تقویت ملے گی اور معاشرہ صحت مندانہ مباحث کی طرف راغب ہوگا۔ یہ سب کچھ بہت اہمیت رکھتا ہے۔     &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;روزانہ یا اوسطا آپ کتنے وقت گزارتے ہیں:- &lt;br /&gt;اپنا بلاگ آپ ڈیٹ کر نے اور قارئین کے تبصرے پڑھنے میں؟ &lt;br /&gt;دوسرے بلاگرز کی  اپ دیٹز پڑھنے میں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اپنا بلاگ اپ ڈیٹ کرنے میں اور قارئیں کے تبصرے پڑھنے میں اتنا وقت صرف نہیں ہوتا جتنا یہ سوچنے میں ہوتا ہے کہ کیا لکھا جائے۔ اس کے لئیے میں عموما کئی بلاگز پڑھتا ہوں۔ خبریں پڑھتا ہوں فورمز پر ہونے والے مباحثوں میں شرکت کرتا ہوں۔ یوں اگر آپ دیکھیں تو بالواسطہ طور پر میں بلاگنگ کی ہی تیاری کررہا ہوتا ہوں۔ ایک بار مناسب موضوع مل جائے تو پوسٹ لکھنے میں اتنا وقت نہیں لگتا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی موضوع نہیں ہوتا۔ تب میں اپنی روز مرہ کی مصروفیات لکھتا ہوں۔ جس دوارن میں انٹرنیٹ پر نہیں ہوتا تب بھی میں اکثر یہی سوچ رہا ہوتا ہوں کہ آج اپنی دکان پر پیش آنےوالا یہ واقعہ لکھوں گا۔ یا میں کسی دوست سے ملتا ہوں ان سے کوئی بات سنتا ہوں تو اس سے بھی میری بلاگنگ کو مدد ملتی ہے۔ یوں اگر آپ دیکھیں تو بلاگنگ ایک اچھی خاصی لت ہے مگر ایک مثبت لت۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ  نے اپنے بلاگ کر نے کے لیے اردو یعنی مقامی زبان انتخاب ہی کیوں کیا جبکہ انٹرنیٹ پر زیادہ تر مواد اور بلاگز انگریزی میں ہیں ؟ اردو میں بلاگ کرنے  کی کوئی خاص وجہ ؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ مجھے اردو لکھنے میں زیادہ آسانی محسوس ہوتی ہے اور مجھے لکھتے ہوئے زیادہ وقت قواعد اور ہجے کی درستگی میں نہیں گذارنا پڑتا یوں میرا سارا زور اپنے خیالات کی بہتر ترسیل پر ہوتا ہے اور میں زیادہ اچھا لکھ پاتا ہوں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اردو کے پڑھنے والوں کا ایک بڑا گروہ انٹرنیٹ پر پہلے ہی موجود ہے اور میرے خیال میں جو میں لکھتا ہوں وہ اس گروہ کے لئیے زیادہ دلچسپی کا باعث ہوگا۔ آخری وجہ یہ ہے کہ مجھے اردو سے محبت ہے اور جب میں اردو میں لکھ سکتا ہوں تو کیوں نہ لکھوں؟ گرچہ ابھی ویب پر اردو اتنی مقبول نہیں لیکن اگر ہم لوگ اردو کو ویب پر استعمال کریں گے تب ہی تو دوسرے لوگوں کو ترغیب ملے گی۔ مثال کے طور پر آپ یہ دیکھیں کہ بی بی سی اردو کے یونیکوڈ پر بنے ہوئے ویبسائٹ کے بعد کتنی ہی ایسے ویبسائٹ شروع ہوگئے ہیں۔ گرچہ وہ معیاری نہیں ہیں مگر کم از کم اس سے لوگوں کو ترغیب مل رہی ہے۔  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اردو میں بلاگ سیٹ اپ کر نے میں کسی قسم کی تکنیکی دشواری  پیش آئ ؟(مثلا اردو ٹايپنگ یا بلاگ کی سیٹنگ و‏غیرہ میں) ؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اردو ٹائپنگ میں دشواری اسلئیے پیش نہیں آئی کہ ونڈوز ایکس پی میں پہلے ہی اردو سپورٹ موجود ہے۔ لیکن ان کا کی بورڈ لے آؤٹ فونٹیک نہیں تھا جس سے ٹائپنگ بہت دشوار تھی پھر کرلپ نامی ایک پاکستانی ادارے کے فونٹیک کی بورڈ کا پتہ چلا جسے انسٹال کرنے سے ٹائپنگ بہتر ہوگئی اور اب تو میں اردو میں بھی ویسے ہی ٹائپنگ کرسکتا ہوں جیسے انگریزی میں۔  اصل دشواری بلاگ کے ڈیزائن اور اسے ویب پر پڑھے جانے کے لائق بنانے میں پیش آتی ہے۔ تمام مشہور بلاگنگ ذرائع جیسے بلاگر وغیرہ اردو کو سپورٹ تو کرتے ہیں مگر بائی ڈیفالٹ وہ ایسا کوئی ٹیمپلیٹ نہیں دیتے جس سے فورا اردو یا کسی اور مقامی زبان میں بلاگنگ فورا شروع کی جاسکے۔ اس کے لئیے ٹیمپلیٹ میں ایچ ٹی ایم ایل اور سی ایس ایس میں تھوڑی تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔ میں پہلے اس سے بہت خوفزدہ تھا مگر پھر آہستہ آہستہ سیکھتا چلاگیا اور اب میرا بلاگ تقریبا تمام اچھے ویب براؤسرز پر پڑھا جاسکتا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب تک اردو میں  بلاگ کر نے کا تجربہ کیسا رہا  ہے ؟ ( مثلا قارین کاردعمل یا کوئی دلچسپ تجربہ وغیرہ وغیرہ)&lt;br /&gt;بہت اچھا۔ بلاگنگ ایک چھوٹی سی کمیونٹی سے آپ کو جوڑ دیتی ہے۔ مثال کے طور پر میری ایک پوسٹ پر میرے کچھ بلاگر ساتھیوں کو بہت اعتراض ہوا کیونکہ اس میں ایک ایسا لفظ شامل تھا جو گرچہ گلی کوچوں میں عام استعمال ہوتا ہے مگر اردو میں اس کا لکھنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔میرے ایک ساتھی اور بزرگ بلاگر نے ہولوکاسٹ کے منکر بدنام زمانہ ڈیوڈ ارونگ کے بارے میں ایک پوسٹ لکھی۔ مجھے یہ لگا کہ وہ اس بارے میں حقائق سے نظر چرا رہے ہیں اسلئیے جوابا میں نے ڈیوڈ ارونگ اور ڈیبورا لپسڈت کے مقدمے کے بارے میں لکھا۔ جس کے بعد میرے ساتھی بلاگر نے میرا مکمل بائیکاٹ کردیا۔  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt; آپ کے خیال میں مقامی زبان میں بلاگ کر نے کا سب سے مثبت پہلو کیا ہے  ؟ اگر کوئی منفی پہلو ہے تو وہ کیا ہے ؟&lt;br /&gt;مثبت پہلو یہ ہے کہ مقامی زبان میں آپ بین الاقوامی اور مقامی دونوں امور پر مقامی نکتہ نظر سے بحث کرسکتے ہیں۔ آپ پاکستان کے مسائل پر اچھی خاصی بحث کرسکتے ہیں۔ انگریزی میں لکھنے سے آپ اس قاری سے دور ہوجاتے ہیں جس کا ان موضوعات پر ایک نکتہ نظر تو ہوتا ہے مگر وہ اسے بیان نہیں کرسکتا یوں بلاگر ایک مخصوص گروہ تک محدود ہوجاتا ہے جو کہ ان موضوعات سے زیادہ متاثر بھی نہیں ہوتا۔ منفی پہلو یہ ہے کہ آپ ایک بڑی ریڈرشپ سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جیسے حال ہی میں ہونے والے کارٹون فسادات کے بارے میں عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے ۔ اور وہ پاکستانیوں کا نکتہ نظر جاننا چاہتے ہیں مگر چونکہ ہم اردو میں لکھ رہے ہیں اسلئیے وہ اسے پڑھ نہیں پاتے۔ نتیجتا وہ ایک ایسے انگریزی بلاگرز کے گروہ تک محدود رہتے ہیں جو اردو بلاگر سے کافی مختلف نکتہ نظر رکھتا ہے۔&lt;br /&gt; &lt;br /&gt;انٹرنیٹ پر موجود اکثر بلاگز کی مواد کی نوعیت ذاتی تجبروں، تخلیقی  تحریروں سے لے کرسیاسی  و عالمی امور اور واقعات پر تبصروں اور اظہار خیال ہو تی ہے  اور کچھ بلاگرز اپنے علاقہ میں ہو نے والے واقعیات اور حالات  کو اپنے بلاگز پ رپل پل اپ ڈیٹز کی صورت میں شائع کر تے ہیں ـ یوں بلاگز کا خبروں اور نیوز اپ ڈیٹز کے روایتی ذرائع سےموازنہ کیا جا سکتا ہے ؟ &lt;br /&gt;جی ہاں، ایک طرح سے بلاگ انہی نیوز اسٹوریز اور واقعات کو ایک مختلف نکتہ نگاہ سے پیش کرتے ہیں۔ میرے خیال میں بلاگنگ بھی ایک طرح کی صحافت ہی ہے لیکن یہ صحافت تکلفات پر کم دھیان دیتی ہے اور پڑھنے والوں کو ایک الگ زاویہ دکھاتی ہے۔  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ کے خیال میں بلاگ معاشرتی یا عالمی تبدیلیاں لانے میں کوئی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ؟ کیسے ؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بلاگ معلومات کے سیلاب کی رفتار کو بے پناہ تیز کردیں گے۔ معلومات کے علاوہ آراء کی اسقدر وافر فراوانی نوع انسانی کو پہلے میسر نہیں تھی۔ امریکی الیکشن کو دیکھیں یا پاکستان میں آنے والے زلزلے کو بلاگرز نے معاشرے پر اثر ڈالنا شروع کردیا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ اثر بڑھے گا کم نہیں ہوگا۔ اور جب عالمی سطح پر ایسا ہوگا تو یقینا پاکستان بھی اس سے بچا نہیں رہ سکے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نوٹ: آج رات سے ہی میں کسی بھی بلاگ اسپاٹ ہوسٹڈ بلاگ کو وزٹ کرنے سے قاصر ہوں۔ میں نے دو آئی ایس پی بدل کر دیکھیں مگر یا تو بلاگ اسپاٹ ڈاؤن ہے یا شاید۔ ۔ ۔ اللہ نہ کرے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114110796519494611?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114110796519494611/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114110796519494611' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114110796519494611'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114110796519494611'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/02/blog-post_28.html' title='میں بلاگستانی'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114099076501430226</id><published>2006-02-27T02:33:00.000+05:00</published><updated>2006-02-27T04:54:30.083+05:00</updated><title type='text'>احتجاج اور حکومتی ڈرامہ</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/karachi-rally2.2.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/karachi-rally2.2.jpg" alt="کراچی ریلی ۱" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/karachi-rally.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/karachi-rally.jpg" alt="کراچی ریلی ۲" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/karachi-rally3.2.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/karachi-rally3.2.jpg" alt="کراچی ریلی ۳" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;آج جہاں لاہور میں گرفتاریاں اور پولیس کاروائیاں جاری تھی وہیں کراچی میں غیر ملکی نامہ نگاروں (&lt;a href="http://www.washingtonpost.com/wp-dyn/content/article/2006/02/26/AR2006022600943.html"&gt;واشنگٹن پوسٹ&lt;/a&gt; ، &lt;a href="http://www.jpost.com/servlet/Satellite?cid=1139395493149&amp;pagename=JPost%2FJPArticle%2FShowFull"&gt;یروشلم پوسٹ&lt;/a&gt;)کے مطابق پچیس ہزار سے زائد لوگوں نے پرامن ریلی میں شرکت کی۔ نہ کہیں کوئی توڑ پھوڑ ہوئی نہ پتھراؤ، کوئی جلاؤ گھیراؤ نہیں ہوا اور پولیس نے کسی بھی مقام پر کسی بھی شخص کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا۔ توہین آمیز خاکوں کے خلاف یہ اسی مہینے میں دوسری پرامن ریلی ہے۔ کوئی ہفتہ دس دن پہلے بھی کراچی میں جماعت اہلسنت کے زیرانتظام پرامن ریلی ہوئی تھی جس میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگ شریک تھے۔ یہ ریلی ٹھیک لاہور کی ہنگامہ آرائی کے دو دن بعد ہوئی تھی اور اس میں بھی کوئی گربڑ نہیں ہوئی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پتہ نہیں کیوں مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت حیرت انگیز بات ہے کہ کراچی میں پچیس ہزار لوگوں کو ریلی نکالنے کی اجازت دے دی جاتی ہے، جبکہ لاہور میں لوگوں کو نظر بند کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ کراچی میں تو ایم کیو ایم کی حکومت ہے جنہیں اسلامی جماعتوں سے اللہ واسطے کا بیر ہے۔ لیکن سندھ اسمبلی میں خاکوں کے خلاف احتجاج پر &lt;a href="http://news.google.com.pk/news/url?sa=t&amp;amp;ct=us/0-0&amp;fp=44027ea6feccab16&amp;amp;ei=OzgCRI7VMsy2wQG1zdzSAg&amp;url=http%3A//www.geo.tv/main_files/pakistan.aspx%3Fid%3D107939&amp;amp;cid=0"&gt;مکمل ہم آہنگی&lt;/a&gt; ہے حتی کہ سندھ کے وزیراعلی اور وزیر داخلہ بھی ریلی میں شرکت کرچکے ہیں اور میرے خیال میں شاید آج کسی وقت سندھ اسمبلی سے کراچی پریس کلب تک مارچ کا بھی پروگرام ہے۔ کراچی جو کہ پرتشدد ہنگاموں کے حوالے سے مشہور رہ چکا ہے۔  اس کے باوجود آج کراچی میں  قریبا پچیس ہزار لوگوں نے توہین آمیز خاکوں کے خلاف  مکمل پرامن ریلی میں شرکت کی۔ نہ ہی کوئی پتھراؤ ہوا نہ ہی کوئی گاڑی جلائی گئی۔ یہ دو بڑی ریلیاں ان جلسے جلوسوں کے علاوہ ہیں جو ہر چھوٹی بڑی تنظیم صبح شام نکال رہی ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جبکہ لاہور میں حکومت پنجاب نے پہلے جلوس کو تو ہنگامہ آرائی کرنے کی کھلی چھوٹ دئیے رکھی۔ مگر دوسری ریلی کو بدترین طاقت کا استعمال کرکے ناکام بنادیا۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنان پر بد ترین تشدد کیا گیا۔ جس وحشیانہ طریقے سے پولیس ان پر لاٹھی چارج کررہی تھی اسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ یہ لوگ کسی انتہائی سنگین جرم میں مطلوب ہیں۔ لوگوں کو گریبانوں سے پکڑ کر ٹرکوں میں پھینکا گیا ہے۔ کئی لوگ پولیس تشدد سے زخمی ہوئے ہیں اور کئی مقامات پر پولیس نے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا ہے۔ اسلام آباد میں بھی لاٹھی چارج اور آنسوگیس کا استعمال کیا گیا ہے۔ جتنی قابل مذمت لاہور اور پشاور میں ہونے والی ہنگامہ آرائی ہے اتنی ہی قابل مذمت یہ بھیانک پولیس کاروائی بھی ہے۔ یہ کاروائی نہ صرف انسانیت سوز ہے بلکہ ہمارے لئیے شرم کا مقام ہے کہ ہماری پولیس عوام کو بھینس بکری سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی اور لوگوں کا خون بہا کر امن برقرار رکھتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; اگر حکومت اتنی ہی خوفزدہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ کراچی میں کوئی ہنگامہ آرائی نہیں ہوسکی؟ کیا وجہ ہے کہ لاہور میں لوگوں کو روکا گیا اور کراچی میں نہیں روکا گیا۔ اگر حکومت پنجاب کو اتنا ہی خوف ہے تو کیوں نہ انہوں نے لاہور میں کرفیو ہی لگادیا ہوتا کم از کم اسطرح پولیس تشدد کی یہ تصویریں تو لوگوں کے سامنے نہ آتیں۔ ایک طرف تو میراتھن جیسے فضول کام کو آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور لاہور کے شہریوں کے لئیے ضروری قرار دیا جاتا ہے دوسری طرف ایک اہم مسئلہ پر جس پر پوری قوم متفق ہے اس پر لوگوں کو احتجاج نہیں کرنے دئیے جاتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حکومتی ارکان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں کارٹون ایشو کا سیاسی مقاصد کے لئیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ صحیح لیکن میرے خیال میں سیاست اسی کا نام ہے اور پاکستان کا کوئی قانون سیاسی پارٹیوں کو ایشوز ایکسپلائٹ کرنے سے نہیں روکتا بلکہ حقیقتا یہی تو جمہوریت کی روح ہے۔ مگر لوٹا لیگ کے وزراء بیچارے جو بی اے فیل ہوکر وزیر اطلاعات لگ گئے ہیں انہیں کیا پتہ جمہوریت اور آزادی کس چڑیا کا نام ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اس ملک میں لوگوں کی آزادیاں سلب کرنے کے لئیے ایسے ڈرامے کئیے جارہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ حکومتی پارٹیوں کے ارکان اپنا وقت  امن و عامہ کو یقینی بنانے میں صرف کرتے۔ اگر تھوڑ پھوڑ اور تشدد سے پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے تو کیا اس وحشیانہ سلوک سے پاکستان کو موڈریٹ ملک کا تمغہ مل جائے گا؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کراچی میں احتجاج کے شاید پرامن ہونے کہ وجہ یہ ہے کہ یہاں تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں میں اس حوالے سے نہ صرف اتفاق رائے ہے بلکہ تعاون بھی جاری ہے۔ عیسائی اور ہندو برادری تک ایک زبان ہے۔ لیکن شاید پنجاب کے حکمرانوں کے منہ میں زبان نہیں اور اگر ہے تو شاید وہ بک چکی ہے۔ حالانکہ میں جلسے جلوسوں کو اچھا نہیں سمجھتا مگر میرے خیال میں پاکستانیوں کو پورا حق ہونا چاہئیے کہ وہ جلسے جلوس نکالیں اور احتجاج کریں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نیچے والی تصاویر لاہور میں ہونے والی پرتشدد پولیس کاروائی کی ہیں جبکہ اوپر والی تین تصویروں میں سے پہلی دو کل ہونے والے پر امن جلوس اور تیسری سولہ فروری کو ہونے والے جلوس کی ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/lahore-rally.2.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/lahore-rally.2.jpg" alt="لاہور ریلی ۱" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/lahore-rally3.2.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/lahore-rally3.2.jpg" alt="لاہور ریلی ۲" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/lahore-rally2.2.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/lahore-rally2.2.jpg" alt="لاہور ریلہ ۳" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/lahore-rally4.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/lahore-rally4.jpg" alt="لاہور ریلی ۴" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114099076501430226?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114099076501430226/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114099076501430226' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114099076501430226'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114099076501430226'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/02/blog-post_27.html' title='احتجاج اور حکومتی ڈرامہ'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114064515361021861</id><published>2006-02-23T02:39:00.000+05:00</published><updated>2006-02-23T02:52:34.030+05:00</updated><title type='text'>گر جہنم بروئے زمیں است</title><content type='html'>کراچی ان دنوں ٹریفک اور گندگی کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ شہری حکومت نے شہر کی صفائی کو پرائیویٹائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جب سے یہ فیصلہ ہوا ہے شہر کی سڑکوں پر گندگی کے انبار میں کچھ اور اضافہ ہوگیا ہے۔ حالانکہ ابھی اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا مگر اس پرائیویٹائزیشن سے شہری حکومت کے ہزاروں ملازمین کی نوکریاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ غالبا اسی حوصلہ شکنی کے سبب صفائی کا پہلے سے ناقص نطام مزید بحران کا شکار ہوگیا ہے۔ اوپر سے کھدائیاں جو ہمارے عظیم ناظم اعلی کے کراچی وژن کا اہم حصہ ہیں۔ کھدائیوں کی کہانی یہ ہے کہ شہر کی یوٹیلیٹیز کو باقاعدہ منظم کیا جائے تاکہ آئندہ پانی، گیس، ٹیلیفون وغیرہ کی لائنیں بچھانے میں کم سے کم لاگت آئے اور سڑکیں بھی زیادہ متاثر نہ ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس گندگی اور گرد و غبار پر سٹی ناظم مصطفی کمال کے پیٹ میں اچانک مروڑ اٹھا اور انہوں نے آئی آئی چندریگر روڈ پر پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے کو بھی بند کردیا۔ یہ سڑک کراچی کی انتہائی اہم شاہراہ ہے۔ پاکستان کی وال اسٹریٹ جہاں اکثر پاکستانی بینکوں اور قومی بینک کے ہیڈکوارٹر، سینکڑوں ملٹی نیشنل، ٹریول ایجنسیز، منی ایکسچنجر، اسٹاک بروکرز، سٹی ریلوے اسٹیشن، میڈیا کے ہیڈکوارٹرز اور پتہ نہیں کیا کیا واقع ہے۔ ہزاروں لوگ یہاں موجود دفاتر میں کام کرنے آتے ہیں اور لاکھوں لوگ اس سڑک سے گذرتے ہیں۔ شہری حکومت کے عظیم منصوبے کی وجہ سے صرف یہ سب لوگ ہی پریشانی کا شکار نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس سڑک کے بند ہونے سے پورا ایم اے جناح روڈ اور میلوں دور تک کی سڑکیں ٹریفک کے بحران سے گذر رہی ہیں۔ روزانہ لاکھوں شہری شہر کی سڑکوں پر قومی معیشت کے اتنہائی قیمتی گھنے ضائع کررہے ہیں۔ کروڑوں روپے کا پیٹرول ضائع ہورہا ہے۔ لوگوں کو پہنچنے والی ذہنی اذیت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شہری حکومت کا موقف یہ ہے کہ یہ منصوبہ انتہائی ضروری ہے۔ منصوبہ کیا ہے اس بارے میں زیادہ &lt;a href="http://dawn.com/2006/02/22/local6.htm"&gt;تفصیلات&lt;/a&gt; میسر نہیں۔ اس منصوبے پر دوسو ملین روپے کی لاگت آئے گی۔ تمام یوٹیلیٹیز کو کھود کر منظم کیا جارہا ہے۔ کراچی میٹروبلاگ کی ہما آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کسی دفتر میں کام کرتی ہیں۔ ان کی &lt;a href="http://karachi.metblogs.com/archives/2006/02/iic_road.phtml"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; یہ ہے کہ پورا علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کررہا ہے۔ دھول، مٹی اسقدر ہے کہ آنکھیں کھلی رکھنا محال ہے۔ پیدل چلنے کے لئیے بھی سڑک انتہائی خطرناک ہوگئی ہے کیونکہ تمام فٹ پاتھ اور اطراف کی گلیاں کھدائی کا شکار ہیں۔ پیدل چلنے والے لوگوں کو سڑک پر چلنا پڑ رہا ہے۔ جہاں پرائیوٹ ٹرانسپورٹ اندھا دھند چل رہا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں بذات خود آئی آئی چندریگر روڈ  جاکر معائنے کی جسارت نہیں کرسکتا کہ اسکے لئیے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے۔ لیکن ایک تو میں آئی آئی چندریگر سے کچھ ہی دور رہتا ہوں، دوسرا یہ کہ میں روزانہ شام کو ایم اے جناح روڈ سے گذرتا ہوں اسلئیے میں اندازہ کرسکتا ہوں کہ شہر میں ٹریفک کی کیا صورتحال ہوگی اور میرے خیال میں یہ ایک بہت غلط فیصلہ ہے۔ ترقیاتی کام کی ضرورت سے کسی کو انکار نہیں۔ مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ شہری حکومت سڑک بند کئیے بغیر یہ کام انجام دیتی۔ رات بھر کام کیا جاتا اور دن میں سڑک پر کسی نہ کسی طرح ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جاتی۔ جب پرائیوٹ ٹرانسپورٹ جیسے کار رکشہ ٹیکسی وغیرہ کو رواں رکھا جارہا ہے تو پبلک ٹرانسپورٹ کی بسوں سے کیا آفت آجاتی؟ گرچہ یہ منصوبہ مارچ میں ہی مکمل ہوجائیگا مگر تب تک پتہ نہیں کتنے ہی مریض ایمبولینسوں میں ہی دم توڑ دیں گے۔ فیصل ایدھی نے کل جنگ کو بتایا ہے ان کی ایمبولینس میں کل ایک مریض نے ادارہ برائے امراض قلب پہنچنے سے پہلے دم توڑ دیا۔ اگر مریض کو بروقت ہسپتال پہنچایا جاسکتا تو شاید اس کی جان بچ جاتی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/IIChundrigar_Karachi.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/IIChundrigar_Karachi.jpg" alt="آئی آئی چندریگر روڈ" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/karachi_traffic_jam.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/karachi_traffic_jam.jpg" alt="تین ہٹی پل ٹریفک جام" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/karachi_traffic_jam2.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/karachi_traffic_jam2.jpg" alt="ایم اے جناح روڈ نزد بولٹن مارکیٹ" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114064515361021861?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114064515361021861/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114064515361021861' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114064515361021861'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114064515361021861'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/02/blog-post_23.html' title='گر جہنم بروئے زمیں است'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114017949703604670</id><published>2006-02-17T17:30:00.000+05:00</published><updated>2006-02-17T17:31:37.056+05:00</updated><title type='text'>بلاگ پول کے نتائج</title><content type='html'>چند روز پہلے میں نے اپنے بلاگ پر ایک پول کروایا تھا جس میں پڑھنے والوں سے پوچھا گیا تھا کہ ڈنمارک میں احتجاج کا مناسب ترین طریقہ کونسا ہے۔ اس سلسلے میں انہیں چار آپشن دئیے گئے تھے۔ جو کہ یقینا کم تھے احتجاج کے چند موثر طریقے جن کا ذکر کل کی پوسٹ میں تھا وہ یقینا اس پول میں شامل ہونا چاہئیے تھے مگر جس وقت یہ پول شروع کیا گیا تھا اس وقت تک لاہور اور پشاور کے فسادات شروع نہیں ہوئے تھے۔ فسادات کے بعد ہی میں اس بارے میں زیادہ پڑھنے پر مجبور ہوا اور موثر طریقوں تک پہنچا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پول پر  سترہ لوگوں نے رائے دی نتائج درج ذیل ہیں۔:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; کارٹون چھاپنے والے ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ &lt;span class="english" lang="en"&gt;52.9 % - 9 votes&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;اس سارے احمقانہ سلسلے سے لاتعلقی اختیار رکھی جائے۔ &lt;span class="english" lang="en"&gt;29.4 % - 5 votes&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پرامن احتجاجی مظاہرے &lt;span class="english" lang="en"&gt;11.8 % - 2 votes&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;سفیروں کی طلبی اور یورپ کا سیاسی بائیکاٹ &lt;span class="english" lang="en"&gt;5.9 % 1 vote&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114017949703604670?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114017949703604670/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114017949703604670' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114017949703604670'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114017949703604670'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/02/blog-post_17.html' title='بلاگ پول کے نتائج'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-114006401044388894</id><published>2006-02-16T09:03:00.000+05:00</published><updated>2006-02-16T09:26:50.516+05:00</updated><title type='text'>ایک دوسرے ڈنمارک سے ایک خط</title><content type='html'>&lt;a href="http://www.anotherdenmark.org/letter#urdu"&gt;یہاں پر ڈنمارک کے شہریوں کی طرف سے ایک خط ہے مسلمان دنیا کے نام&lt;/a&gt;۔ اس خط کو اردو کے علاوہ کئی اور زبانوں میں یہاں پڑھا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی ہزاروں ڈینش شہریوں کے تبصرہ جات بھی پڑھے جاسکتے ہیں جس میں انہوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مشہور مصری بلاگر سینڈ منکی نے مسلمانوں کو احتجاج کے انتہائی موثر اور حقیقی طریقے بتائیں ہیں۔ جن میں سے میرے پسندیدہ طریقے درج زیل ہیں:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;ul&gt;&lt;li&gt;ڈنمارک سمیت پورے یورپ میں نبی پاک کی زندگی کے بارے میں ایک نمائش کا بندوبست کیا جائے جو یورپی عوام کو سیرت طیبہ سے روشناس کرائے۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;دی میسیج نامی فلم کا ڈینش سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ کرکے یورپ میں مفت دکھایا جائے۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;قرعہ اندازی کے ذریعے یورپ سے سو بچوں کو اسلامی دنیا کے عام سے سو گھرانوں کے ساتھ ایک ہفتہ گزارنے کے لئیے بلایا جائے۔ تاکہ انہیں پتہ چلے کہ مسلمان کتنے امن پسند اور محبت کرنے والے لوگ ہیں اور یہ بھی پتہ چلے کہ مسلم ملکوں کا کلچر ان کا معاشرہ کیسا ہے۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;سیرت طیبہ پر ایک ایسا ویب سائٹ بنایا جائے جو تمام یورپی زبانوں میں دستیاب ہو۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;یورپی عوام سے انٹرنیٹ کے ذریعے انٹرایکٹ کیا جائے۔&lt;br /&gt;&lt;/li&gt;&lt;/ul&gt;اسلام امن، محبت، بھائی چارے اور برداشت کا دین ہے۔ ہمارے نبی پاک نے ہمیں صبر اور برداشت کی تعلیم دی ہے۔ ہم اس نبی کے امتی ہیں کہ جس نے اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف کردیا۔ ہم اس نبی کے امتی ہیں جس نے بغیر خون بہائے مکہ فتح کیا ۔ کونسا راستہ اچھا ہے؟ سیرت طیبہ کی تبلیغ کا راستہ یا نبی کی تعلیمات کیخلاف تشدد کا راستہ؟&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-114006401044388894?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/114006401044388894/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=114006401044388894' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114006401044388894'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/114006401044388894'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/02/blog-post_16.html' title='ایک دوسرے ڈنمارک سے ایک خط'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113945148013342412</id><published>2006-02-09T07:16:00.000+05:00</published><updated>2006-02-09T07:18:00.153+05:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>میری بہن نورالعین آج دوپہر میں کسی وقت پاک پتن اور لاہور کے دورے کے بعد وطن واپس پہنچیں گی۔ نورالعین کی ساس پاک پتن والے بزرگ کو بہت مانتی ہیں اور انہوں نے وہاں کچھ ایسی منت مانگ رکھی تھی کہ وہ اپنی بہو کو وہاں کسی سال ضرور لے جائیں گی۔ میری بہن اور بہنوئی ان چیزوں کو نہیں مانتے۔ جس دن انہیں پاک پتن روانہ ہونا تھا اسی دن اعجاز بھائی (میرے بہنوئی) کو بھی پنجاب بھینسیں خریدنے جانا تھا۔ مناہل کو وہ لوگ ہمارے پاس چھوڑ گئے ایک دو دن تو پریشانی ہوئی کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ مناہل کہ امی ابو دونوں اسے چھوڑ کر جارہے تھے۔ لیکن مناہل بہت جلد ہی بہل گئی بس دن میں ایک دو بار اسے اچانک امی ابو کی یاد آنے لگتی تو ہم اس کی ممی کو فون کروادیتے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پاک پتن سے نورالعین اور ان کے سسرال والے لاہور چلے گئے اور پنجاب سے اعجاز بھائی بھی ان کے پاس لاہور ہی پہنچ گئے اور اطلاعات یہ ہیں کہ ان تین دنوں میں انہوں نے لاہور میں سوائے خریداری کے کچھ نہیں کیا۔ نہ شالامار باغ دیکھا، نہ قلعہ، بس دور سے بادشاہی مسجد دیکھی۔ حالانکہ لاہور میں شاپنگ کی ایسی کیا چیز ہے جو کراچی میں نہیں تھوڑا سا پیسوں کا انیس بیس کا پھیر ہوتا لیکن خواتین کو تو بس ایک یہ ہی تفریح نظر آتی ہے۔ اور پھر عینی کی ساس تو خریداری کے حوالے سے مشہور ہیں۔ مناہل کے لئیے انہوں نے کلرنگ پنسلز، کتابیں، اسٹیشنری اور دیگر ایسا سامان لیا ہے۔ مناہل کو رنگوں اور فطری مناطر میں بہت دلچسپی ہے اسکے علاوہ ڈرائنگ کا بھی اسے بہت شوق ہے۔ ماشاءاللہ اس میں ابھی سے کافی فنکارانہ رجحان دکھائی دیتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اسے ابھی پنسل بھی پکڑنا نہیں آتی تاہم اس کے شاہکار کسی بھی اچھی آرٹ گیلری میں تجریدیت کے نام پر فروخت کئیے جاسکتے ہیں۔ خصوصا اس کے بنائے ہوئے ہاتھی جو عموما گلابی یا نیلے رنگ کے ہوتے ہیں یا پھر اس کی بنائی ہوئی چڑیا جو عموما تین چار گول اشکال پر مشتمل ہوتی ہے اور سرخ رنگ کی ہوتی ہے۔ ویسے مجھے تجریدی آرٹ کا کچھ پتہ نہیں ہے بس سن رکھا ہے کہ اس میں اشکال نظر نہیں آتیں آرٹسٹ بس بتادیتا ہے کہ یہ گھر ہے، یا پہاڑ ہے یا کوئی برتن ہے اور آپ کو یقین کرنا پڑتا ہے۔ مناہل کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے وہ ڈرائنگ کرکے ہمیں بتادیتی ہے کہ یہ ہاتھی ہے یا ڈاگی ہے اور ہمیں یقین کرنا پڑتا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کل رات میں مناہل کو تعزئیے دکھانے لے گیا۔ مناہل کی جو بات مجھے سب سے اچھی لگتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے ایسے کسی کھلونے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی جس سے تشدد کا اظہار ہوتا ہو۔ محرم کی نو تاریخ میں پرانے شہر کے علاقوں میں جہاں تعزئیے لگتے ہیں وہاں ماننے اور نہ ماننے والوں کے ہجوم لگ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ خانہ بدوش گروہ اس موقع پر سندھ سے بطور خاص آتے ہیں یہ لوگ سڑکوں پر چادریں بچھا کر رنگ برنگی تلواریں، نقشین تیر کمان، کلہاڑے وغیرہ بیچتے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ مناہل ان میں سے کچھ مانگے گی کیونکہ یہ چیزیں بہت کلرفل ہوتی ہیں اور مناہل کو رنگوں سے بہت دلچسپی ہے۔ لیکن مناہل نے ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اس کے بجائے مناہل نے ربڑ کا ایک چھوٹا سا چوہا خریدا ہے، ایک کاغذ کی گلابی اور پیلے رنگ کی ٹوپی، ایک بال پین جس کی نوک دبانے سے اس میں ایک بلب جلتا ہے اور چھوٹی سی ڈھولکی۔ بعد میں ہم نے مناہل کے لئیے چکن تکہ لیا اور گھر آگئے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113945148013342412?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113945148013342412/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113945148013342412' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113945148013342412'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113945148013342412'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/02/blog-post_113945148013342412.html' title=''/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113944828876720394</id><published>2006-02-09T06:12:00.000+05:00</published><updated>2006-02-09T06:27:10.883+05:00</updated><title type='text'>احتجاج، کیسے؟</title><content type='html'>ڈنمارک میں چھپنے والے متعصب کارٹونوں پر احتجاج کا مناسب ترین طریقہ کونسا ہے؟&lt;br /&gt;&lt;ul&gt;&lt;li&gt;کارٹون چھاپنے والے ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ ۔ معاشی بائیکاٹ&lt;/li&gt;&lt;li&gt;پرامن احتجاجی مظاہرے&lt;/li&gt;&lt;li&gt;سفیروں کی طلبی اور یورپ کا سیاسی بائیکاٹ&lt;/li&gt;&lt;li&gt;یا یہ کہ اس سارے احمقانہ سلسلے سے لاتعلقی اختیار رکھی جائے۔&lt;/li&gt;&lt;/ul&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ووٹ ڈالنے کے لئیے میرے بلاگ کی سائیڈ بار میں آپشن موجود ہیں اور تبصرہ کرنے کے لئیے یہ پوسٹ استعمال کریں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113944828876720394?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113944828876720394/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113944828876720394' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113944828876720394'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113944828876720394'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/02/blog-post_09.html' title='احتجاج، کیسے؟'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113908801668574471</id><published>2006-02-05T02:19:00.000+05:00</published><updated>2006-02-05T02:20:16.760+05:00</updated><title type='text'>بھارتی اور پاکستانی معاشرے</title><content type='html'>جیو کے پروگرام پچاس منٹ میں بھارتی ہدایتکار سدھیر، پوجا بھٹ اور اداکار ڈینوموریا آئے۔ موضوع گفتگو پاکستانی مارکیٹ میں ہندوستانی فلموں کی کھلے عام نمائش تھا۔ اس بات سے قطع نظر کہ پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش ہونی چاہئیے یا نہیں، دوران بحث دونوں معاشروں کا تضاد مجھے بہت واضح محسوس ہوا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک کھلے معاشرے کے فنکار جو حاضرین کو یہ بتا رہے تھے کہ بھائی ہم تو فنکار ہیں ہمارا کام تو فلم بنانا ہے اور لوگوں کو تفریح فراہم کرنا ہے۔ اس کی مورل ویلیو کیا ہے، وہ اچھی فلم ہے یا بری، اسے دیکھنا چاہئیے یا نہیں یہ فیصلہ کرنا تو عوام کا کام ہے نہ کہ سیاستدانوں کا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بند معاشرے کی پیداوار پاکستانیوں کے سوال مضحکہ خیز حد تک دوغلے اور کھوکھلے تھے۔ زیادہ تر لوگوں کو کنسرن یہ تھا کہ کیا ہندوستانی فلمیں ہماری اخلاقی اور سماجی اقدار پر اثر انداز نہیں ہونگے۔ حالانکہ پاکستان کا وہ کونسا شہر، دیہات یا قصبہ ہے جہاں بھارتی فلمیں دس روپے میں دستیاب نہ ہوں؟ ہر روز لاکھوں پاکستانی بھارتی فلمیں دیکھ رہے ہیں اور پچھلے پچاس سال سے دیکھ رہے ہیں۔ آج تک تو پاکستان کی سماجی اقدار کو کچھ ہوا نہیں جو بھارتی فلموں کے سینما پر لگنے سے ہوجائے گا۔ لیکن بھارتی وفد نے یہ طنز نہیں مارا۔ پوجا بھٹ نے کہا کہ جیسی ذومعنی فلمیں آپ کے پاکستان میں بنتی ہیں اور بنتی رہی ہیں میں ویسی فلم نہیں بناسکتی۔ میں خود بہت ساری مشکوک پنجابی اور پشتو فلمیں دیکھ چکی ہوں جب وہ فلمیں سینما پر چل سکتی ہیں تو 'جسم' کیوں نہیں؟ دوسرے ہدایتکار سدھیر کا کہنا تھا کہ ہم تو فنکار ہیں ہم فلم اپنی سوچ کے مطابق بناتے ہیں اب وہ لوگوں کے معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں یہ فیصلہ کرنا تو پاکستانی عوام کا کام ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یعنی کہ دوغلے پن کی انتہا یہ ہے کہ آپ ان کی فلمیں دیکھ بھی رہے ہیں اور پھر فکر مند بھی ہیں کہ سینما پر لگنے سے پتا نہیں کیا قیامت آجائی گی۔ بات صرف اتنی ہے کہ اس ملک کی عوام کے دماغ بالکل بند ہوگئے ہیں۔ حالانکہ پورا پاکستان خوش ہوگا کہ ہندوستانی فلمیں پاکستان میں سینماؤں پر دیکھی جائیں مگر نہیں جی ہم تو ٹی وی پر آرہے ہیں ہم ضرور ہی اپنی بند ذہنیت کا مظاہرہ کرکے اپنے معاشرے کی سب سے بڑی کمزوری عیاں کریں گے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113908801668574471?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113908801668574471/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113908801668574471' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113908801668574471'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113908801668574471'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/02/blog-post.html' title='بھارتی اور پاکستانی معاشرے'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113849857208871450</id><published>2006-01-29T06:34:00.000+05:00</published><updated>2006-01-29T06:36:12.343+05:00</updated><title type='text'>لاہور میراتھون ریس</title><content type='html'>لاہور میں آج میراتھون دوڑ ہورہی ہے۔ کوئی چھ مہینے پہلے جب عاصمہ جہانگیر اور دیگر لوگوں نے حقوق انسانی اور آزاد خیالی کے لئیے مخلوط دوڑ کرنا چاہی تھی تو اسی آزاد خیال حکومت نے انہیں حوالات میں ڈال دیا تھا۔ بقول حکومت مجلس کی وارننگ کی وجہ سے نقص امن کا ڈر تھا۔ اب اسی صوبے کی حکومت دوڑ کرارہی ہے اور آزاد خیالی کا شور مچارکھا ہے۔ آزاد خیالی یا غیر آزاد خیالی کا میراتھون سے کیا تعلق ہے؟ مجھے خواتین کی اس مخلوط ریس پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن جس طرح دوڑ کو آزاد خیالی سے منسوب کیا جارہا ہے وہ مضحکہ خیز ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مجھے جماعت اسلامی کی اس بات سے پورا اتفاق ہے کہ یہ نان ایشوز کو ہائی لائٹ کرنے کا پرانا حکومتی حربہ ہے۔ میں اس میں یہ اضافہ کرونگا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ کی طرح آمروں کی ہر ایسے حربے کو بھرپور طریقے سے کامیاب کراتی ہے تاکہ عوام کی توجہ باجوڑ، بلوچستان، وزیرستان اور زلزلہ زدگان سے ہٹی رہے۔ جماعت اسلامی نے کبھی پیٹرول کی قیمتوں، بسنت، مہنگائی کے لئیے اتنا زبردست احتجاج کیا ہوتا تو شاید ہمیں خود آزاد خیال ثابت کرنے کے لئیے دوڑیں نہ لگانا پڑتیں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113849857208871450?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113849857208871450/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113849857208871450' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113849857208871450'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113849857208871450'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/01/blog-post_29.html' title='لاہور میراتھون ریس'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113696661615824978</id><published>2006-01-11T12:31:00.000+05:00</published><updated>2006-01-11T13:03:36.206+05:00</updated><title type='text'>مذہبی اسپورٹس</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/yousaf-say-prayers.3.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/yousaf-say-prayers.3.jpg" alt="پاکستانی کھلاڑی نماز ادا کر رہے ہیں" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اخباری &lt;a href="http://jang.com.pk/jang/jan2006-daily/11-01-2006/sports/sp1.gif"&gt;اطلاعات&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم آج رائے ونڈ میں ایک اجتماعی دعا میں شرکت کرے گی۔ اس خصوصی دعا کا اہتمام پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہی لئیے کیا گیا ہے جہاں ان کی کامیابی کے لئیے دعا مانگی جائے گی۔ کاش جیو یا کوئی اور چینل اس دعا کا منظر ٹیلی کاسٹ کرسکیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ وہاں کیا دعا کی جائے گی۔ میرے خیال میں کچھ ایسی دعا کی جائیگی "اے اللہ &lt;a href="http://www.mypakistan.com/?p=141"&gt;مسلمانوں کی کرکٹ ٹیم&lt;/a&gt; کو ہندوؤں اور کافروں پر غلبہ عطا فرما۔" ہمارے ایک ساتھی اردو بلاگر انگلستان کے خلاف پاکستان کی سیریز میں اپنے بلاگ پر اس قسم کی دعا کرچکے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک اردو بلاگر شیخو صاحب کا بھی ایک ہندو بنئیے سے &lt;a href="http://www.webmaza.com/sheikho/?p=17"&gt;شطرنج کا مقابلہ&lt;/a&gt; ٹہرا ہے۔ امید ہے وہ بھی مقابلہ جیتنے کے لئیے اللہ کے سر بسجود ہوکر ہندو کے خلاف کامیابی کی دعا مانگ چکے ہونگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/indians-cricket-prayers.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/indians-cricket-prayers.jpg" alt="بھارتی ٹیم کی کامیابی کے لئیے پوجا" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہوسکتا ہے بھارتی ٹیم کے کھلاڑی بھی کسی مندر، مسجد، گردوارے وغیرہ کے پھیرے لگا چکے ہوں۔ اور اپنے اپنے عقیدے کے مطابق دعائیں کرچکے ہوں کہ اے بھگوان تو ہمیں ان پلید مسلوں پر وجے کر۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یعنی اب اگر پاکستانی جیتتے ہیں تو دعاؤں کی وجہ سے اور ہارتے ہیں تو سٹہ بازی کی وجہ سے، ہندو کے بھگوان کی پراتھنا تو قبول ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہی صورتحال غالبا ہندو مذہب پرستوں میں ہوگی، کہ اگر بھارتی ٹیم جیت گئی تو بھگوان کی کرپا سے اور ہار گئی تو گنگولی کی بری کارکردگی سے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ دن اور گزریں گے کہ بازار میں پانچ پانچ روپے میں ایسے کتابچے دستیاب ہونگے:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;"ہر میچ میں سنچری بنانے کے خصوصی وظائف اور دعائیں"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور دیواروں پر ایسے اشتہار نظر آئیں گے:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;"سیلیکشن بورڈ آپکے قدموں میں داڑھی کیمرے اور دو رکعت نماز نفل کی بدولت پاکستان کرکٹ ٹیم میں مستقل جگہ بنائیے اگر آپکے کوئی انکل پاکستان آرمی میں ہیں تو آپ کیلئیے خصوصی ڈسکاؤنٹ۔ اگر آپ غیر مسلم ہیں تو کیمرے کی ضرورت نہیں جیسے ہی &lt;a href="http://in.rediff.com/cricket/2004/apr/06inter.htm"&gt;دانش کنیریا&lt;/a&gt; اسلام قبول کرے گا ویسے ہی آپکو اقلیتی نشست پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر دستیاب ہوگی۔"&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113696661615824978?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113696661615824978/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113696661615824978' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113696661615824978'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113696661615824978'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/01/blog-post_11.html' title='مذہبی اسپورٹس'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113678377301362572</id><published>2006-01-09T11:59:00.000+05:00</published><updated>2006-01-09T12:04:09.406+05:00</updated><title type='text'>گائے بھی کبھی بچھیا تھی</title><content type='html'>حکومت نے بھارتی چینلوں پر پابندی لگادی مگر چند ڈرامہ سیریز ان دنوں ہمارے شہر کے گلی کوچوں میں چل رہی ہیں۔ 'گائے بھی کبھی بچھیا تھی' اور 'کہانی بکرا بکری کی'۔ حد تو یہ ہے کہ سپر ہائی وے کی بکرا منڈی میں ایک گائے 'کم کم' نے بیسٹ گائے کا ایوارڈ بھی جیت لیا ہے۔ وہاں کئی لوگوں نے باقاعدہ اسٹیج لگا کر جانوروں کو ڈسپلے پر لگا رکھا ہے اور ساتھ میں ان کے نام اور خصوصیات لکھ کر لگائی ہوئی ہیں۔ ایک بیل سوجل اور بالا بھی بہت مشہور ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ ایک بونی گائے کا بھی بہت تذکرہ ہے اس گائے کا قد صرف ڈیڑھ فٹ ہے اور اسکا نام بلبل ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہماری دکان کی طرف ایک فیملی بکرا لے کر آئی ہے یہ بکرا دکھنے میں کسی اونٹ جتنا ہے اور اس کی قیمت صرف ڈھائی لاکھ روپے ہے۔ حاجی محفوظ شیرمال والوں کا بیل بھی بہت مشہور ہوا ہے۔  چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں اپنے قربانی کے جانوروں کی دیکھ بھال میں دل و جان سے مصروف ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اس دیکھ بھال میں بیچارے جانور کی خوب درگت بنتی ہے۔ جہاں ایک طرف بچے اپنے دوستوں کے بکروں کے مقابلے میں اپنے بکرے کی خوبصورتی اور خوب سیرتی کے گن گاتے ہیں وہیں بڑے اپنے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گذشتہ ایک ہفتے سے بہت زیادہ سردی پڑ رہی ہے۔ کراچی میں چونکہ ہواؤں کی رفتار تیز ہوتی ہے اسلئیے جب یخ بستہ ہواؤں کے تھپیڑے منہ پر لگتے ہیں تو مزہ آجاتا ہے۔ ایسے موسم میں بھی لوگ گاڑیوں میں بھر بھر کر سپر ہائی وے کی منڈی پہنچتے ہیں۔ ایک جانور خریدنے کے لئیے کم از کم نصف درجن بچے اور اتنے ہی بڑے ایک ساتھ مہم شروع کرتے ہیں۔ سپر ہائی وے کی منڈی آٹھ سو ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوتی ہے اور اتنے بڑے میلہ مویشیاں سے جانور ڈھونڈنا کوئی مشکل کام نہیں لیکن اصل مقصد تفریح ہوتا ہے۔ جب گھوم پھر کر سب تھک جاتے ہیں تو جو جانور بھی سب سے نزدیک نظر آتا ہے اسی کا سودا منٹوں میں طے کرلیا جاتا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم لوگ پچھلے دو سال سے قربانی کے پیسے عبدالستار ایدھی صاحب کو دیتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں ان چونچلوں کی عادت نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے گھر میں کوئی بچہ ہے جو جانور کی دیکھ بھال کرسکے۔ ایدھی صاحب کے یہاں آپ جائیں اپنی آنکھوں سے قربانی ہوتے دیکھیں گوشت کی تھیلی اٹھائیں اور گھر آجائیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن وہ گوشت یتیم بچوں اور مستحقین میں تقسیم کردے گی۔ میں تو ویسے ہی ہر طرف قربانی کے جانور دیکھ کر بیزار ہوجاتا ہوں میرے خیال میں شہر کی حدود میں اتنی بڑی تعداد میں جانوروں کا رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ جانوروں کے فضلے اور قربانی کے بعد خون اور گوشت کے چیتھڑوں سے جو تعفن پھیلتا ہے وہ بہت خطرناک ہے۔ جب میں نے یہ بات ایک صاحب سے کہی تو وہ کہنے لگے بھائی ہم تو اللہ کی رضا کے لئیے قربانی کرتے ہیں اب تعفن اور بیماریاں پھیلیں گی تو اللہ خود ہی انہیں سنبھال لے گا۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113678377301362572?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113678377301362572/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113678377301362572' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113678377301362572'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113678377301362572'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/01/blog-post_09.html' title='گائے بھی کبھی بچھیا تھی'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113624813770807349</id><published>2006-01-03T05:21:00.000+05:00</published><updated>2006-01-03T05:29:00.916+05:00</updated><title type='text'>نئے سال کی رات کا تذکرہ</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/sea-view-newyear.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/sea-view-newyear.jpg" alt="سی ویو نیو ائر نائٹ" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/sea-view-newyear2.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/sea-view-newyear2.jpg" alt="سی ویو نیو ائر نائٹ" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/sea-view-newyear3.0.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/sea-view-newyear3.0.jpg" alt="سی ویو نیو ائر نائٹ" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نئے سال کی آمد پر میں دکان پر ہی تھا۔ بارہ بجنے میں تیس منٹ کم تھے کہ پٹاخے پھٹنا شروع ہوئے اور پھر بارہ بجے فائرنگ شروع ہوئی۔ ہماری دکان کے علاقے میں پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال کافی کم فائرنگ ہوئی جو کہ خوش آئند بات ہے۔ میرے گھر کی طرف تو بہت ہی کم فائرنگ ہوئی ہاں پٹاخے بہت چلائے گئے۔ ایک بجے جب میں گھر پہنچا تب بھی پٹاخے پھوڑے جارہے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نئے سال کی آمد پر سی ویو نہیں جاتا۔ آخری بار میں نئے سال پر سی ویو میلینئیم والے نیوائر پر گیا تھا۔ ہر سال ہزاروں نوجوان نیا سال منانے سی ویو جاتے ہیں وہاں آتش بازی کا مظاہرہ ہوتا ہے پٹاخے چلائے جاتے ہیں۔ پولیس کی بہت بھاری نفری کے باوجود اکا دکا لڑکے ہوائی فائرنگ بھی کردیتے ہیں۔ اس سال حکومت نے ایسا ظاہر کیا کہ نئے سال کی آمد پر سی ویو پر جشن نہیں منانے دیا جائے گا۔ مگر نوجوان تمام رکاوٹیں توڑ کر نو بجے سے ہی سی ویو پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ کڑاکے دار سردی میں ہزاروں لڑکے اور اکا دکا فیملیز بھی اپنی گاڑیوں موٹر سائیکلوں اور پیدل سی ویو پہنچے۔ پولیس نے کلفٹن، ڈیفنس اور بوٹ بیسن کے تمام ریستوران بند کروانے کی کوشش کی جو ناکام ہوگئی کیونکہ کافی سارے ریستوران کھلے ہوئے تھے۔ ہاں البتہ پٹرول پمپ بند کروادئیے گئے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتے ہی کراچی میں ریستورانوں اور فاسٹ فوڈ کا کاروبار بہت منافع بخش جارہا ہے۔ اپر مڈل اور مڈل کلاس میں نئے شامل ہونے والوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے جس سے ایک بڑی کنزیومر مارکیٹ ابھر کر سامنے آئی ہے۔ بینکوں کی طرف سے فوری قرضوں، انسٹالمنٹ پلانز، کریڈٹ کارڈز نے بھی لوگوں کی قوت خرید میں کافی اضافہ کیا ہے جس سے شہر کی معیشت مزید مستحکم ہورہی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جہاں کراچی میں ہزاروں لوگ نئے سال کی خوشی میں کھا پی رہے تھے اور ہلا گلا کر رہے تھے تو دوسری طرف ایسے بھی لوگ تھے جنہیں یہ سب ہنگامہ بے تکا نظر آرہا تھا۔ غربت سے جلد از جلد مڈل کلاس تک پہنچنے کی تگ و دو میں یہ طبقہ اتنا فکرمند رہتا ہے کہ نیا سال یا کوئی تہوار انہیں خوش نہیں کرپاتا۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113624813770807349?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113624813770807349/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113624813770807349' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113624813770807349'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113624813770807349'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/01/blog-post_03.html' title='نئے سال کی رات کا تذکرہ'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113607932123711468</id><published>2006-01-01T06:35:00.000+05:00</published><updated>2006-01-01T06:35:21.256+05:00</updated><title type='text'>میری مدد کریں</title><content type='html'>&lt;div xmlns="http://www.w3.org/1999/xhtml"&gt;جب میں کاغذ پر ڈائری لکھا کرتا تھا تو نئے سال کی آمد کا پہلا صفحہ اپنے آپ سے کئیے گئے وعدوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ ہر سال میں یہ منصوبہ بناتا ہوں کہ اس سال میں دوبارہ کالج جاؤنگا، پیسے جمع کرونگا، ورک آؤٹ کرونگا اور تمام بری عادتیں چھوڑ دونگا۔ لیکن جیسا کہ نیو ائیر ریزولیشنز کے ساتھ اکثر ہوتا ہے ان قراردادوں پر کبھی عمل نہیں ہوتا۔ میں پورے سال وہ صفحے دیکھتا ہوں مگر پھر بھی کچھ نہیں ہوتا۔ وہ موٹیویشن جو نئے سال کی رات کو ملتی ہے وہ یکم جنوری کی صبح تک غائب ہوجاتی ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مگر اس سال ایسا نہیں ہوگا۔ اس سال میں اپنے نیو ائیر ریزولیشنز ویب پر لکھ رہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ پڑھنے والے مجھے میرے وعدے یاد دلاتے رہینگے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;big&gt;اس سال کی قرارداد&lt;/big&gt;&lt;br /&gt;&lt;ul&gt;&lt;li&gt;میں کالج میں داخلہ لونگا اور اپنا تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کرونگا۔ اس وعدے کے لئیے مجھے بہت بہت بہت زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔ میری کاروباری ذمہ داری، کاہلی، غیر مستقل مزاجی اور چیلنچ قبول نہ کرسکنے کا خوف میری بڑی کمزوریاں ہیں۔ جن سے لڑنے کے لئیے مجھے قوت صرف کرنا ہوگی۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;میں بہت سارے پیسے جمع کرونگا تاکہ سال کے آخر تک کم از کم کرائے کا ہی صحیح اپنا خود کا اپارٹمنٹ لے ہی سکوں۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;میں جم جوائن کرونگا اور سال کے آخر تک اپنے جسم کو پہلے والے شیپ میں لے کر آؤں گا۔ مجھے ایبز کی زیادہ فکر ہے۔ میرے خیال میں مجھے دوڑ بھی لگانا ہوگی۔ میرے شولڈرز اور بائیسیپس ابھی بھی ٹھیک ہیں مگر ونگز چیسٹ ایبز اور تھائیز بہت ہی برے لگ رہے ہیں۔ &lt;/li&gt;&lt;li&gt;میں اپنا بہن بھائیوں کے لئیے بہت ہی اچھا بڑا بھائی بنے رہنے کی کوشش کرونگا۔ حالانکہ میں ابھی بھی بہت اچھا بڑا بھائی ہوں لیکن اس سال شاید میں اپنے بہن بھائیوں پر بہت ہی زیادہ دباؤ ڈالنے لگا تھا اور اکثر نکتہ چینی بھی کرتا تھا۔ میں اکثر ان پسند کو مسترد کردیتا ہوں اور ان پر اپنی رائے ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس سال میں ایسی کوئی حرکت نہیں کرونگا اور ان کی پسند نا پسند اور رائے کا احترام کرونگا اور انہیں بالغ نوجوان لڑکوں کی طرح ٹریٹ کرونگا نہ کہ بچوں کی طرح۔ &lt;/li&gt;&lt;li&gt;اپنے والدین کو خوش رکھنے کی کوشش کرونگا۔ &lt;/li&gt;&lt;/ul&gt;&lt;br /&gt;اس پوسٹ کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ پڑھنے والے میری نئی سال کی قرار داد پڑھ لیں اور مجھے مجبور کریں، میرے ہمت بڑھائیں تاکہ میں اس سال یہ کام انجام دے سکوں۔ میں وقتا فوقتا پورے سال آپ لوگوں کو اپنی کارکردگی کی رپورٹ دیتا رہونگا اور اگر نہ دوں تو پلیز مجھے یاد دلائیں۔ آپ لوگ میری مدد کریں گے نا؟ اسکے بدلے اگر آپکے کچھ نیو اٗئیر ریزولوشن ہیں تو مجھے بتائیں میں آپکو موٹیویٹ کرونگا۔ &lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113607932123711468?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113607932123711468/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113607932123711468' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113607932123711468'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113607932123711468'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2006/01/blog-post.html' title='میری مدد کریں'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113598358721285838</id><published>2005-12-31T03:59:00.000+05:00</published><updated>2006-01-03T05:32:58.943+05:00</updated><title type='text'>سب سے سستا</title><content type='html'>&lt;div xmlns="http://www.w3.org/1999/xhtml"&gt;دو ایک دن پہلے مقامی اخبارات نے اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کی &lt;a href="http://www.geo.tv/main_files/business.aspx?id=99947"&gt;خبر&lt;/a&gt; شائع کی۔ خبر کے مطابق تین ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے لوگوں کے لئیے کراچی پاکستان کا سب سے سستا شہر ہے۔ یہ خبر پڑھ کر دکان پر ہمارے ایک گاہگ پوچھنے لگے یار نعمان ایسا کیسے ہوسکتا ہے کیا اسٹیٹ بینک والے اندھے ہیں۔ &lt;br/&gt;&lt;br/&gt;مجھے بھی اس رپورٹ کی کچھ سمجھ نہیں آئی۔ آج بیکری والے کی دکان پر اخبار میں کارٹون دیکھا۔ میرے خیال میں اسٹیٹ بینک کو اس کی کچھ وضاحت کرنی چاہئیے۔&lt;br/&gt;&lt;br/&gt;&lt;a href="http://ummat.com.pk/Cartoon_Archive/Dec_2005/Dec-data/cartoon-30-12-2005.jpg"&gt;&lt;img alt="کارٹون" src="http://ummat.com.pk/Cartoon_Archive/Dec_2005/Dec-data/cartoon-30-12-2005.jpg" style="height:250px; width:250px;" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113598358721285838?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113598358721285838/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113598358721285838' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113598358721285838'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113598358721285838'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_31.html' title='سب سے سستا'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113559819854748869</id><published>2005-12-26T17:15:00.000+05:00</published><updated>2005-12-26T17:17:27.720+05:00</updated><title type='text'>تجرباتی پوسٹ</title><content type='html'>&lt;div xmlns="http://www.w3.org/1999/xhtml"&gt;یہ ایک تجرباتی پوسٹ ہے جو فائر فوکس ایک پلگ ان پر&lt;a href="http://performancing.com/"&gt;فارمنسنگ&lt;/a&gt; کے ذریعے بھیجی گئی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Technorati Tags: &lt;a href="http://technorati.com/tag/firefox" rel="tag"&gt;firefox&lt;/a&gt;, &lt;a href="http://technorati.com/tag/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88" rel="tag"&gt;اردو&lt;/a&gt;, &lt;a href="http://technorati.com/tag/%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%B1%D9%81%D9%88%DA%A9%D8%B3" rel="tag"&gt;فائرفوکس&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://technorati.com/tag/%D9%81%D8%A7%D8%A6%D8%B1%D9%81%D9%88%DA%A9%D8%B3" rel="tag"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113559819854748869?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113559819854748869/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113559819854748869' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113559819854748869'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113559819854748869'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_26.html' title='تجرباتی پوسٹ'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113522304334027910</id><published>2005-12-22T08:43:00.000+05:00</published><updated>2005-12-22T08:44:03.396+05:00</updated><title type='text'>کالا باغ اور پیلا باغ ڈیم</title><content type='html'>میں جنرل مشرف سے بہت ناراض ہوں۔ کالا باغ ڈیم کی وجہ سے کل ہماری دکان میں بدمزگی ہوگئی اور دلوں میں کدورتیں پیدا ہوئیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;قصہ یوں ہے کہ کل ہماری دکان پر ایک سندھی گاہگ آئے۔ انہوں نے دودھ پیتے ہوئے اخبار کا مطالعہ کیا اور لگے فلاسفری بھگارنے۔ کالا باغ ڈیم سے پنجاب سندھ کا سارا پانی روک لے گا وغیرہ۔ ویسے مہاجر ہونے کے ناطے میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں سندھ کے مفاد کا بھی خیال رکھوں۔ اسلئیے میں سندھی رضامندی کے بغیر کالاباغ ڈیم بنانے کے خلاف ہوں۔ خیر میں نے اپنے زریں خیالات کا اظہار ان صاحب پر نہیں کیا مگر غلام فرید سے کنٹرول نہ ہوسکا۔ جیسا کہ میں پہلے بتاچکا ہوں غلام فرید پنجاب کے ایک گاؤں کا رہائشی ہے۔ ان کی گاؤں کی معیشت کا ذراعت پر بہت انحصار ہے۔ گزشتہ دنوں وہ مجھے بتا چکا ہے کہ کسان اور زمیندار مہنگی بجلی، پانی کی قلت، حکومت کے مقررہ نرخوں اور کاشتکاری کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے بہت پریشان ہیں۔ غلام فرید نے بتایا کہ اکثر کاشتکاروں کو جو بچت ہوتی ہے وہ ان کی محنت کے مقابلے میں بہت معمولی ہوتی ہے اور اکثر پچھلی ادھاریاں چکانے میں ہی پوری ہوجاتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;غلام فرید نے سندھی بھائی سے کہا کہ یار آپ لوگ ڈیم بننے دو بھائی اگر پانی ہوگا تو اس پر کل لڑ بھی لیں گے۔ پانی ہوگا ہی نہیں تو کل کس بات پر لڑیں گے۔ غلام فرید کی بات میں وزن تھا۔ مگر وہ سندھی بھائی کہنے لگے کہ نہیں تم لوگوں نے پچھلے وعدے کبھی پورے نہیں کئیے اور پنجاب آئندہ وعدے بھی پورے نہیں کرے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اتنی دیر میں میرا ایک دوست شہزاد آگیا جو کہ مہاجر ہے۔ اب ہماری دکان میں مجھ سمیت تین سندھی تھے اور ایک غلام فرید۔  شہزاد بھی کہنے لگا کہ پنجابی طاقت کے زور پر ڈیم بنانا چاہتے ہیں۔ غلام فرید نے کہا کہ اگر طاقت کے زور پر بنانا ہوتا تو کب کا بن گیا ہوتا۔ ان لوگوں نے غلام فرید پر ایسے الزام لگائے جیسے پاکستان میں آج تک ہونے والے سارے مظالم کا وہی ذمہ دار ہے۔ اتنے میں ایک بچہ دودھ لینے آیا۔ اس بچے کے والد سندھ کے علاقے کندھ کوٹ کے رہائشی ہیں لیکن مہاجر لڑکی سے پسند کی شادی کرنے پر ان کے والدین نے انہیں گھر سے نکال دیا تھا۔ ان کے بچے سندھی زبان سے بالکل نابلد ہیں اور زندگی میں کبھی کندھ کوٹ نہیں گئے۔ میں اس بچے کو دودھ دینے لگا جس دوران وہ بچہ سندھی پنجابی دنگل دیکھتا رہا۔ پھر وہ بولا، 'پنجابی ڈیم بنا کر سندھ کا سارا پانی روک لیں گے پھر ہم سب پیاسے مرجائیں گے۔' جس پر دونوں سندھی اور مہاجر خوب خوش ہوئے اور اس بچے کو حق گوئی پر داد شجاعت دینے لگے۔ غلام فرید کہنے لگا کہ تم بچوں کے دماغ میں زہر بھر رہے ہو اور اس بچے کو کیا پتہ صحیح غلط کا۔  میں ابھی تک چپ ہی تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھر ایک اور گاہگ آگئے یہ صاحب متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن تھے اور مجھ سے ان کی بہت اچھی سلام دعا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم تو نہیں بنے گا۔ اب تو غلام فرید بہت کھسیانا سا ہوگیا۔ سندھی بھائی نے اپنے مہاجر بھائیوں سے پوچھا تم لوگ کس کے ساتھ ہو؟ دونوں نے ایک ساتھ کہا ہم اپنے سندھی بھائی کے ساتھ ہیں۔ غلام فرید کو پتہ تھا کہ میں بھی سندھ کے ساتھ ہوں لیکن اس کو اکیلا پڑتے دیکھ کر میں نے اپنا موقف بدل دیا۔ اور  بآواز بلند کہا کہ میں اپنے پنجابی بھائی کے ساتھ ہوں۔ اگر یہ بول رہا کہ ڈیم بننا چاہئیے تو ڈیم ضرور بنے گا۔ کالا باغ بھی بنے گا اور پیلا باغ بھی بنے گا۔ پھر اگر پانی نہیں ملا تو میں خود اپنے پنجابی بھائی سے نمٹ لونگا۔ اب آپ لوگ اپنی دکانیں سمیٹیں اور چلتے بنیں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113522304334027910?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113522304334027910/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113522304334027910' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113522304334027910'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113522304334027910'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_22.html' title='کالا باغ اور پیلا باغ ڈیم'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113487254960521858</id><published>2005-12-18T07:20:00.000+05:00</published><updated>2005-12-18T07:22:29.620+05:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>دکان پر آجکل وقت کاٹے نہیں کٹتا۔ سردیوں میں کام کم ہوجاتا ہے اور فضول وقت بہت بچ جاتا ہے۔ اس فضول وقت سے فائدہ اٹھانے کے لئیے لوگ ہماری دکان کا رخ کرتے ہیں، کہ چائے پئیں گے اور گپے ہانکیں گے۔ ایک لڑکا اویس ہے جس سے میں بہت ہی زیادہ تنگ آگیا ہوں۔ اویس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ جہاں سے گزرتا ہے لوگ سب کچھ چھوڑ چھاڑ اسے دیکھنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے اہم شخص ہے اور محلے میں ادھر ادھر ہوٹلوں، فٹ پاتھوں اور ٹھیلوں پر کھڑے لوگ اپنی زندگی کا تمام وقت اویس کو دیکھنے اور اس کے بارے میں سوچنے پر ہی صرف کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اسے ہر وقت یہ احساس رہتا ہے کہ وہ کیسا لگ رہا ہے اور لوگ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ لوگ اپنا قیمتی وقت اس کے بارے میں سوچ کر ضائع کرتے ہیں اسلئیے وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اسے اپنا فضول وقت لوگوں کے بارے میں سوچ کر اور ان پر تبصرے کرتے ہوئے کارآمد بنانا چاہئیے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شریف اور غریب آدمی سڑک پر جارہا ہے اور اس کی چپل یا جوتا پھٹا ہوا ہے تو نہ صرف اویس بآواز بلند اس کے جوتے کی طرف میری توجہ دلائے گا بلکہ انگلی سے اس کی سمت اشارہ بھی کرے گا۔  یا اگر اویس کا کوئی دوست (اویس کے تمام دوست سابق دوست اور موجودہ دشمن ہوتے ہیں کیونکہ اسکی حرکتوں کی وجہ سے ہر شخص اسے جلد بھگادیتا ہے) کہیں جارہا ہو تو وہ کہے گا۔ "دیکھ ذرا اس کی شکل دیکھ روز نائی کے ہاں بیٹھا فیشل کرا رہا ہوتا ہے توبہ اللہ معاف کرے کیسی پھٹکار برس رہی ہے"۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اویس کے لطیفے بھی اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ کمزور دل حضرات کو ڈاکٹر اویس سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں کہ کہیں مبادا ہنسی کے مارے ان کا دم ہی نہ نکل جائے۔ جیسے ایک دن وہ دکان پر آیا تو میں اسے بتانے لگا کہ کچھ دیر پہلے اس کے ابو دکان پر آئے تھے اور بوتل پی کر گئے ہیں۔ وہ پتہ نہیں کیا سمجھا پوچھنے لگا 'کون آیا تھا؟؟؟' میں نے جواب دیا 'تیرے ابو' تو وہ بے دھیانی میں بولا 'کونسے ابو؟' بس اس کا یہ کہنا تھا اور میں کاؤنٹر چھوڑ ہنس ہنس دہرا ہوگیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پرسوں رات کے ساڑھے گیارہ کا وقت تھا۔ وہ دکان آیا ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ اس کے سامنے میز پر اخبار پڑا تھا وہ بے دھیانی میں وہ اخبار اٹھا کر اسے کبھی تہہ کرتا کبھی اس کا رول بناتا۔ کبھی اخبار کا رول اپنے ہاتھ پر مارتا۔ آدھے گھنٹے تک ہم باتیں کرتے رہے۔ اس دوران وہ مسلسل اخبار کے رول پر اوپر نیچے ہاتھ پھیرتا رہا اور پتہ نہیں کیا کیا کرتا رہا۔ اتنے میں غلام فرید نے اس سے کہا یار ذرا اخبار تو دکھا وہ کہنے لگا نہیں میں پڑھ رہا ہوں۔ غلام فرید بولا ایک گھنٹے سے تو تم لوگ باتیں کررہے ہو اور تو مسلسل اخبار پر ہاتھ چلا رہا ہے۔ ابے چھوڑ دے اتنا ہاتھ نہیں چلا اخبار میں سے کچھ نکل گیا تو کپڑے ناپاک ہوجائیں گے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بس پھر کیا تھا وہ قہقہے پڑے دکان میں کہ اویس کو بھاگتے ہی بن پڑی۔ کل اویس سارا دن نہیں آیا لگتا ہے اس نے ہمارے مذاق کا برا مان لیا۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113487254960521858?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113487254960521858/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113487254960521858' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113487254960521858'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113487254960521858'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_18.html' title=''/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113470119995171833</id><published>2005-12-16T07:46:00.000+05:00</published><updated>2005-12-16T07:46:39.986+05:00</updated><title type='text'>ہل پارک سے کراچی کا ایک نظارہ</title><content type='html'>&lt;div style="float: right; margin-left: 10px; margin-bottom: 10px;"&gt; &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/34581663@N00/35673318/" title="photo sharing"&gt;&lt;img src="http://static.flickr.com/26/35673318_912d5b06c6_m.jpg" alt="" style="border: solid 2px #000000;" /&gt;&lt;/a&gt; &lt;br /&gt; &lt;span style="font-size: 0.9em; margin-top: 0px;"&gt;  &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/34581663@N00/35673318/"&gt;my city&lt;/a&gt;  &lt;br /&gt;  Originally uploaded by &lt;a href="http://www.flickr.com/people/34581663@N00/"&gt;hohenmagnolie&lt;/a&gt;. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br clear="all" /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113470119995171833?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113470119995171833/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113470119995171833' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113470119995171833'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113470119995171833'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_113470119995171833.html' title='ہل پارک سے کراچی کا ایک نظارہ'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113470017826893389</id><published>2005-12-16T07:29:00.000+05:00</published><updated>2005-12-16T07:29:38.276+05:00</updated><title type='text'>آئی آئی چندریگر روڈ اسکائی لین۔ کراچی</title><content type='html'>&lt;div style="float: right; margin-left: 10px; margin-bottom: 10px;"&gt; &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/zasami/19297253/" title="photo sharing"&gt;&lt;img src="http://static.flickr.com/14/19297253_8e9b7b6703_m.jpg" alt="" style="border: solid 2px #000000;" /&gt;&lt;/a&gt; &lt;br /&gt; &lt;span style="font-size: 0.9em; margin-top: 0px;"&gt;  &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/zasami/19297253/"&gt;II_Chundriger skyline&lt;/a&gt;  &lt;br /&gt;  Originally uploaded by &lt;a href="http://www.flickr.com/people/zasami/"&gt;zasami&lt;/a&gt;. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br clear="all" /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113470017826893389?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113470017826893389/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113470017826893389' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113470017826893389'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113470017826893389'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_113470017826893389.html' title='آئی آئی چندریگر روڈ اسکائی لین۔ کراچی'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113469990526214880</id><published>2005-12-16T07:25:00.000+05:00</published><updated>2005-12-16T07:25:05.270+05:00</updated><title type='text'>دڑبے اور خدا کا گھر</title><content type='html'>&lt;div style="float: right; margin-left: 10px; margin-bottom: 10px;"&gt; &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/zasami/25438901/" title="photo sharing"&gt;&lt;img src="http://static.flickr.com/22/25438901_3acd53814c_m.jpg" alt="" style="border: solid 2px #000000;" /&gt;&lt;/a&gt; &lt;br /&gt; &lt;span style="font-size: 0.9em; margin-top: 0px;"&gt;  &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/zasami/25438901/"&gt;defence_mosque&lt;/a&gt;  &lt;br /&gt;  Originally uploaded by &lt;a href="http://www.flickr.com/people/zasami/"&gt;zasami&lt;/a&gt;. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;اس تصویر میں دیکھیں چھوٹے چھوٹے اپارٹمنٹس اور ان کے رنگ۔ بہت ہی خوبصورت امتزاج۔&lt;br clear="all" /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113469990526214880?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113469990526214880/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113469990526214880' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469990526214880'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469990526214880'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_113469990526214880.html' title='دڑبے اور خدا کا گھر'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113469963698472949</id><published>2005-12-16T07:20:00.000+05:00</published><updated>2005-12-16T07:20:36.990+05:00</updated><title type='text'>کیپ ماؤنٹ ۔ کراچی</title><content type='html'>&lt;div style="float: right; margin-left: 10px; margin-bottom: 10px;"&gt; &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/shabbir/4942174/" title="photo sharing"&gt;&lt;img src="http://static.flickr.com/5/4942174_c32436bf7e_m.jpg" alt="" style="border: solid 2px #000000;" /&gt;&lt;/a&gt; &lt;br /&gt; &lt;span style="font-size: 0.9em; margin-top: 0px;"&gt;  &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/shabbir/4942174/"&gt;Down Below...&lt;/a&gt;  &lt;br /&gt;  Originally uploaded by &lt;a href="http://www.flickr.com/people/shabbir/"&gt;Shabbir &amp;quot;Leo&amp;quot; Ali&lt;/a&gt;. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br clear="all" /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113469963698472949?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113469963698472949/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113469963698472949' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469963698472949'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469963698472949'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_113469963698472949.html' title='کیپ ماؤنٹ ۔ کراچی'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113469925043408466</id><published>2005-12-16T07:14:00.000+05:00</published><updated>2005-12-16T07:14:10.443+05:00</updated><title type='text'>شاہراہ فیصل</title><content type='html'>&lt;div style="float: right; margin-left: 10px; margin-bottom: 10px;"&gt; &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/zasami/9919114/" title="photo sharing"&gt;&lt;img src="http://static.flickr.com/7/9919114_9643feb4b1_m.jpg" alt="" style="border: solid 2px #000000;" /&gt;&lt;/a&gt; &lt;br /&gt; &lt;span style="font-size: 0.9em; margin-top: 0px;"&gt;  &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/zasami/9919114/"&gt;regent plaza&lt;/a&gt;  &lt;br /&gt;  Originally uploaded by &lt;a href="http://www.flickr.com/people/zasami/"&gt;zasami&lt;/a&gt;. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br clear="all" /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113469925043408466?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113469925043408466/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113469925043408466' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469925043408466'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469925043408466'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_113469925043408466.html' title='شاہراہ فیصل'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113469886764830428</id><published>2005-12-16T07:07:00.000+05:00</published><updated>2005-12-16T07:07:47.646+05:00</updated><title type='text'>میری ویدر ٹاور ۔ کراچی</title><content type='html'>&lt;div style="float: right; margin-left: 10px; margin-bottom: 10px;"&gt; &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/chanad/6921952/" title="photo sharing"&gt;&lt;img src="http://static.flickr.com/7/6921952_df8a9dd12a_m.jpg" alt="" style="border: solid 2px #000000;" /&gt;&lt;/a&gt; &lt;br /&gt; &lt;span style="font-size: 0.9em; margin-top: 0px;"&gt;  &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/chanad/6921952/"&gt;Merewether Tower&lt;/a&gt;  &lt;br /&gt;  Originally uploaded by &lt;a href="http://www.flickr.com/people/chanad/"&gt;Chan'ad&lt;/a&gt;. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;اس ٹاور پر آج بھی اسٹار آف ڈیوڈ بنا ہوا ہے۔ جو کہ ابھی تک پاکستان کی اسلامائزیشن کی دستبرد سے بچا ہوا ہے۔ اسٹار آف ڈیوڈ وہی نشان ہے جو اسرائیل کے جھنڈے پر ہے۔&lt;br clear="all" /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113469886764830428?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113469886764830428/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113469886764830428' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469886764830428'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469886764830428'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_113469886764830428.html' title='میری ویدر ٹاور ۔ کراچی'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113469865982392868</id><published>2005-12-16T07:04:00.000+05:00</published><updated>2005-12-16T07:04:19.830+05:00</updated><title type='text'>بلندی اور پستی</title><content type='html'>&lt;div style="float: right; margin-left: 10px; margin-bottom: 10px;"&gt; &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/zasami/19299766/" title="photo sharing"&gt;&lt;img src="http://static.flickr.com/17/19299766_d8c6e1469f_m.jpg" alt="" style="border: solid 2px #000000;" /&gt;&lt;/a&gt; &lt;br /&gt; &lt;span style="font-size: 0.9em; margin-top: 0px;"&gt;  &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/zasami/19299766/"&gt;tallest-buildings&lt;/a&gt;  &lt;br /&gt;  Originally uploaded by &lt;a href="http://www.flickr.com/people/zasami/"&gt;zasami&lt;/a&gt;. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;ایک طرف ریلوے کالونی کی کچی آبادی اور ریل کی پٹری کے اس پار پاکستان کی وال اسٹریٹ۔&lt;br clear="all" /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113469865982392868?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113469865982392868/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113469865982392868' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469865982392868'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469865982392868'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_113469865982392868.html' title='بلندی اور پستی'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113469772330875929</id><published>2005-12-16T06:48:00.000+05:00</published><updated>2005-12-16T06:48:45.033+05:00</updated><title type='text'>صدر کراچی</title><content type='html'>&lt;div style="float: right; margin-left: 10px; margin-bottom: 10px;"&gt; &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/zasami/3608564/" title="photo sharing"&gt;&lt;img src="http://static.flickr.com/2/3608564_6e88d780e7_m.jpg" alt="" style="border: solid 2px #000000;" /&gt;&lt;/a&gt; &lt;br /&gt; &lt;span style="font-size: 0.9em; margin-top: 0px;"&gt;  &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/zasami/3608564/"&gt;saddar karachi&lt;/a&gt;  &lt;br /&gt;  Originally uploaded by &lt;a href="http://www.flickr.com/people/zasami/"&gt;zasami&lt;/a&gt;. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;صدر پر بسوں کی قطاریں رینگ رہی ہیں&lt;br clear="all" /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113469772330875929?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113469772330875929/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113469772330875929' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469772330875929'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469772330875929'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_113469772330875929.html' title='صدر کراچی'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113469753152058938</id><published>2005-12-16T06:45:00.000+05:00</published><updated>2005-12-16T06:45:31.530+05:00</updated><title type='text'>کراچی پنوراما</title><content type='html'>&lt;div style="float: right; margin-left: 10px; margin-bottom: 10px;"&gt; &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/farzad_b/43110336/" title="photo sharing"&gt;&lt;img src="http://static.flickr.com/26/43110336_8b2b535603_m.jpg" alt="" style="border: solid 2px #000000;" /&gt;&lt;/a&gt; &lt;br /&gt; &lt;span style="font-size: 0.9em; margin-top: 0px;"&gt;  &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/farzad_b/43110336/"&gt;Karachi Panorama&lt;/a&gt;  &lt;br /&gt;  Originally uploaded by &lt;a href="http://www.flickr.com/people/farzad_b/"&gt;dephoto_10d&lt;/a&gt;. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br clear="all" /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113469753152058938?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113469753152058938/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113469753152058938' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469753152058938'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469753152058938'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_113469753152058938.html' title='کراچی پنوراما'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113469730294910750</id><published>2005-12-16T06:41:00.000+05:00</published><updated>2005-12-16T06:41:42.976+05:00</updated><title type='text'>سی ویو کراچی</title><content type='html'>&lt;div style="float: right; margin-left: 10px; margin-bottom: 10px;"&gt; &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/shabbir/4459890/" title="photo sharing"&gt;&lt;img src="http://static.flickr.com/4/4459890_d9fee0fdb8_m.jpg" alt="" style="border: solid 2px #000000;" /&gt;&lt;/a&gt; &lt;br /&gt; &lt;span style="font-size: 0.9em; margin-top: 0px;"&gt;  &lt;a href="http://www.flickr.com/photos/shabbir/4459890/"&gt;Karachi Coast Line - &amp;quot;Seaview&amp;quot; Area&lt;/a&gt;  &lt;br /&gt;  Originally uploaded by &lt;a href="http://www.flickr.com/people/shabbir/"&gt;Shabbir &amp;quot;Leo&amp;quot; Ali&lt;/a&gt;. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;فلکر پر شبیر علی المعروف لئیو نے ایک بہت دلچسپ اور خوبصورت تصویر شامل کی ہے۔ جس میں کراچی کے ساحلی علاقے سی ویو کی فضائی تصویر کشی کی گئی ہے۔ مجھے سی ویو دن کی روشنی میں بالکل اچھا نہیں لگتا۔ لیکن اگر سردیوں کے دن ہوں اور چاندنی رات ہو تو اچھے خاصے اوٹ پٹانگ بندے پر بھی سحر طاری ہوجاتا ہے۔&lt;br clear="all" /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113469730294910750?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113469730294910750/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113469730294910750' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469730294910750'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113469730294910750'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_16.html' title='سی ویو کراچی'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113399534183095493</id><published>2005-12-08T03:24:00.000+05:00</published><updated>2005-12-08T03:42:22.983+05:00</updated><title type='text'>خواتین کے خلاف امتیازی قوانین</title><content type='html'>&lt;a href="http://jang.com.pk/jang/dec2005-daily/07-12-2005/national/nat2.gif"&gt;اخباری&lt;/a&gt; &lt;a href="http://img403.imageshack.us/img403/9154/ummatnews071220053za.gif"&gt;اطلاعات&lt;/a&gt; &lt;a href="http://dawn.com/2005/12/07/nat11.htm"&gt;کے&lt;/a&gt; مطابق ایم کیو ایم کے ممبر برائے قومی اسمبلی &lt;a href="http://pildat.org/mna/profile.asp?detid=245"&gt;کنور خالد یونس&lt;/a&gt; نے ایوان میں حدود آرڈینینس میں ترمیم کا بل پیش کرنے کیلئے تحریک پیش کی ۔ جسے ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کردیا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جنرل مشرف اور ان کی سرکاری جماعت ق لیگ بارہا کئی مواقع پر یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ہم روشن خیال ہیں، خواتین کی عصمتوں کے تحفظ کے حوالے سے بہت حساس ہیں بلکہ جنرل صاحب تو کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ حدود آرڈینینس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ پھر ق لیگ کے کسی ایک بھی رکن اسمبلی نے اس تحریک کی حمایت کیوں نہیں کی؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کنور خالد یونس کا کہنا ہے کہ حدود آرڈینینس میں زنا کے حوالے سے موجود شقیں جنرل ضیاء الحق نے سعودی عرب کی خوشنودی کیلئیے شامل کی تھیں۔ اس وقت تمام اسلامی ممالک میں صرف پاکستان اور سعودی عرب میں یہ قانون نافذ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان شقوں میں خواتین کے خلاف امتیاز برتا گیا ہے اور انہیں مردوں کے برابر حیثیت نہیں دی گئی جو کہ آئین پاکستان کی روح کے منافی ہے جس کے تحت تمام پاکستانی مرد و عورت برابر کے شہری ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی قوانین آئین پاکستان اور شریعت کی روح کے عین مطابق ہیں اور انہیں آٹھویں آئینی ترمیم کے تحت تحفظ حاصل ہے۔متحدہ مجلس عمال کے ایم این اے صاحبزادہ ابوالخیر نے کہا کہ حدود کے تمام  مقدمات میں فیصلہ قرآن اور سنت کی روشنی میں ہی ہونا چاہئیے۔ وزیر قانون وصی ظفر نے کہا کہ حکومت نے خوتین کو مکمل حقوق دے رکھے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; رائے شماری میں حکمران مسلم لیگ اور متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے اس تحریک کے خلاف ووٹ دیکر تحریک ناکام بنادی۔ تحریک مسترد ہونے کے بعد مجلس عمل اور مسلم لیگ ق کے اراکین نے ڈیسک بجا کر مسرت کا اظہار کیا۔  بعد ازاں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کنور خالد یونس نے کہا کہ حکمران جماعت اور مجلس عمل ضیاءالحق کی باقیات میں سے ہیں اس لئیے انہوں نے اس بل کی مخالفت کی۔ لیکن ہم آئندہ ہفتے حدود آرڈینینس کی مکمل تنسیخ کا بل پیش کریں گے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کنور صاحب کو شکر کرنا چاہئیے کہ مجلس عمل نے صرف ڈیسکیں بجانے پر اکتفا کیا ورنہ ان کی قبائلی اور جہادی روایات کے مطابق تو انہیں کلاشنکوف سے ہوائی فائر کرنے چاہئیے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میری ناقص رائے میں حدود آرڈینینس سے پاکستان کو جلد از جلد چھٹکارا پالینا چاہئیے لیکن یہ کہنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے کہ کنور صاحب کے اگلے بل کا ایوان میں کیا حشر ہوگا۔ یا تو کنور صاحب اور ان کی جماعت یہ بل پیش کر کے روشن خیالوں میں مقبولیت پانا چاہ رہے تھے، یا شاید کنور صاحب اپنے ضمیر کا قرض اتار رہے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج ہی کے اخبارات میں دوسرا &lt;a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2005/12/051207_mayo_rape_arrest_uk.shtml"&gt;چرچا&lt;/a&gt; تھا لاہور میں ایک ڈاکٹر کے ہاتھوں زلزلے سے متاثرہ ایک خاتون کی آبروریزی کا۔ جیسا کہ مجھ سے پہلے کئی اردو بلاگر لکھ چکے ہیں کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف امتیازی قوانین کا جب تک خاتمہ نہیں ہوگا تب تک ہم ان ملزمان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکتے۔ ایک بات جو مجھے سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے کہ کیوں ہمارے ارکان اسمبلی ایسی قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ بنے کھڑے رہتے ہیں؟ معاشرے میں خواتین کی اس رسوائی سے انہیں یا پاکستان فوج کو کیا سیاسی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں؟ مجھے تو کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی، آپ کا کیا خیال ہے، ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113399534183095493?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113399534183095493/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113399534183095493' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113399534183095493'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113399534183095493'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_08.html' title='خواتین کے خلاف امتیازی قوانین'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113387653381317172</id><published>2005-12-06T18:41:00.000+05:00</published><updated>2005-12-06T18:42:23.406+05:00</updated><title type='text'>دکانداری کی کتاب کا پہلا اصول</title><content type='html'>گذشتہ ہفتے ہماری دکان پر بہت کم سیل ہوئی جس کی وجہ سے ہمیں کافی نقصان ہوگیا ہے۔ آج پیر کے دن کچھ بہتری آئی ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج میری والدہ نے چقندر گوشت پکایا تھا۔ مجھے سردیوں میں گاجر اور چقندر بہت اچھے لگتے ہیں۔ آج نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے کچھ زیادہ کھالیا ہے مزے کا ہی اتنا بنا ہوا تھا۔ سرخ رنگ کے گرم گرم چقندر اور ان پر تھوڑا سا گرم مصالحہ اور گرم گرم چپاتیاں۔ اس وقت میرا کافی پینے کا دل چاہ رہا ہے لیکن نورالعین اپنے گھر چلی گئی ہے اور امی سو رہی ہیں۔ ہوسکتا ہے میں خود ہی بنالوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; کامران کے چند دنوں میں بی کام پارٹ ٹو کے امتحانات ہونے والے ہیں۔ پچھلے سال بھی اس کا رزلٹ بہت خراب تھا اور اس سال تو مجھے لگتا ہے اور بھی خراب آئیگا۔ صبح کے چار بج رہے ہیں کامران پڑھائی کررہا ہے۔ عازب سو چکا ہے اور میں یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں۔ ساتھ ہی میں امیزون ڈاٹ کام پر ڈیجیٹل کیمرے دیکھ رہا ہوں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ لوگوں نے ونڈو شاپنگ کی ہوگی لیکن آنلائن ونڈو شاپنگ تو بہت ہی زیادہ مزیدار ہے۔ خصوصا تب جب آپ کہ پاس ایک عدد  کریڈٹ کارڈ بھی ہو۔ ویسے کریڈٹ کارڈ سے پہلے بھی یہ میرا پسندیدہ مشغلہ تھا مگر اب جو خود کو ضبط کرنے کا مرحلہ ہے وہ اس ونڈو براؤسنگ کو بالکل حقیقی ونڈو شاپنگ جیسا بنا دیتا ہے۔ آپ کے پاس پیسے ہیں اور چیزیں آپ کو اچھی بھی لگ رہی ہیں لیکن نہ آپکا خریدنے کا ارادہ ہے نہ مول تول کا۔ آپ دنیا زمانے کے نفیس سامان دیکھیں۔ جاپانیوں کی مہارت، چینیوں کی چالاکیاں، امریکیوں کی جدت طرازی اور یورپ والوں کی صناعی۔ کبھی بے مقصد وال مارٹ کے ویب سائٹ کھنگالیں یا کبھی فرانسیسی ظروف سازوں کی مہارت دیکھیں۔ کبھی کتابوں کے ریویو پڑھیں فلموں کے ٹریلر دیکھیں۔ کمبلوں کی ایک سے ایک ورائٹی دیکھیں یا بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی نمائش دیکھیں۔ انٹرنیٹ ایک بہت بڑا بازار ہے جہاں دنیا زمانے کی اشیاء برائے فروخت ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جس طرح روایتی دکاندار ایسے لوگوں سے گھبراتے ہیں جنہیں خریدنا کچھ نہیں ہوتا ایسے ہی چیزیں دیکھنے چلے آتے ہیں۔ ویسا ہی یقینا آنلائن دکانداروں کے ساتھ بھی ہوتا ہوگا۔ مگر دکانداری کی کتاب کا پہلہ صفحہ ہی یہ بتاتا ہے کہ ہر کسی سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں چاہے آپ کو معلوم ہو کہ انہیں کچھ نہیں خریدنا پھر بھی انہیں اپنا سامان دکھائیں اور اس کی خوبیاں اور خامیاں بتائیں۔ میری اس تاکا جھانکی سے ہوسکتا ہے ان دکانداروں کو ابھی کوئی فائدہ نہ ہورہا ہو مگر ہوسکتا ہے کل مجھے یا میرے کسی جاننے والے کو ایسی کوئی چیز انٹرنیٹ پر خریدنا ہو تو اس وقت میرے پاس بھی یہ معلومات موجود ہونگی کہ کہاں سے اچھی چیز ملے گی اور میں اپنے دوستوں کو بھی مشورہ دونگا کہ کس ویبسائٹ پر اچھی آفرز ہیں۔ مثال کے طور پر جو ڈیجیٹل کمرے ایمیزون پر دو سو ڈالر کے ہیں وہ ہمارے پاکستانی ای مرکز والے چار سو ڈالر میں بیچ رہے ہیں۔ وہی کیمرے کراچی کی چند دکانوں پر لگ بھگ ڈھائی سے تین سو ڈالر میں دستیاب ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خیر تو بات ہورہی تھی دکانداری کی کتاب کے پہلے اصول کی۔ آجکل چونکہ ہماری دکانداری بھی کم ہورہی ہے اسلئیے ہم نے اپنے اخلاق اور بھی اچھے کرلئیے ہیں۔ کڑاہی کا گرم دودھ، ٹھنڈا دودھ، لسی اور دودھ کی بوتلوں کے ساتھ ساتھ اپنے لہجوں کی مٹھاس بھی کچھ بڑھادی ہے امید ہے اس شیرینی کی بدولت ہم مزید نئے گاہگ اور مکھیاں اپنی دکان کی طرف لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ گاہگوں سے ڈیل کرنے کے لئیے تو میں اور غلام فرید کافی ہیں اور مکھیوں کے لئیے ہم نے انسیکٹ کلر فلوریسنٹ ٹیوب لگا رکھی ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113387653381317172?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113387653381317172/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113387653381317172' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113387653381317172'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113387653381317172'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_06.html' title='دکانداری کی کتاب کا پہلا اصول'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113348486048993238</id><published>2005-12-02T05:53:00.000+05:00</published><updated>2005-12-02T05:54:20.600+05:00</updated><title type='text'>تعصب پسند کراچی والے</title><content type='html'>میری دکان پر کام کرنے والے غلام فرید کو کراچی کے لوگوں سے چند شکایات ہیں۔ اس کے خیال میں کراچی کے لوگ انتہائی تعصب پسند ہیں۔ ہوا یہ کہ ہماری دکان پر ایک صاحب آتے ہیں انہوں نے آج غلام فرید کو کسی بات پر مذاقا ٹوک دیا اور کہا کہ تم پنڈ سے روشنیاں دیکھنے آئے ہو تمہیں کیا پتہ بڑے شہروں میں کیا ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ غلام فرید ایک عرصے سے کراچی میں کام کررہا ہے اور کراچی سے اتنا ہی واقف ہے جتنے وہ یا میں۔ بلکہ شاید ہم سے بھی زیادہ۔ غلام فرید سے میں نے پوچھا کہ اس نے فلاں صاحب کی بات کا برا تو نہیں منایا تو وہ بولا:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;' نہیں بھائی اب تو مجھے عادت ہوگئی ہے ان لوگوں کو پتہ تو کچھ ہوتا نہیں بس اب کیا کریں جب کوئی ایسی بات کہتا ہے تو میں چپ ہوجاتا ہوں۔'&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے کہا کہ تم چپ نہ ہویا کرو بحث کیا کرو تو وہ بولا 'بھائی یہی تو میں کہہ رہا ہوں بحث تو میں تب کروں جب ان لوگوں کو پنجاب کے بارے میں کچھ پتہ ہو۔'&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے کہا کہ نہیں یار غلام فرید یہ جدید دور ہے ہر کوئی پنجاب کے کلچر، ثقافت اور لوگوں کے بارے میں معلومات رکھتا ہے۔ لیکن غلام فرید کا اصرار تھا کہ کراچی کے لوگ جاہل ہیں بقول غلام فرید ایک دن وہ ایک صاحب کو بتانے لگا کہ میں گاؤں جاؤنگا تو سی ڈی پر سلطان راہی کی فلم مولا جٹ دیکھوں گا تو وہ صاحب حیرت کا اظہار کرنے لگے۔ اس بات پر نہیں کہ غلام فرید سی ڈی پر فلم دیکھے گا بلکہ اس بات پر کہ غلام فرید کے گاؤں میں بجلی ہے؟ ہوسکتا ہے میری طرح اکثر پڑھنے والوں کو یہ بات مبالغہ آمیز محسوس ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بقول غلام فرید کراچی کے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب کے دیہات میں لوگ گھروں میں لالٹین جلاتے ہیں اور جن علاقوں میں بجلی ہے وہاں بھی لوگ صرف پنجابی فلمیں دکھتے ہیں اور اکثر گھروں میں ٹی وی نہیں ہے۔ غلام فرید نے یہ بھی بتایا کہ زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں کھیتی باڑی کے لئیے لوگ بیل استعمال کرتے ہیں اور وہاں مرد دھوتیاں پہنتے ہیں اور خواتین لانچے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مجھے غلام فرید کے اس بیان پر اعتراض تھا میں نہیں مانتا کہ کراچی میں کوئی شخص اتنا بے خبر ہوگا۔ مگر غلام فرید نے مزید بتایا کہ اکثر لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے گاؤں میں کوئی اسکول ہی نہیں اور وہاں رہنے والے سب لوگ چٹے جاہل اور ایک دم گنوار ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اپنے شہر کے لوگوں کے بارے میں غلام فرید کے ریمارکس سن کر میں دفاعی پوزیشن میں آگیا اور اصرار کرنے لگا کہ ایسے صرف چند لوگ ہیں۔ تب غلام فرید نے میری توجہ آج ہی کے ایک واقعے کی طرف دلائی۔ ہوا یہ تھا کہ ہماری دکان کے سامنے ایک پٹھان کا چائے کا ہوٹل ہے۔ وہ پٹھان اپنے گاؤں سے ایک چھوٹے لڑکے کو لے کر آیا ہے جسے ابھی اردو بولنا نہیں آتی۔ ہم نے پٹھان کو دو چائے کا آرڈر کیا تو اس نے اس لڑکے کے ہاتھ دس والی چائے کی چینک (کیتلی) بھجوادی۔ اس لڑکے کو ہم نے سمجھانے کی کوشش کی یہ واپس لے جاؤ اور دو چائے لے کر آؤ۔ ہم نے ہاتھ سے اشارہ کرکے اسے سمجھایا کہ دو چائے لانی ہیں اور میرا خیال یہ تھا کہ اسے اتنی اردو تو آتی ہے کہ یہ دو چائے کا مطلب سمجھ سکے۔ مگر وہ لڑکا واپس چلا گیا اور چائے لے کر نہیں آیا۔ اب میں نے غلام فرید کو بھیجا غلام فرید کہنے لگا بھائی ٹہرو کچھ دیر میں چائے آجائیگی تو میں نے کہا 'نہیں یار اس اخروٹ کو ہمارے اشارے سمجھ میں نہیں آئے ہونگے جا کر دیکھ کیا مسئلہ ہے۔'&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اخروٹ۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں نے یہ لفظ کیوں استعمال کیا لیکن یہ لفظ استعمال کرتے وقت میرے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ سننے والا یہ لفظ ہتک آمیز محسوس کرسکتا ہے اور پھر کراچی میں یہ لفظ اتنا کثیرالاستعمال ہے کہ اکثر پٹھان اس کا برا نہیں مناتے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کراچی میں اس تعصب کا شکار پٹھان اور پنجابی ہی نہیں ہوتے بلکہ اکثر مہاجر بھی پنجابیوں اور پٹھانوں کے ہاتھوں اس کا شکار ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر خود غلام فرید اکثر مہاجروں کو کلوے مہمان اور ہندوستانی (ہندوستانی سے نوجوان اکثر چڑتے ہیں)  کہتا ہے۔  اگر کوئی میمن ہے اور وہ ہم سے بھاؤ تاؤ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو غلام فرید اور میں ہم دونوں اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ چونکہ فلاں شخص میمن ہے اسلئیے وہ اتنا کنجوس تھا۔ اگر کوئی سندھی ہے تو ہم خودبخود یہ فرض کرلیتے ہیں کہ وہ بہت روکھا نخرا ہوگا۔ چونکہ غلام فرید عرصے سے کراچی میں مقیم ہے اس لئیے خود اس میں بھی یہ سب عادتیں پائی جاتی ہیں جو یقینا قابل فخر نہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لیکن شاید یہ ہی ہمارے شہر کی خاصیت ہے۔ میں کبھی کراچی کے علاوہ کسی دوسرے کاسموپولیٹن شہر نہیں گیا۔ اسلئیے مجھے اندازہ نہیں کہ آیا نیویارک اور لندن میں بھی اس قسم کے تعصبات پائے جاتے ہیں یا نہیں۔ ہوسکتا ہے میری یہ پوسٹ پڑھ کر آپ لوگ سوچیں کہ کراچی کی تو ہوا ہی خراب ہے۔ نہیں آپ لوگ غلط سمجھ رہے ہیں کراچی میں لوگ ایکدوسرے کو کیسے پکارتے ہیں اس پر نہ جائیں۔  میری دکان کے پیچھے ایک مہاجر کا بھی چائے کا ہوٹل ہے لیکن مجھ سمیت اکثر دکاندار اور علاقے کے لوگ  کبھی اس کی چائے کو پٹھان ہوٹل والے کی چائے پر ترجیح نہیں دیتے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;باخدا میرا یقین کیجئیے چاہے میں ہزار بار غلام فرید کو پینڈو کہوں لیکن دل سے اسے بہت عزیز سمجھتا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ چونکہ وہ پنڈ سے آیا ہے اسلئیے اکثر ناراض ہوجاتا ہے اور پھر جواب میں خوب کراچی والوں میں کیڑے نکالتا ہے اور میں اسکی باتوں سے خوب محظوظ ہوتا ہوں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113348486048993238?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113348486048993238/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113348486048993238' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113348486048993238'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113348486048993238'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post_02.html' title='تعصب پسند کراچی والے'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113338737413929432</id><published>2005-12-01T02:16:00.000+05:00</published><updated>2005-12-01T02:49:34.200+05:00</updated><title type='text'>نئے دن پرانی باتیں</title><content type='html'>کراچی میں سردی کا موسم بس ایسا ہوتا ہے کہ آپ کوئی ہلکی سی چادر اوڑھ کر آرام سے سو سکتے ہیں۔ یا کھڑکیاں بند کرلیں تو موسم بالکل گرم ہوجاتا ہے۔ کراچی کے سردی سے ترسے ہوئے لوگ سردیوں کا موسم باقاعدہ سیلیبریٹ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گذشتہ چند روز سے کوئٹہ میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گرگیا ہے جس کی وجہ سے ہمیں بھی کچھ ادھار کی سردی مل گئی ہے۔ نورالعین اور مناہل بھی آئے ہوئے تھے تو ہم نے پرانے البم نکال لئیے۔ مونگ پھلیاں کھاتے ہوئے اور کافی پیتے ہوئے ہم نے پرانے البم دیکھے اور ایک دوسرے کا خوب مذاق اڑایا۔ نورالعین بچپن میں بہت موٹی تھی لیکن پھر اسے ہوش آیا اور ڈائٹنگ اور ایکسرسائز کر کے وہ دبلی ہوگئی۔ مناہل کے ہونے کے بعد وہ پھر موٹی ہوگئی اور آجکل وہ پھر ڈائٹ کر رہی ہے تاکہ پھر سے دبلی ہوجائے۔ اب ہمارے پاس نورالعین کے ایسے بہت سارے فوٹو ہیں۔ کسی میں وہ موٹی ہے کسی میں دبلی اور کسی میں پھر دوبارہ موٹی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عازب جب چھوٹا تھا تو اسکے بال ہیری پوٹر جیسے تھے۔ چاہے کتنی ہی مانگ نکالنے کی کوشش کریں اسکے بال پھسل کر پھر ماتھے پر آجاتے تھے۔ میں لڑکپن کے دنوں میں بہت کول نظر آنے کی کوشش کرتا تھا۔ بیچ کی مانگ نکال کر جینز اور عجیب و غریب ٹی شرٹس پہنتا تھا۔ کامران کے بچپن کے فوٹو تو بہت ہی مسکین صورت ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب عازب اس دور میں ہے جو میں گزار چکا ہوں۔ اب عازب بیچ کی مانگ کے بال نکالتا ہے اور جینز اور کولسٹ شرٹس پہننے کی کوشش کرتا ہے۔ کامران ہمارے گھر میں سب سے زیادہ سوشلائز بندہ ہے۔ جینز ٹی شرٹ اور جیکٹ پہن کر وہ اپنی عمر کے تمام لڑکوں جیسا نظر آنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں اب چھوٹے چھوٹے بال رکھتا ہوں۔ سادی سی پینٹ شرٹ پہنتا ہوں شوخ رنگوں سے گریز کرتا ہوں اور آہستہ آہستہ موٹاپے کی طرف مائل ہوں۔ میرے سکس پیک ایبس غائب ہورہے ہیں اور ان کی جگہ چھوٹی سی توند نکل رہی ہے۔ اٹھائیس انچ کی کمر اب بتیس انچ ہوگئی ہے۔ چوڑے کندھوں پر اب چربی نظر آنے لگی ہے۔ ساٹھ کلو وزن سے اب ستر بہتر کلو ہوگیا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کاش میرے پاس کوئی ٹائم مشین ہوتی تو میں وقت میں پیچھے چلا جاتا۔ جب ہم سب بہن بھائی چھوٹے تھے اور اسکول جاتے تھے۔ عازب اور عینی بہت شوق سے اسکول جاتے تھے۔ کامران بھی شوق سے اسکول جاتا تھا مگر وہ ہمیشہ سب سے دیر میں اٹھتا تھا اور پھر بھاگ دوڑ میں تیار ہوتا تھا اور اکثر اسکول دیر سے پہنچنے پر ڈانٹ کھاتا تھا۔ میں سب سے زیادہ بہانے باز تھا جب تک ہفتے میں ایک دو چھٹیاں نہیں کرلیتا تھا تو چین نہیں آتا تھا۔ اسکول سے آکر ہم کھیلتے کودتے تھے اور ایکدوسرے کو خوب تنگ کرتے تھے۔ خصوصا عازب اور نورالعین تو ہمیں امی ابو سے اکثر ڈانٹ پڑواتے تھے۔ پھر رات کو ہم سب این ٹی ایم پر ساتھ بیٹھ کر بیک ٹو دی فیوچر، الفریڈ ہچکاک پریزنٹس اور لٹل وومن دیکھتے تھے۔ ان دنوں میں این ٹی ایم نامی چینل پرانی پاکستانی فلمیں بھی دکھاتا تھا جو میرے امی ابو اور میں شوق سے دیکھتے تھے لیکن کامران عازب اور نورالعین بیچ میں ہی سوجاتے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہوسکتا ہے کہ پانچ دس سال بعد میں پھر ڈائری لکھ رہا ہوں اور اس دن میں آج کا یہ دن یاد کروں اور لکھوں کہ کس طرح ہم سب بہن بھائی پرانے البم دیکھ کر خوش ہوتے تھے اور ہم کتنی خوشدلی اور بے فکری سے ہنستے تھے۔ برابر والے کمرے میں کامران، عازب اور نورالعین ابھی بھی باتیں کررہے ہیں۔ میں بھی وہاں جارہا ہوں تاکہ پانچ سے دس سال بعد والی پوسٹ میں لکھنے کے لئیے زیادہ سے زیادہ خوشگوار یادیں جمع کرسکوں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113338737413929432?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113338737413929432/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113338737413929432' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113338737413929432'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113338737413929432'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/12/blog-post.html' title='نئے دن پرانی باتیں'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113309297345149618</id><published>2005-11-27T16:57:00.001+05:00</published><updated>2005-11-27T17:25:21.116+05:00</updated><title type='text'>منافقت کی ایک اور قسم</title><content type='html'>جناب افتخار احمد اجمل صاحب نے اپنے بلاگ پر ا&lt;a href="http://hypocrisythyname.blogspot.com/2005/11/blog-post_26.html"&gt;یک پوسٹ لکھی ہے&lt;/a&gt;۔ آپ لوگ اندازہ لگا چکے ہونگے کہ میں ایسے موضوعات پر نہیں لکھتا۔ لیکن چند دنوں سے افتخار صاحب کے بلاگ کا معائنہ کرنے کے بعد اور ان پر دئیے گئے تبصرہ جات پڑھنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ اس معاملے میں لکھنا ضروری ہے۔ یہ احساس ہونے کے بعد میں نے افتخار صاحب کی پوسٹ پر ایک تبصرہ بھیجا جو انہوں نے رد کردیا۔ اسلئیے میں وہ تبصرہ مزید اضافے کے ساتھ یہاں شائع کر رہا ہوں۔ بہتر ہوگا کہ پہلے آپ افتخار اجمل صاحب کی پوسٹ پڑھ لیں اور پھر آگے پڑھیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;محترم افتخار اجمل صاحب نے اپنی اس پوسٹ دو اہم غلطیاں کی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ وہ ڈیوڈ ارونگ کو تاریخ دان لکھتے ہیں۔ دوسری یہ کہ وہ اس کی گرفتاری کو یہودیوں کے ہالوکاسٹ کی حقیقت بیان کرنے کا شاخسانہ ظاہر کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ ڈیوڈ ارونگ کا ذکر اس مقدمے کے بغیر ادھورا ہے جو ارونگ نے امریکی تاریخ دان ڈیبوراہ لیپسیڈ اور ان کے پبلشر پینگوئن بکس پر کیا تھا۔ امریکی تاریخ دان نے اپنی کتاب میں ڈیوڈ ارونگ کی ہالوکاسٹ کے بارے میں تحقیق کو فضول قرار دیا تھا اور اس پر الزام لگایا تھا کہ وہ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ عدالتی کاروائی کے دوران ہی ڈیوڈ ارونگ کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوگیا کیونکہ مصنفہ اور ان کے پبلشر نے مقدمے کے شروع ہی میں اس بات کے ثبوت پیش کردئیے تھے کہ ڈیوڈ ارونگ کی تحقیق جھوٹ کا پلندہ ہے۔ جب صورتحال یہاں پہنچی تو ڈیوڈ نے فورا اس جنگ کو آزادی اظہار کی جنگ بنادیا۔ بہر حال وہ مقدمہ ہار گیا۔ اسی مقدمے کے دوران مصنفہ ڈیبوراہ نے کیمبرج کے پروفیسر رچرڈ جے ایونز کی بطور ماہر گواہ خدمات حاصل کی۔ گرچہ ڈیبوراہ لیپسیڈ اور چند مزید تاریخ دان پہلے ہی ارونگ کے کام میں کئی نقص ڈھونڈ چکے تھے مگر کسی نے اس کے کام کا اسقدر گہرا مشاہدہ نہیں کیا تھا۔ پروفیسر ایونز نے دو سال تک ارونگ کے کام کا معائنہ کیا اور اپنا تبصرہ ان الفاظ میں دیا:&lt;p style="font:14px 'trebuchet MS', arial, sns-serif; text-align:left;direction:ltr;padding:10px"&gt;&lt;br /&gt;"Not one of [Irving’s] books, speeches or articles, not one paragraph, not one sentence in any of them, can be taken on trust as an accurate representation of its historical subject. All of them are completely worthless as history, because Irving cannot be trusted anywhere, in any of them, to give a reliable account of what he is talking or writing about. ... if we mean by historian someone who is concerned to discover the truth about the past, and to give as accurate a representation of it as possible, then Irving is not a historian."&lt;/p&gt;میرے خیال میں اس سے یہ تو واضح ہوگیا کہ ارونگ ایک تاریخدان تو قطعا نہیں ہے۔ اب آتے ہیں دوسری غلطی کی طرف جو یہ ہے کہ چونکہ ارونگ نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے ہالوکاسٹ کو مبالغہ آمیز مانتا ہے تو اسلئیے اسے آسٹریا میں گرفتار کیا گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آسٹریا کے قانون کے مطابق، آسٹریا میں نازی ازم کو ترویج، فروغ یا آغاز دینے کی کوئی بھی کوشش قانونا جرم ہے۔ اسی قانون کے تحت نازی مظالم کو جائز ثابت کرنے کی کوئی بھی کوشش آسٹریا میں قانونا جرم ہے۔ ڈیوڈ ارونگ آسٹریا کے انڈرگراؤنڈ نیونازی طلبہ کی تنظیموں کو بھڑکانے کے لئیے ایک عرصے سے مواد فراہم کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ دنیا بھر میں نیو نازی تنظیموں کا چہیتا ہے۔ اسے دنیا بھر میں اینٹی سیمیٹک گروہ خصوصی دعوت ناموں پر بلواتے ہیں۔ ارونگ کو پہلے بھی کئی بار آسٹریا میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے۔ اس نے اپنی کتاب ہٹلرز وار میں سے نازی مظالم کے کئی مضامین شامل کرنے کے بعد مٹادئیے حالانکہ وہ واقعات تاریخی لحاظ سے درست تھے۔ جو دعوی وہ اپنے لیکچروں میں کرتا ہے ان کا تاریخ سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ وہ صرف پرو نازی اور اینٹی سیمیٹک پروپگینڈا ہوتا ہے اور اس کی یہ غلطی یورپ کی ایک عدالت عالیہ کے سامنے ثابت ہوچکی ہے۔ جس وقت اسے گرفتار کیا گیا اس وقت وہ پرو نازی مظالم لیکچر دینے کے لئیے ویانا جارہا تھا کہ دھر لیا گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گرچہ میں نازی ازم کے خلاف ان قوانین کو ٹھیک نہیں سمجھتا۔ مگر جن قوموں کا یہاں ذکر ہورہا ہے شاید ان سے زیادہ قیمت جنگ عظیم کی کسی اور قوم نے نے ادا نہیں کی اور یہ یادیں بہت تلخ ہیں۔ نازی مظالم کے حوالے سے آسٹریا کی اپنی تاریخ ہے جو یہودیوں پر ہٹلر کے مظالم کے سوا ہے۔ یورپ کی نازی ازم سے بیزاری کا اتنا تعلق یہودی دوستی سے نہیں ہے جتنی تھرڈ ریخ دشمنی سے ہے۔ جس قانون کا اوپر ذکر ہوا ہے اس کے تحت تھرڈ ریخ کے احیائے نو کی کوششیں بھی آسٹریا اور جرمنی میں جرم ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ارونگ کو پتہ تھا کہ آسٹریا اور جرمنی کے قوانین اس بارے میں بہت حساس ہیں تو اسے ضرورت ہی کیا تھی کہ وہ وہاں جا کر نفرت انگیز تقریریں کرے۔ بار بار وہاں پرو نازی طلبہ تنظیموں کو اکسائے، بھڑکائے اور انہیں اپنے نظریات کی تشہیر کے لئیے استعمال کرے؟ سستی شہرت کا حصول۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں یہ سمجھتا کہ جناب افتخار صاحب شاید یہ سب باتیں لکھنا بھول گئے تھے لیکن چونکہ انہوں نے میرا تبصرہ مٹادیا تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ باتیں سامنے آئیں۔ اسی لئیے میں نے وہی تبصرہ یہاں لکھ دیا ہے تاکہ سند رہے۔ اس کے علاوہ ان کی اسرائیل کی تاریخ کے بارے میں پوسٹس میں کئی مقامات پر کئی اہم تاریخی حوالوں اور حقیقتوں کو بیان نہیں کیا گیا۔ جس سے وہ تمام پوسٹس بالکل جانبدار ہوجاتی ہیں۔ لیکن افتخار صاحب نامعلوم کیوں اپنی پوسٹس پر لنکس نہیں دیتے۔ مثال کے طور پر اگر وہ &lt;a href="http://en.wikipedia.org/wiki/History_of_ancient_Israel_and_Judah"&gt;اسرائیل کی تاریخ پر ویکیپیڈیا کا لنک دیتے&lt;/a&gt; ہیں تو پڑھنے والے آگے جاکر کچھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مستند تاریخ لوگوں کے دل میں اسرائیل سے بیزاریت پیدا نہیں کرسکتی۔ اسلئیے ضروری ہے کہ افتخار صاحب مسلمان بلاگرز کے لئیے ایسی مستند تاریخ لکھ دیں کہ وہ کبھی اسرائیل فوبیا سے باہر نہ نکل سکیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جو کام افتخار صاحب نہایت عرق ریزی سے انجام دے رہے ہیں وہ نان فکشن مضامین اور کتابوں کی ایک پوری نسل کا سلسلہ ہے۔ اسرائیل کے کچے چٹھے کھولنے کی یہ مہم پوری دنیا میں زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ افتخار صاحب منافقت کا ذکر کرتے ہیں تو اس میں کچھ اضافہ کرتا چلوں کہ اسرائیل اور نام نہاد صیہونی سازشوں پر جتنی کتابیں سفید فام عیسائیوں نے لکھی ہیں مسلمانوں نے اس کا دس فیصد نھیں لکھا۔ اور ایسی اکثر کتابیں امریکہ میں شائع ہوتی ہیں اور گرم گرم کیک کی طرح دھڑادھڑ فروغ ہوتی ہیں۔ اگر امریکہ کے میڈیا پر یہودیوں کا اتنا ہی کنٹرول ہے تو کیونکر یہ کتابیں نہ صرف شائع ہوجاتی ہیں بلکہ واشنگٹن پوسٹ جیسے موقر جریدوں میں ان کے طویل تبصرے شائع ہوتے ہیں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حقائق کو چھپانا، اپنی مرضی کے حقائق شائع کرنا اور لوگوں کے محنت اور تحقیق سے لکھے گئے تبصروں کو مٹانا، یہ منافقت نہیں ہے کیا؟&lt;br /&gt;&lt;div class="english"&gt;&lt;br /&gt;Read More:&lt;br /&gt;&lt;a href="http://en.wikipedia.org/wiki/David_Irving"&gt;Wikipedia: David Irving&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://www.guardian.co.uk/secondworldwar/story/0,14058,1651305,00.html"&gt;Guardian Unlimited,   &lt;br /&gt;'Repentant' Irving to plead guilty but must stay in jail &lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://www.fpp.co.uk/"&gt;David Irving's website&lt;/a&gt; There you can download and read Irving's books&lt;br /&gt;&lt;a href="http://lipstadt.blogspot.com/"&gt;Deborah Lipstadt's blog&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113309297345149618?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113309297345149618/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113309297345149618' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113309297345149618'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113309297345149618'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/11/blog-post_113309297345149618.html' title='منافقت کی ایک اور قسم'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113301523337115695</id><published>2005-11-26T19:26:00.000+05:00</published><updated>2005-11-26T19:29:48.106+05:00</updated><title type='text'>جملہ حقوق کی جنگ</title><content type='html'>میری پچھلی پوسٹ پکنک ان ہسپتال پر میرے گھر میں جملہ حقوق کے حوالے سے قانونی بحث چھڑ گئی ہے۔ جب میری یہ پوسٹ اعلی عدالت کے روبرو پیش کی گئی تو میری پچھلی تمام پوسٹس پر بھی سوال اٹھے اور مجھ پر یہ سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ میں دوسروں کی کہی ہوئی باتیں اور ان کے سنائے ہوئے قصے آگے سنا کر داد و تحسین پارہا ہوں۔ اس داد میں ان لوگوں کو بھی حصہ ملنا چاہئیے جنہوں نے دراصل یہ کہانیاں مجھے سنائیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرا موقف یہ ہے کہ ان لوگوں نے صرف تذکرہ کیا اور میں نے ان کے تذکرے کو لکھا اس لئیے اس داد و تحسین اور حقوق اشاعت پر ان کا دعوی بے بنیاد ہے۔ مگر ثبوت کے ساتھ مجھ پر یہ الزام عائد کیا گیا میں نے چند جملے حرف بحرف نقل کردئیے ہیں حالانکہ یہ جملے کسی اور نے کہے تھے اور مجھے اصولا قصہ یوں سنانا چاہئیے تھا کہ فلاں شخص نے یوں کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ فلاں شخص میری بہن نورالعین ہیں اور انہیں میری پوسٹ پکنک ان ہسپتال پر شدید اعتراضات ہیں۔ ہمارے گھر کے تنازعات سلجھانے کی عدالت میری والدہ اس معاملے میں فی الحال کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ طے یہ پایا ہے کہ دونوں فریقین رات کو مزید دلائل اور گواہان کے ساتھ پیش ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ لوگ میرا بلاگ پڑھ کر لطف اندوز ہوئے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا میری بہن نورالعین اس پوسٹ پر کریڈٹ کی حقدار بنتی ہیں یا یہ کہ کیونکہ یہ پوسٹ میں نے لکھی ہے اور اس کی تزئین و آرائش کی ہے تو اس لحاظ سے میں اس پوسٹ کے تمام جملہ حقوق کا بلاشرکت غیرے مالک ہوں؟ یاد رہے کہ آپ کی دلائل رات کو اعلی عدالت کے روبرو پیش ہونگی اور اگر آپ میری حمایت کریں گے تو میں آئندہ آپ کو دوسروں کے سنائے ہوئے قصے مزید چٹخارے کے ساتھ سنانے کی یقین دہانی کرتا ہوں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113301523337115695?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113301523337115695/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113301523337115695' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113301523337115695'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113301523337115695'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/11/blog-post_26.html' title='جملہ حقوق کی جنگ'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113193800453068742</id><published>2005-11-14T07:15:00.000+05:00</published><updated>2005-11-14T08:13:25.440+05:00</updated><title type='text'>پکنک ان ہسپتال</title><content type='html'>عید پر اعجاز بھائی کو بخار ہورہا تھا۔ جو کسی طرح اترنے کا نام نہ لے رہا تھا۔ تیسری عید کو ان کے گھر والے انہیں ہمدرد یونیورسٹی ہسپتال لے گئے۔ وہاں جا کر وائرل انفیکشن تشخیص ہوا اور انہوں نے ایک کمرا اعجاز بھائی کو الاٹ کردیا۔ نورالعین مناہل کو ہمارے گھر چھوڑ کر خود سارا دن ہسپتال میں رہتی۔ تین دن بعد ہسپتال والوں نے انہیں چھوڑ دیا۔ اب ماشاءاللہ وہ خیریت سے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہمارے یہاں لوگوں کو اتنا شوق عیادت کا نہیں ہوتا جتنا ہسپتال جانے کا ہوتا ہے۔ ادھر سنا کہ فلاں شخص ہسپتال میں ہے ادھر اس کی عیادت کو دوڑے۔ وہی شخص جب گھر میں ہوتا ہے تو کوئی اس کی عیادت کو نہیں آتا۔ اعجاز بھائی کو بھی تین دن تیماردار اور عیادت دار گھیرے رہے۔ وہیں بیٹھے بیٹھے اعجاز بھائی کے سرہانے رکھے سارے پھل کھاجاتے، خوب کولڈ ڈرنکس اور چائے پیتے، ادھر ادھر کی برائیاں کرتے، بیماریوں پر اپنی اپنی تحقیقاتی روپورٹس شیئر کی جاتیں۔ مریض کو ایسے سب قصے سنائے جاتے جہاں ایک آدمی معمولی بخار کے وائرس سے پاگل ہوگیا یا عازم سفر اخیر ہوا۔ اگر مریض ڈرنے سے انکار کردیتا تو اسے یہ بتایا جاتا کہ یہ بخار کسی موذی بیماری کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے۔ بوڑھی خواتین منہ ہی منہ کچھ بدبدا کر پھونکیں مارتیں۔ مرد حضرات مریض کے سرہانے بیٹھ کر اپنے کاروبار کے اسرار و رموز ایکدوسرے کو بتاتے۔ کبھی پالیٹیکس پر بات ہوتی کبھی زلزلے پر۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اعجاز بھائی کے پاس رات کو ان کی والدہ یا رشتے کی نانی رکتیں مردوں میں ان کا ایک کزن رکتا جو ہسپتالوں میں بطور تیمار دار رہنے کے حوالے سے خاصا تجربہ کار ہے۔ اور یہ سب اٹینڈینٹس ساری رات گھوڑے ہی نہیں، گدھے، گائے بھینسیں، بکری، دنبے، کتے، بلیاں اور کوے بیچ کر سوتے اور صبح دس بجے تک کروٹ بھی نہ لیتے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مناہل بڑی بہادر بچی ہے۔ تین دن تک اس نے ایک بار بھی اپنے پاپا کے پاس جانے کی ضد نہ کی اور جب پاپا نے ہسپتال سے فون کیا تو بولی۔ "پاپا آپ مجھے بہت یاد آرہے ہیں مجھے نانی کے ہاں سے لے جائیں"۔ اس سارے عرصے میں اس نے ہمارے گھر میں کسی کو تنگ نہ کیا، نہ روئی نہ ضد کی۔ ورنہ جب وہ اپنی امی کے ساتھ ہوتی ہے تو اتنا شور مچاتی ہے اور بہت ضد کرتی ہے۔ جب اس کے پاپا گھر آگئے تو وہ گھر جاکر اجنبی سی بنی رہی۔ اس کے پاپا نے اسے پاس بلایا تو پھر شرماتی شرماتی ان کے پاس چلی گئی اور بڑے جذباتی انداز میں بولی پاپا میں تو آپ سے اتنا پیار کرتی ہوں اور آپ مجھے نانی کے ہاں چھوڑ کر چلے گئے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج ایک گانا پیش خدمت ہے۔ میں رقص بھی پیش کردیتا مگر اس ڈر کے مارے یہ جسارت نہیں کر رہا کہ کہیں میرا رقص دیکھ کر آپ لوگوں کو ہمدرد یونیورسٹی ہسپتال کے شعبہ امراض خلل دماغ میں مشورے کے لئیے نہ جانا پڑجائے۔ اور اتنے پیسے تو آپ کے علاج میں خرچ نہیں ہونگے جتنے پیسوں کی آپ کے رشتہ دار چائے پی جائیں گے۔ دیکھا مجھے آپ لوگوں کی بچت کرانے کا کتنا خیال رہتا ہے۔ تو یہ رہا گانا، اور اس گانے کے ساتھ اردو بلاگرز سے ایک عرض کرنی ہے کیوں نہ ہم لوگ بلاگز کے ذریعے انتاکشری کھیلیں؟ بس شرط یہ ہوگی کہ گانا تھوڑا سا لکھنا ہوگا اور گانے کے ڈاؤنلوڈ کا لنک دینا ہوگا۔ کیا خیال ہے؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/bab15.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0pt 0pt 10px 10px; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/bab15.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایسی نظر سے دیکھا اس ظالم نے چوک پر&lt;br /&gt;ہم نے کلیجہ رکھ دیا، چاقو کی نوک پر&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;( تماشائیوں کا شور: سبحان اللہ! کمال کردیا! او میں تو مر گیا! )&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرا چین وین سب اجڑا&lt;br /&gt;ظالم نظر ہٹالے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;برباد ہورہے ہیں جی&lt;br /&gt;تیرے اپنے شہر والے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہو میری انگڑائی نہ ٹوٹے تو آجا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کجرارے ! ! !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کجرارے کجرارے  تیرے کارے کارے نینا&lt;br /&gt;او کجرارے کجرارے تیرے کارے کارے نینا&lt;br /&gt;ہو میرے نینا میرے نینا میرے نینا جڑواں نینا&lt;br /&gt;کجرارے کجرارے  تیرے کارے کارے نینا&lt;br /&gt;او کجرارے کجرارے تیرے کارے کارے نینا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;امیتابھ اور ایشوریا کا تباہی &lt;a href="http://www.apniisp.com/hindisongs.php?id=1206"&gt;ڈانس نمبر&lt;/a&gt;۔ اس گانے کی خاص بات ایشوریا نہیں ہے بلکہ اس گانے کے بول اور موسیقی ہیں۔ دیکھیں پہلے شعر کے بعد جو تماشائی واہ واہ کرتے ہیں اگر صرف اسے گانے سے نکال دیں تو یہ پورا گانا بیکار ہوجائیگا۔ اس گانے کی چند ویڈیو کلپز &lt;a href="http://www.aishwarya-forever.com/multimedia/babtrailers.html"&gt;یہاں&lt;/a&gt; دیکھی جاسکتی ہیں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113193800453068742?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113193800453068742/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113193800453068742' title='12 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113193800453068742'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113193800453068742'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/11/blog-post_14.html' title='پکنک ان ہسپتال'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>12</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113125872194147136</id><published>2005-11-06T10:37:00.000+05:00</published><updated>2005-11-06T11:32:02.020+05:00</updated><title type='text'>کراچی کے ذائقے</title><content type='html'>کراچی میں کسی زمانے میں ایک سینما ریوالی ہوا کرتا تھا۔ یہ سینما اس علاقے میں تھا جہاں آج نشیمن اور افشاں سینما بدستور فلمی انڈسٹری کی زبوں حالی سے لڑ رہے ہیں اور بری بری فلمیں چلا کر کسی نہ کسی طرح ابھی تک کھلے ہیں۔ کچھ مہینے پہلے جوبلی سینما بھی ڈھادیا گیا ہے۔ خیر تو ریوالی کے برابر میں ایک لسی والے کی دکان تھی۔ جب لوگ فلم دیکھ کر نکلتے تھے تو اس دکان سے لسی پیا کرتے تھے۔ سالوں بعد وہ سینما تو نہیں رہا مگر لسی والے نے خوب ترقی کی۔ سینما کے ختم ہونے کے بعد وہ علاقہ گاڑیوں کے پارٹس کی خریداری کا مرکز بن گیا۔ کچھ دور مزید نئے شاپنگ سینٹر بھی کھل گئے۔ آج بھی وہ دکاندار ڈیڑھ سو من دودھ کی روزانہ لسی، دہی، دودھ، دودھ کی بوتلیں بیچ رہا ہے۔ اور یہ دکان اب اس علاقے میں ریوالی کے نام سے مشہور ہے۔ میری دکان اس دکان سے تھوڑی ہی دور ہے۔ لیکن ہماری دکان کی طرف ایک بہت گنجان قدیم رہائشی علاقہ ہے۔ ہماری زیادہ دکانداری گھریلو صارفین پر مشتمل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری لسی زیادہ نہیں بکتی۔ ہاں دودھ اور دہی خوب چلتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ریوالی والا ہماری دکان سے مشرق کی سمت پر ہے۔ مغرب میں ایک اور دکاندار ہے۔ چنوں پہلوان۔ یہ صاحب کوئی تیس سال پہلے سڑک پر پتھارا لگا کر دودھ بیچا کرتے تھے۔ آج دکان میں بیٹھ کر ساٹھ من دودھ دہی لسی وغیرہ بیچ رہے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شمال میں بے شمار دودھ کی چھوٹی موٹی دکانیں دکانیں ہیں اور جنوب میں &lt;a href="http://www.dilpasandsweets.com/"&gt;دلپسند&lt;/a&gt; مٹھائی والا ہے۔ یہ صاحب ایک متروک بلڈنگ میں جلیبیاں بیچا کرتے تھے اور آج ان کی مٹھائی باہر ملکوں میں بھیجی جارہی ہے۔ ان کی دکان کے بالکل سامنے صابری نہاری ہاؤس ہے۔ یہ وہی نہاری والے ہیں جن کی نہاری کی ساری دنیا میں دھوم ہے۔ ان کی دکان کے پیچھے اردو بازار ہے اور اس سے آگے برنس روڈ جہاں کی حلیم، نہاری، ربڑی، بریانی اور کٹاکٹ نے دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ برنس روڈ سے اگر آپ بس میں بیٹھیں تو صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر صدر ہے. جہاں شفیق کا میرٹھی کباب ہاؤس ہے جو سن سینتالیس سے چل رہا ہے۔ اس سے آگے ایک  قلفی کی دکان ہے۔ جو تاریخی بھی ہے اور بے حد مشہور بھی۔ اس کے بعد غوثیہ ہوٹل ہے جو اب بند ہوچکا ہے کیونکہ ایک پارٹی نے غوثیہ سنز کی آپسی چپقلش کا فائدہ اٹھا کر یہ کروڑوں روپے کا ہوٹل بہت اچھے داموں میں خرید لیا ہے۔ اس سے پیچھے گلی میں ایس سلیمان مٹھائی والے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;برنس روڈ واپس آئیں تو فریسکو سوئٹس، بھاشانی سوئٹس اور حافظ کے سموسے اور منی گلاب جامن بھی وہ تاریخی جگہیں ہیں جو آج بھی معیار اور ذائقے کی پہچان ہیں۔ برنس روڈ ہی پاکستان کا وہ علاقہ ہے جہاں سے بن کباب نکلا جو برگر کی کلانچوی شکل ہے۔ جس ٹھیلے سے یہ بن کباب نکلا تھا وہ ٹھیلا آج بھی فریسکو کے سامنے موجود ہے اور آج بھی کراچی کا بیسٹ بن کباب وہیں سے مل سکتا ہے۔ یہ سب دکانیں کہاں واقع ہیں اسے دیکھنے کے لئیے گوگل ارتھ استعمال کریں اور لےیرز میں٘ گوگل ارتھ کمیونٹی چیک کردیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کراچی کے کھانوں میں دہلی سے آئے ہوئے مہاجروں کا بڑا حصہ ہے اوپر بیان کی گئی زیادہ تر دکانیں دہلی والوں ہی کی ہیں۔ مگر آج اگر نہاری، حلیم، بریانی، چکن تکوں کی بات ہو تو دہلی کی مثال کوئی نہیں دیتا۔ کراچی حلیم اور بریانی کے نام سے ریستوران شمالی امریکہ میں بھی چل رہے ہیں اور &lt;a href="http://centerstage.net/restaurants/sabri-nehari.html"&gt;صابری نہاری&lt;/a&gt; کے نام سے ایک ریستوران شکاگو میں چل رہا ہے۔ کراچی کا سوہن حلوہ اور مصالحہ جات دنیا بھر میں ایکسپورٹ ہورہے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ سب لکھنے کا سبب بنا اجمل صاحب کا میری پچھلے پوسٹ پر تبصرہ جس سے مجھے یہ سوچنا پڑا کہ اگر وہ میری دکان آئے تو میں انہیں لسی کے علاوہ اور کیا کھلاؤں گا۔ دیکھیں اجمل صاحب آپشنز کی کمی نہیں بس جلدی سے ٹکٹ پکڑ کر آجائیں۔ قدیر کو بھی دعوت ہے۔ لیکن قدیر میاں میں نے یہ سنا ہے کہ ملتان میں ایک دکان ہے جہاں کی لسی بے مثال ہے۔ آتے ہوئے ان سے ذرا گر پوچھتے آنا۔ شعیب صفدر تو کراچی میں ہی رہتے ہیں بائیک پر بیٹھ کر منٹوں میں پہنچ سکتے ہیں۔ کراچی کے ایک  روشن خیال بلاگر تو سمجھیں میرے ہی محلے میں رہتے ہیں اور ان سے ملاقات بھی ہوچکی ہے۔ لیکن وہ دکان پر نہیں آئے حضور آپ بھی کبھی وقت نکالیں۔ بے فکر رہیں میری دکان میں پلاسٹک کے کپ بھی ہیں اور اسٹرا بھی۔ دیگر بلاگر حضرات و خواتین کو بھی دعوت ہے۔اب اتنا سارا ذکر کھانے کا ہوا ہے اور رمضان بھی ختم ہوگئے ہیں تو میں چلا حلوہ پوری کھانے خداحافظ۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113125872194147136?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113125872194147136/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113125872194147136' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113125872194147136'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113125872194147136'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/11/blog-post_06.html' title='کراچی کے ذائقے'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113114520946785300</id><published>2005-11-05T03:53:00.000+05:00</published><updated>2005-11-05T04:00:09.480+05:00</updated><title type='text'>ایک پاکستانی آرٹسٹ کی تلاش</title><content type='html'>چاند رات کو ہماری خوب سیل ہوئی۔ دوپہر دو بجے سے جو سیل ہوئی تو رات گیارہ بجے ختم ہوئی جس دوران ہم نے عام دنوں سے دوگنا دودھ بیچا۔ منافع بالکل کچھ نہیں ہوا۔ چاند رات کو رش کے درمیان کوئی ہمیں ہزار روہے کی ٹوپی پہناگیا۔ جب رات کو پیسے گننے بیٹھے تو اس میں ہزار روپے کا نوٹ ایسا نکلا جس میں کسی شر پسند شخص نے قائداعظم کی ٹوپی کو انگریزی فلیپ ہیٹ میں بدلنے کی کوشش کی تھی اور ان کے منہ میں زبردستی ایک سگار بھی گھسایا گیا تھا جس سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔ اگر وہ شخص جس نے مجھے یہ نوٹ دیا ہے کبھی یہ بلاگ پڑھے تو اس کے لئیے عرض ہے کہ بھائی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال کے لئیے کوئی سستا کاغذ استعمال کیا کرو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں سوچ رہا ہوں کہ نوٹ اپنی دکان پر نرخنامے کے نیچے چپکادوں اور اس کی سرخی یہ لکھوں:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;قائداعظم ایک احسان فراموش پاکستانی آرٹسٹ کی نظر میں&lt;br /&gt;(نوٹ: اگر آرٹسٹ یہ نوٹ دیکھیں تو فورا کلیم کریں کیونکہ ان کے اس نوٹ پر کئیے گئے کام کو عنقریب ہونے والی ذہنی معذور مصوروں کی نمائش کیلئیے منتخب کرلیا گیا ہے۔)&lt;br /&gt;(نوٹ در نوٹ: اگر آپ اس پینٹنگ کرنے والے کو جانتے ہیں تو ہمیں مطلع کریں۔ اطلاع دینے والے کو مبلغ پانچ سو روپے نقد انعام دیا جائے گا۔ ان کی شناخت صیغہ راز رکھی جائیگی اور انہیں امریکہ کا ویزا بھی دیا جائیگا۔)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نماز سے پہلے عازب اور کامران کی سستی کی وجہ سے ہم مسجد بہت دیر سے پہنچے۔ اور جوتیاں اتارنے کی جگہ سے تھوڑا ہی آگے جگہ پاسکے۔ عازب تو اور بھی پیچھے رہ گیا تھا۔ شکر ہے یہ جگہ بھی مل گئی ورنہ باہر سڑک پر نماز پڑھنا پڑتی۔ نماز کے بعد گلے ملنے والوں نے گھیر لیا۔ لوگ یوں گھوم رہے تھے جیسے شکار کی تلاش میں ہوں ادھر کوئی شناسا چہرہ دکھا ادھر اسے دبوچ کر گلے سے لگالیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عید کی نماز کے بعد مٹھائی لینے گئے تو وہاں ایسا رش لگا تھا جیسے مٹھائی مفت بنٹ رہی ہو۔ لوگ عید کی نماز کے کپڑے پہنے کارٹونوں کی طرح ہاتھ ہلا ہلا کر چلا رہے تھے۔ "دو کلو گلاب جامن! ایک کلو چم چم!" اگر صرف یہ لوگ قطار بنانا جانتے تو سب کو مٹھائی طریقے سے بھی ملتی اور وہ یوں چیخ چیخ کر ہلکان بھی نہ ہوتے۔ گھر آکر سویاں، قیمہ پراٹھا، آلو کی ترکاری اور کچوریاں کھائیں۔ مٹھائی چکھی۔ اس کے بعد میں ایک دوست کے ساتھ گیا۔ وہاں سے چار بجے آیا اور سوگیا۔ نو بجے دکان گیا اور پھر گھومتا گھماتا اب گھر پہنچا ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بےچارے دکاندار عید پر بڑے برے پھنستے ہیں۔ میرے گاہگ جن کے میں نام بھی نہیں جانتا بلکہ صرف اسلئیے مسکراتا ہوں تاکہ وہ اچھا فیل کریں یہ سمجھ کر کہ میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں عید پر گلے ملنا چاہتے ہیں۔ اور یہ بہت مشکل کام ہے۔ بار بار کاؤنٹر کے پیچھے سے نکل کر گھوم کر جانا اور پھر عید مبارکباد کرنا۔ آج میں نے شاید دس ہزار لوگوں سے گلے ملے ہونگے اور گلے مل مل کر عید مبارک کہہ کہہ کر اور جھوٹ موٹ مسکرا مسکرا کر میرا تو منہ دکھ گیا ہے۔ لیکن ابھی تھوڑی ہمت باقی ہے اسلئیے آپ لوگوں کو ڈس اپائنٹ نہیں کرونگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/Big_Hug.gif"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/Big_Hug.gif" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;عید مبارک&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113114520946785300?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113114520946785300/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113114520946785300' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113114520946785300'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113114520946785300'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/11/blog-post_05.html' title='ایک پاکستانی آرٹسٹ کی تلاش'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113099677603321580</id><published>2005-11-03T10:42:00.000+05:00</published><updated>2005-11-03T10:47:48.370+05:00</updated><title type='text'>عید پر اپنے بھائیوں اور ان کے زخمی بچوں کو نہ بھول جائیے گا</title><content type='html'>عید مناتے ہوئے یہ نہ بھول جائیے گا کہ ہمارے لاکھوں پاکستانی بھائی کس پریشانی میں گھرے ہیں۔ کراچی کے کئی سرکاری اور غیرسرکاری ہسپتالوں میں زلزلے کے کئی متاثرین زیر علاج ہیں۔ آپ کم از کم عید پر ان کی عیادت کو تو جا ہی سکتے ہیں۔ میں اور میرا ایک دوست کل دوپہر کو سول ہسپتال کراچی جانے کا پروگرام رکھتے ہیں مگر سننے میں آیا ہے کہ سول ہسپتال کی انتظامیہ ملنے والوں سے اتنی تنگ آگئی ہے کہ انہوں نے زلزلہ متاثرین سے ملنے پر پابندی لگادی ہے۔ ضروری ہے کہ آپ کے پاس کراچی پریس کلب کا کارڈ ہو یا پھر متاثرین آپ کو اندر بلوائیں۔ میری ایک خاتون گاہگ سول ہسپتال کے برنس وارڈ میں انچارج ہیں اور جس لڑکے ساتھ میں جارہا ہوں وہ قومی اخبار کا کرائم رپورٹر رہ چکا ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی سفارش نہیں تو عباسی شہید یا جناح پوسٹ گریجویٹ میں ٹرائی کریں۔ مٹھائی نہ لے کر جائیے گا کیونکہ ہوسکتا ہے وہ لوگ دل شکستہ ہوں۔ کوشش کیجیئے کہ گھر کی بنی ہوئی کوئی چیز لے کر جائیں اور پلیز خدا کے لئیے انہیں نقد رقم دینے کی کوشش نہیں کیجئیے گا۔ ایک خود دار قوم کی عزت نفس کو کاغذوں سے توڑنے کی کوشش نہ کریں۔ وہ ابھی بھی اتنے ہی خوددار ہیں جتنے آپ۔ ہمدردی کے دو بول دو لاکھ روپے سے بھاری ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/earthquake-eid.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/earthquake-eid.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;جناح ہسپتال میں ایک بچی دوسری زخمی بچی کے ہاتھ پر مہندی لگا رہی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113099677603321580?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113099677603321580/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113099677603321580' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113099677603321580'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113099677603321580'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/11/blog-post_03.html' title='عید پر اپنے بھائیوں اور ان کے زخمی بچوں کو نہ بھول جائیے گا'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113089657599461205</id><published>2005-11-02T06:46:00.000+05:00</published><updated>2005-11-02T06:56:16.233+05:00</updated><title type='text'>سب تعریفیں اللہ ہی کے لئیے ہیں</title><content type='html'>صوبہ سرحد کے طالبان بل کے بارے میں اردو بلاگز بہت لکھ رہے ہیں۔ ہم صوبہ سندھ میں رہتے ہیں اسلئے ہمیں اس بل سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سندھ کے وڈیرے اس بل کو کبھی سندھ میں نہیں لگنے دیں گے۔ سندھ میں چونکہ کراچی بھی شامل ہے تو اسلئے یہ بل کراچی کی معیشت اور پاکستان کی معیشت کے لئیے نقصان دہ ہے جس کی وجہ سے یہ یہان نہیں چل سکتا۔ کراچی کی کافی خواتین ویسے ہی برقعے فیشن میں پہنتی ہیں اور آجکل تو حجاب بہت ہی عام ہوگیا ہے۔ اس کو مزید عام کرنے کے لئیے میڈیا زیادہ بہتر کردار ادا کر رہا ہے جیسے جیو پر ایک خاتون صحافی عاصمہ آتی ہیں جو حجاب پہنتی ہیں۔ قانون سازی کے ذریعے اخلاقیات نہیں سدھرتیں بلکہ تعلیم، تبلیغ، تربیت اور عمل کر کے دکھانے سے لوگ جلدی کسی چیز کی طرف مائل ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گانے بجانے پر پابندی تو بے فضول ہے ہاں اونچی آواز میں بجانے پر پابندی ہونا چاہئیے۔ خواتین کے اشتہارات کی بات ہے تو یہ مسئلہ مغربی ممالک میں بھی عام ہے اور وہاں بھی خواتین کی انجمنیں عورتوں کو بطور نمائشی چیز پیش کرنے پر اکثر آواز اٹھاتی ہیں۔ خواتین کی اشتہارات میں موجودگی کو مانیٹر کرنے کا اختیار صرف صارفین یا خواتین کی انجمنوں کو ہونا چاہئیے کسی مذہبی پولیس کو نہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;صوبہ سرحد کی حکومت ایشین بینک سے اور ورلڈ بینک سے جو قرضے لیتی ہے کیا وہ سود سے پاک ہوتے ہیں یا صوبہ سرحد میں اسلامی قانون صرف عوام کے لئیے ہے اور حکومت کے لئیے نہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج کامران بازار گیا عید کی شاپنگ کرنے اور دو عدد لش قسم کی پتلونیں اور شرٹس لایا ہے۔ عازب نے بھی کچھ خریداری کی ہے۔ میں نے کچھ نہیں لیا کیونکہ میرے پاس پہلے ہی بہت کپڑے ہیں اور عید پر شلوار قمیض پہن کر نماز پڑھنے جانا ہوتا ہے تو میرے پاس ایک جوڑا نیا پڑا ہوا ہے جو میں عید پر پہن لونگا۔ جوتے اور سینڈل بھی ہیں۔ ٹوپیاں بھی ڈھیر پڑی ہیں اور ویسے بھی میں کپڑے بدل کر جاؤں گا کہاں اور بال بناؤنگا کس کے لئیے وہ ڈارلنگ تو شہر ہی چھوڑ گئی میں گانا گاؤں کس کے لئیے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس سے مجھے یاد آتا ہے جب میں نیا نیا جوان ہوا تھا۔ دراز زلفیں، کھلا گریبان اور بیگی پھر چست پتلونیں پہن کر دوستوں کے ساتھ سی ویو جایا کرتا تھا۔ میرے دوست ان لوگوں میں سے تھے جو خواتین کو تاڑتے نہیں تھے بلکہ ایک نظر میں ہی زیادہ سے زیادہ دیکھ کر جلدی سے مہذب بن جاتے تھے۔ کبھی مجھے ان آدمیوں پر رشک آتا ہے جو دیدہ دلیری سے خواتین کو دیکھتے ہیں۔ اور ہم جیسے لوگ شرم ہی شرم میں کئی ایسے چہرے مس کردیتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر کسی شاعر نے کہا تھا کہ تعریف اس خدا کی جس نے تجھے بنایا۔ ایک بلاگر ہیں ہارون امریکہ میں رہتے ہیں خدا کی تعریف کے بارے میں ان کا &lt;a href="http://avari.blogs.com/weblog/2005/10/surat_alfatihah.html"&gt;یہ کہنا ہے&lt;/a&gt;۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113089657599461205?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113089657599461205/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113089657599461205' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113089657599461205'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113089657599461205'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/11/blog-post_02.html' title='سب تعریفیں اللہ ہی کے لئیے ہیں'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113080202063388759</id><published>2005-11-01T04:39:00.000+05:00</published><updated>2005-11-01T04:40:20.656+05:00</updated><title type='text'>رو رو کر کرتے ہیں فریاد گناہگار ہیں تیرے بندے ہمیں معاف کردے</title><content type='html'>یاللہ ہمیں صراط المستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور ہمارے گناہوں کو معاف فرمادے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عامر لیاقت حسین نے آج جیو پر دعا کے دوران ہمارے گھر میں سب کو رلا رلا کر بے حال کردیا۔ اچھی طرح رونے کے بعد سحری کھانے کا لطف ہی اور ہے۔ ندامت کے آنسو انسان کو کتنا ہلکا کردیتے ہیں اور ان کا ایفیکٹ کتنا ایمیڈیٹ ہوتا ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113080202063388759?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113080202063388759/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113080202063388759' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113080202063388759'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113080202063388759'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/11/blog-post.html' title='رو رو کر کرتے ہیں فریاد گناہگار ہیں تیرے بندے ہمیں معاف کردے'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113053920078357505</id><published>2005-10-29T03:31:00.000+05:00</published><updated>2005-10-29T03:41:35.203+05:00</updated><title type='text'>ڈیلیشیئس فنگر فش اور اچھے ڈیزائن کے سموسے</title><content type='html'>آج جمعے کی نماز کے بعد مسجد سے باہر نکلنے میں ہی دس منٹ لگ گئے۔ مسجد کے باہر ٹھیلے والوں نے اور بھکاریوں نے راستہ بند کررکھا تھا اور جو لوگ گاڑیاں موٹرسائیکلیں نکال رہے تھے اس سے صورتحال اور خراب ہوگئی۔ ایک بیچارہ معصوم بچہ اتنا بڑا فل سائز ٹھیلا لئیے گھسا آرہا تھا اس کے ٹھیلے پر چند کیلے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے اندازہ لگایا کہ باقی مال وہ کسی اور مسجد کے آگے بیچ آیا ہے۔ اب ایک طرف یہ بچہ ہے اور دوسری طرف ہٹے کٹے فقیر اور فقیرنیاں۔ ایک غریب اپنے بچپن کی خوشیاں قربان کر کے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھر رہا ہے اور دوسرے غریب بھیک مانگ کر۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج گھر پر افطار میں خصوصی اہتمام تھا۔ میری ایک خالہ اپنے بچوں سمیت آئی ہوئی تھیں۔ سموسے، پکوڑے، جلیبی، امرتی، شاہی ٹکڑے، کچالو، شامی کباب، مشروب مشرق روح افزاء، آلو چھولے کی چاٹ غرض بدہضمی کرنے کے تمام عناصر یکجا کردئیے گئے تھے اور روزے داروں نے دن بھر کے اپنے صبر کا بدلہ اب اپنے معدوں سے لینا تھا۔ ویسے روزے سے پہلے انسان سوچتا ہے افطار کے بعد یہ کھاؤں گا وہ کھاؤں گا مگر جب روزہ کھل جاتا ہے تو کچھ کھایا نہیں جاتا۔ جب تک میری بہن کی شادی نہیں ہوئی تھی تو وہ اکلوتی ہونے کی وجہ سے خوب لاڈ اٹھواتی تھی۔ تب ہمارے گھر میں افطاری میں روز سب سے اچھے ڈیزائن کے سموسے، پکوڑوں، تلی ہوئی ہری مرچوں، اور سب سے ڈیلیشیئس نظر آنے والی فنگر فش پر خوب پھڈا ہوتا تھا۔ میرے والدین ہمیشہ نورالعین کا سائیڈ لیتے تھے اور ہمیں بہن کی بات ماننے کی ہدایت کی جاتی تھی۔ تب افطار میں بڑا مزہ آتا تھا۔ سب گھر والے ساتھ بیٹھ کر روزہ کھولتے تھے۔ اب کامران اور ابو تو افطار کے وقت گھر پر نہیں ہوتے عازب بھی باہر اپنے دوستوں کے ساتھ افطار پارٹیز کر رہا ہوتا ہے۔ نہ کوئی اچھے ڈیزائن کے سموسوں پر جھگڑتا ہے اور نہ کوئی دہی بھلوں میں نقص نکالتا ہے۔ اکثر ایسے سموسے جن کے ملکیتی حقوق پر پہلے مقدمات چلتے تھے اب وہ سموسے ماسی کے لئیے بچ جاتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج دکانداری کم رہی، چھٹی والے روز دن میں دکانداری زیادہ ہوتی ہے اور رات میں کم۔ آج غلام فرید نے شعر سنایا، اقبال کے چاہنے والوں سے معذرت کے ساتھ میں نے اس میں کچھ ترمیم کرنے کی گستاخی کی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کافر ہے تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسہ&lt;br /&gt;مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی&lt;br /&gt;اور پھر بہت پٹتا ہے سپاہی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج میں یہ سوچ رہا تھا کہ ہمارے پاکستانی دکاندار اپنی دکانوں پر بہت زیادہ آیات اور دعائیں وغیرہ کیوں لکھواتے ہیں۔ دکان سے لیکر رکشے تک ایسی بہت ساری دکانیں میں نے نوٹ کیں جن کے باہر بورڈز پر مختلف آیات قرآنی درج تھیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یااللہ یا محمد&lt;br /&gt;اور اللہ بہتر رزق دینے والا ہے&lt;br /&gt;اور وہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے&lt;br /&gt;ماشاءاللہ&lt;br /&gt;الصلوتہ والسلام علیک یا رسول اللہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دیواروں پر لگے پوسٹر اور اشتہارت بھی بہت مذہبی ہوتے ہیں۔ جیسے جشن آمد رسول، محفل نعت خوانی، درس قرآن، شفاءمنجانب اللہ، فلاں فلاں جماعت کا تبلیغی اجتماع، اور الحداللہ کسی نئی دکان کا عظیم الشان افتتاح۔ میں کبھی پاکستان سے باہر کہیں نہیں گیا مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ شاید دوسرے ملکوں میں یہ دوغلا پن کم ہوگا۔ دکھاوا الگ اور کام غلط۔ یا ہوسکتا ہے ہم واقعی بہت اچھے اور نیک مذہبی قوم ہوں۔ فرض کریں اگر کوئی طالبعلم کسی دوسرے ملک میں رہ کر اردو اور عربی پڑھنا سیکھے اور وہ پاکستان آئے تو ایک اسٹوڈنٹ کے طور پر وہ ہمارے اشتہاری بورڈز پڑھے گا اور یہ سمجھے گا کہ ہم تو بہت ہی اچھے اور نیک لوگ ہیں جو ہر وقت خوف خدا سے تھر تھر کانپتے رہتے ہیں۔ مگر جب اسے ہماری اصلیت کا پتہ چلے گا تو وہ ہمارے دوغلے پن پر کتنا مایوس ہوگا؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جس رکشے والے کے ساتھ میں روز آتا ہوں اب اس سے جان چھڑانا پڑے گی۔ ایک تو اس کے رکشے میں بریک نہیں ہیں دوسرے وہ بند سگنل میں بھی رکشہ گھسا دیتا ہے۔ آج رات سڑکوں پر عید قریب ہونے کی وجہ سے رش تھا۔ اور اس رش میں اس نے بند سگنل میں تیزی سے رکشہ آگے بڑھادیا اور ایک ٹینکر سے بال بال بچتا ہوا فٹ پاتھ سے جا ٹکرایا۔ میں نے تصور کی آنکھ سے خود کو زخمی دیکھا اور اگلے دن کے قومی اخبار کی سرخی تصور کی، نوجوان دودھ فروش اور رکشہ ڈرائیور ٹینکر کی زد میں آکر زخمی ہوگئے اور ٹینکر والا جائے واردات سے فرار ہوگیا۔ کل سے دوسرے رکشے میں آؤنگا۔ ویسے بھی یہ رکشے والا بہت گندہ ہے اور اسکا رکشہ بھی ٹوٹا پھوٹا ہے اس کی حالت دیکھ دیکھ کر مجھے خار آتا ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113053920078357505?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113053920078357505/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113053920078357505' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113053920078357505'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113053920078357505'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/10/blog-post_29.html' title='ڈیلیشیئس فنگر فش اور اچھے ڈیزائن کے سموسے'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113046347662025537</id><published>2005-10-28T06:30:00.000+05:00</published><updated>2005-10-30T17:38:49.573+05:00</updated><title type='text'>نوجوانی کے دنوں کی ایک یادگار تصویر</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/lassimaking.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0pt 10px 10px 0pt; float: left; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/lassimaking.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;p style="font-family: 'Comic Sans MS', 'Trebuchet MS', sans-serif;direction:ltr;text-align:left;" &gt;Reproduced with permission from Mr. K. Anano. He took this picture in March 2001 during his travel to Calcutta, India. You can visit his website &lt;a href="http://www5b.biglobe.ne.jp/%7Einano/index%28Eng%29.htm"&gt;here&lt;/a&gt;.&lt;/p&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113046347662025537?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113046347662025537/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113046347662025537' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113046347662025537'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113046347662025537'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/10/blog-post_113046347662025537.html' title='نوجوانی کے دنوں کی ایک یادگار تصویر'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113046159982120451</id><published>2005-10-28T05:21:00.000+05:00</published><updated>2005-10-28T07:25:17.066+05:00</updated><title type='text'>مانگنے والے اور والیاں</title><content type='html'>قدیر احمد رانا کے مشورے پر بلاگ کے کچھ مرمت کی ہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ بلاگنگ کی دنیا میں میرا اسطرح استقبال ہوگا۔ اردو بلاگرز کی حوصلہ افزائی سے میرا بلاگ چند ہی دنوں میں نومولود بلاگ کی صف سے نکل کر طفل مکتب کی صف میں آگیا۔ کچھ حوصلہ قدیر کے ای میل سے ملا اور میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب بلاگ کو عید سے پہلے ہی نئے کپڑے پہنادیں۔ میں نے ایک ٹیمپلیٹ پسند کیا اور اسکے فونٹ اور ڈائریکشن وغیرہ بدل دئیے چند گھنٹوں کی محنت سے اب یہ کافی بہتر نظر آتا ہے۔ میں نے فونٹ کو نفیس نسخ سے اردو نسخ کردیا تو پتہ چلا کہ اب میرے بلاگ پر ' آّ ' صاف نظر نہیں آتا اسکے لئیے تھوڑا کام اور کرنا پڑے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہماری دکان پر آج دودھ جلدی ختم ہوگیا۔ رش بہت تھا اور اس رش میں مانگنے والے اتنے تھے کہ پتہ نہیں چلتا تھا کون مانگنے والا ہے کون خریدار ہے۔ خصوصا دور جدید کی بھکارنیں، بالکل نئے اور ماڈرن برقعے پہنے یہ خواتین جب سامنے آتی ہیں تو کوئی نہیں کہ سکتا کہ یہ بھیک مانگتی پھر رہی ہیں۔ مجھے غصہ تب آتا ہے جب یہ عورتیں آستین پکڑنے اور ہاتھ لگانے کی کوشش کرتی ہیں۔ مجھے اور لڑکوں کا نہیں پتہ مگر جب کوئی نامحرم عورت مجھے ہاتھ لگاتی ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا۔ گرچہ ان میں سے زیادہ تر فقیرنیاں خراب نہیں ہوتیں مگر کچھ تو باقاعدہ دعوت نامے بانٹ رہی ہوتی ہیں گناہ کے اور یہ سب کچھ ہورہا ہوتا ہے برقعے کی آڑ میں۔ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے شریف لڑکوں کو اپنی عزت سنبھالنا مشکل ہوگیا ہے۔ فقیرنیوں کی تو چھوڑیں ایک لڑکی ہماری دکان پر آتی ہے اور وہ تو میرے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے۔ خواہ مخواہ فری ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ کبھی نام پوچھتی ہے کبھی فون نمبر۔ کبھی تو میرا جی چاہتا ہے کہ اسے ٹھیک ٹھاک سنادوں مگر بس ہمت نہیں پڑتی۔ جیسے ہی وہ آتی ہے میں غلام فرید کو اشارہ کردیتا ہوں اور پھر خود منہ پھیر کر کھڑا ہوجاتا ہوں۔ غلام فرید کہتا ہے بھائی کیا ہے دے دو نا نمبر ویسے ہی تمہارے موبائل پر میں نے آج تک کوئی کال آتے نہیں دیکھی اسی بہانے میں بھی سن لوں گا کہ آپ نے کونسی رنگ ٹون سیٹ کر رکھی ہے۔ بہت گھنا ہے وہ سارے دن کا بدلہ ایک ہی جملے سے چکادیتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو بات ہورہی تھی فقیرنیوں کی ۔ کئی مرتبہ تو میں ان فقیرنیوں کے دھوکے میں کئی خواتین گاہگوں کو "معاف کرو مائی" کہہ چکا ہوں۔ ایک مرتبہ ایک بڑی بی دکان پر آئیں اور انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھا کر مجھے دیکھنے لگیں۔ انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھا کر ہاتھ آگے کرنا بھکاریوں کا بین الاقوامی سائن ہے۔ میں نے جھٹ معذرت کرلی تو بڑی بی بولیں "ارے! میں کوئی تمہیں بھکاری نظر آّرہی ہوں"۔ ان کا یہ بولنا تھا اور میری ہنسی چھوٹ گئی اب ایک طرف تو میں ہنسی روکنے کی کوشش کر رہاہوں دوسری طرف ان سے معافی بھی مانگ رہا ہوں۔ خیر انہوں نے زیادہ برا نہیں منایا اور خود بھی مسکرادیں۔ دراصل وہ ایک کلو دودھ مانگ رہی تھیں۔ اب وہ جب بھی دکان پر آتی ہیں تو اشارہ کرنے کے بجائے ایک کلو دودھ منہ سے کہتی ہیں۔ ہر بار جب بھی ان کی میری آنکھیں ملتی ہیں تو ہم دونوں کو ہنسی آجاتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہماری دکان پر اتنے گاہگ نہیں آتے جتنے مانگنے والے آتے ہیں۔ بھیک مانگنے والے، تھیلیاں مانگنے والے، پانی پینے والے، پینے کا پانی مانگنے والے، کھلا (چینج) مانگنے والے، ادھار دودھ دہی مانگنے والے، اور بہت سارے مانگنے والے ایک کے بعد ایک آتے ہیں۔ اگر یہ سب لوگ میری دکان سے دودھ بھی لیں تو میں ایک سال کے اندر آدھا کراچی نہیں تو کم از کم اپنی پوری بلڈنگ تو خرید ہی لوں گا۔ کامران کے ٹائم پر تو اور بھی زیادہ مانگنے والے آّتے ہیں کیونکہ کامران کے ماتھے پر لکھا ہے کہ یہ اہل مروت ہیں تقاضا نہ کریں گے۔ میں تو جب غصے میں ہوتا ہوں تو آنکھیں سر پر رکھ لیتا ہوں۔ بالکل پیروٹ آئیز ہوجاتا ہوں۔ آج ایک بندہ دودھ لینے آیا ڈیڑھ کلو دودھ لیا اور جب دودھ بندھ گیا تو میرے ہاتھ میں چالیس روپے رکھ کر کہنے لگا دو روپے کل لے لینا۔ میں نے کہا ایک منٹ ٹہریں اور دودھ کی تھیلی سائڈ میں کری اور انہیں چالیس روپے کا دودھ دے دیا وہ کہنے لگے یار تم دو روپے کے لئیے ایسا کر رہے ہو میں تمہارا روز کا گاہگ ہوں۔ میں نے کہا اگر تم ایک دن دو روپے کا دودھ کم پی لوگے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بس بھائی وہ تو ہتھے سے اکھڑ گیا۔ میں نے چالیس روپے نکال کر رکھ دئیے اور کہا اگر دودھ لینا ہے تو جتنا دودھ چاہئیے اتنے پیسے دو ورنہ جتنے پیسے تمہاری جیب میں ہیں اتنا ہی دودھ لو۔ وہ جناب لگے ضد بحث کرنے۔ یہ ہوگئی ہے ہم پاکستانیوں کی عادت اگر مانگنے سے کوئی چیز نہ ملے تو چاہے ہمارا حق نہ بنتا ہو تب بھی ہم اسے ضد بحث سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہماری دکان پر کچھ لوگ تو صرف اسلئیے آتے ہیں کہ وہ اخبار پڑھ سکیں اور تازہ ترین ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کرسکیں۔ زلزلے کے متاثرین کے لئیے کی جانیوالی امداد کی نیوز، کراچی میں زلزلے کی خبریں، امدادی سامان میں ہونیوالی ہیرا پھیری آجکل کے ہاٹ ٹاپک ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی بلاگنگ کے بارے میں بات نہیں کرتا جو کہ آجکل میرا فیورٹ ٹاپک ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113046159982120451?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113046159982120451/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113046159982120451' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113046159982120451'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113046159982120451'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/10/blog-post_28.html' title='مانگنے والے اور والیاں'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113036603365148993</id><published>2005-10-27T03:31:00.000+05:00</published><updated>2005-10-27T03:36:29.066+05:00</updated><title type='text'>شیطان کی ویکیشنز</title><content type='html'>جب سے میں نے کمپیوٹر میں ایک نیا گیم ڈالا ہے تب سے کامران اور عازب کو کمپیوٹر پر سے ہٹانا اور بھی مشکل ہوگیا ہے۔ عازب کو اپنے گٹار ٹیبز کے لئیے بھی انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کی کلاسسز کے علاوہ وہ ایسے کسی اور بندے کو نہیں جانتا جو گٹار بجاتا ہو اسلئیے انٹرنیٹ پر اسنے &lt;a href="http://www.indianguitartabs.com/"&gt;انڈین گٹار ٹیبز&lt;/a&gt; کی مدد سے بہت سارے دوست بنالئیے ہیں۔ اس کے ایم ایس این مسینجر کی لسٹ مستقبل کے راک اسٹارز سے بھری ہوئی ہے۔ میرے کمپیوٹر کی آدھی ہارڈ ڈسک پر عازب کی ریکارڈنگز، اس کا میوزک کلیکشن اور اس کے دوستوں کے گانے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ گانے اتنے بے سرے ہوتے ہیں مگر ہر بار عازب یہ گانے سن کر اپنے دوستوں کو جواب دیتا ہے "اٹز کول یار"، جوابا وہ بھی عازب کی ریکارڈنگز سن کر ایسے ہی مسیج بھیجتے ہیں۔ میں تصور کی آنکھ سے انہیں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے ہیں اور میرے جیسے اپنے کسی بڑے بھائی کو عازب کا گانا سنوارہے ہیں اور اسی طرح ہنس رہے ہیں جیسے میں اور عازب ان کے بے سرے گانوں پر ہنستے ہیں۔ مگر میں عازب کا حوصلہ بڑھاتا ہوں "پاگل ایک دن یہ سب لوگ ہمارے گانے انڈس میوزک پر سن رہے ہونگے تب پتہ چلے گا کون بے سرا ہے"۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کامران کو براؤسنگ کا اتنا شوق نہیں وہ بس گیم کھیلنے ہی کے لئیے کمپیوٹر استعمال کرتا ہے۔ اور اگر وہ ایک بار بیٹھ گیا تو اسے اٹھانے کے لئیے سو جتن کرنے پڑتے ہیں۔ جب پیار سے کام نہیں بنتا تو غصہ دکھایا جاتا ہے اور اگر غصے سے کام نہ بنے تو پھر امی کو بلانے کی دھمکی دی جاتی ہے اور جب وہ بھی بے کار ہوجائے تو ہاتھا پائی اور گھسیٹا گھساٹی کرکے اسے اٹھانا پڑتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج دکان پر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عباس کا نام تبدیل کردیا جائے۔ عباس ہماری دکان پر کام کرتا ہے اور اس کا تعلق پنجاب کے ضلع چیچہ وطنی کے ایک گاؤں سے ہے۔ جب سے رمضان شروع ہوئے ہیں ایک تو وہ پورے روزے رکھ رہا ہے دوسرا اسے رہ رہ کر اپنے گاؤں اور اپنے لوگوں کی باتیں یاد آرہی ہیں۔ عباس بتاتا ہے کے گاؤں میں شام کو لوگ اکٹھے ہوکر بیٹھتے ہیں تو ایک دوسرے کو ادھر ادھر کی باتیں بتاتے ہیں۔ عباس کی زیادہ تر معلومات انہیں باتوں سے اخذ کردہ ہوتی ہے حالانکہ اسے کراچی میں ایک عرصہ ہوگیا ہے مگر پھر بھی وہ اکثر گاؤں کی بیٹھکوں میں سنی ہوئی باتیں سناتا ہے جو بہت دلچسپ ہوتی ہیں۔ ہمارے ملک کے دیہات میں تعلیم کی صورتحال آجکل کچھ بہتر ہوگئی ہے مگر دس سال پہلے ایسا نہیں تھا۔ دیہات میں ابھی بھی اکثر لوگ یا تو اپنے بچوں کو اسکول ہی نہیں بھیجتے یا پھر بیچ میں سے ہی اٹھالیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہاں لوگ جاہل ہیں تو وہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ وہاں تعلیم کا ایک ایسا سسٹم کام کررہا ہے جو حیرت انگیز بھی ہے کارآمد بھی۔ اور وہ تعلیمی سسٹم ہے بات چیت کا، پیری مرشدی کا، محبت کا۔ یہ سسٹم ادھورا تو ہے مگر اتنا برا نہیں اور پھر دیہاتوں میں جو ہماری حکومتوں نے تعلیم سے غفلت برتی ہے اگر اس کی روشنی میں اس سسٹم کو دیکھا جائے تو اس سسٹم نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ نیکی عام کی ہے، لوگوں کو شرافت اور انسانیت سکھائی ہے، ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنا سکھایا ہے اور اللہ کے بندوں سے پیار کرنا سکھایا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عباس نے اپنے گاؤں کی بیٹھک میں جو قصے سنے ان میں سے چند پیش خدمت ہیں۔ مجھے ان قصوں کی سچائی جاننے کی ضرورت نہیں۔ مجھے دلچسپی اس بات سے ہے کہ ان قصوں کا دیہات کی عوام پر کیا اثر پڑا ہے۔ عباس سناتا ہے:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک مرتبہ حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ نے ایک جنگل میں مسجد بنانے کا ارادہ کیا اور وہیں اپنی کٹیا بھی ڈال دی۔ آپ کے چاہنے والوں سے مسجد آباد ہوگئی تو علاقے کے حاکم کو خبر ہوئی اس نے بابا فرید کے خلاف عدالت میں عرضی ڈال دی۔ عدالت نے بابا صاحب کو طلب کیا۔ جہاں بابا صاحب کا بس یہ جواب تھا کہ یہ تو اللہ کی زمین ہے اور حاکم وقت کا زمین کی ملکیت کا دعوی صحیح نہیں ہے۔ وہاں موجود محرر جب کاغذ پر لکھتے کہ زمین فلاں حاکم کی ہے تو اللہ کے حکم سے ان کے قلم رک جاتے اور وہ لکھ نہ پاتے۔ کافی بحث و تکرار کے بعد بابا صاحب نے جج صاحب سے کہا آپ ایسا کریں کہ زمین سے ہی پوچھ لیں آیا وہ اللہ کی زمین ہے یا حاکم وقت کی۔ انگریز جج آپ کی شہرت پہلے ہی سن چکا تھا اسلئیے اس نے آپ کو آزمانے کی غرض سے حامی بھرلی اور بمع عدالتی عملہ، فریقین اور چند گواہوں کے ساتھ اس مقام پر پوچھے۔ وہاں پہنچ کر بابا نے زمین پر پیر مارا اور کہا "بول اللہ کے حکم سے کہ تو کس کی ہے؟" زمین سے آواز آئی میں تو فرید کی ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عباس بتاتا ہے کہ اس کے والد کے پیر صاحب جدی پشتی رئیس ہیں اور وہ جب ان کے گاؤں آتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو بھی گلے لگاتے ہیں جن کے پاس پہننے کو کپڑے بھی نہیں ہوتے اور جنہیں دین دنیا کی کوئی خبر نہیں ہوتی اور گاؤں کے دیگر لوگ بھی انہیں حقیر خیال کرتے ہیں۔ اور پیر صاحب ان کے گھر بھی جاتے ہیں ان کے بچوں کی خیریت پوچھتے ہیں انہیں پیار کرتے ہیں اور چلتے چلتے ان کے ہاتھ میں چپکے سے کچھ نہ کچھ رکھ آتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ سب قصے عباس نے ایسے لوگوں سے سنے ہیں جو کہ عباس کے مقابلے میں بہت کم تعلیم یافتہ تھے۔ عباس تو پھر بھی میٹرک پاس ہے۔ جب وہ بابا بھلے شاہ کا ذکر کرتا ہے اور جب حضرت شمس تبریزی کی باتیں کرتا ہے تو پتہ نہیں کہاں گم ہوجاتا ہے۔ میں جب یہ چاہتا ہوں کہ عباس کا دھیان گھڑی پر سے ہٹ جائے تو کسی نہ کسی بزرگ کا ذکر چھیڑ دیتا ہوں اور بس پھر عباس نان اسٹاپ شروع ہوجاتا ہے۔ غوث پاک سے شروع کرتا ہے اور کلفٹن والے عبداللہ شاہ غازی پر لاکر ختم کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ مجھے تو بابا فرید سے محبت ہے اور میں تو بس ان کا ادنی سا غلام ہوں۔ اسلئیے ہم نے عباس کا نام بدل کر غلام فرید رکھ دیا ہے۔ عباس یہ نام سن کر بہت خوش ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج ہماری دکان پر مارکیٹ سے آٹھ لسی کا آرڈر آیا جب کسی ایسی دکان سے لسی کا آرڈر آتا ہے جہاں ہم کسی کو نہیں جانتے تو پھر ہم آرڈر کے پیسوں کے ساتھ ساتھ کچھ مزید رقم بھی بطور ڈپازٹ رکھ لیتے ہیں۔ جسٹ ان کیس اگر کوئی شرپسند شخص ہمارے گلاس چرا کر بھاگ جائے یا توڑ دے تو ہم اپنا نقصان کم کرسکیں۔ تو آج جو بندہ آرڈر لایا اس کے پاس پانچ سو کا نوٹ تھا میرے پاس بھی دکان میں چینج نہیں تھا۔ اسلئیے میں نے اسے کہا کہ جب آپ گلاس بھجوائیں گے تب ہی پیسے لے لینا اور وہ مان گیا۔ اسی دوران ایک اور بچہ آیا۔ اس نے دو کلو دودھ لیا اور سو کا نوٹ دے کر بقایا پیسے واپس لئیے بغیر ہی چلا گیا۔ رش کا ٹائم تھا اسلئے مجھے پیسے کاٹنے میں دیر ہوگئی۔ خیر بارہ بج گئے نہ گلاس واپس آئے نہ وہ بچہ آیا تو میں غلام فرید سے کہنے لگا کہ یار آج تو بہت پیسے جمع ہوگئے اور ہم یہ منصوبہ بنانے لگے کہ اگر ہمارے گلاس واپس نہ آئے تو اس دکاندار سے کیا جرمانہ وصول کریں گے اور یہ جو دو کلو والے کے چوالیس روپے ہیں ان سے کیا عیاشی کی جائے۔ مگر جبھی وہ دو کلو والا بچہ آیا انکل آپنے مجھے پیسے واپس نہیں کئیے۔ اور اس کے جاتے ہی وہ گلاس والا بھی آگیا۔ ہم بھول گئے تھے کہ رمضان میں تو شیطان ویکیشنز پر جہنم کی سیر کو گیا ہوتا ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113036603365148993?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113036603365148993/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113036603365148993' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113036603365148993'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113036603365148993'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/10/blog-post_27.html' title='شیطان کی ویکیشنز'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113028500813365374</id><published>2005-10-26T05:02:00.000+05:00</published><updated>2005-10-26T05:03:28.326+05:00</updated><title type='text'>چھپکلی کی موت آتی ہے تو وہ ہمارے گھر کا رخ کرتی ہے</title><content type='html'>آج افطار کے بعد بلاگ پر ایک پوسٹ ڈالی۔ عازب نے اس پوسٹ پر اپنی تصویر دیکھ کر شدید احتجاج کیا مگر میں نے اسے سمجھایا کہ یار یہ تصویر اتنی کیوٹ ہے کہ ہر کوئی اسے پسند کرے گا۔ اس کے بعد میں دکان چلاگیا۔ آج بہت دن بعد ہماری سیل میں کچھ اضافہ ہوا۔ ہمارے منافع کا زیادہ انحصار لسی اور دہی پر ہوتا ہے۔ اس لئیے سیل میں ہونے والا اضافہ منافع نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ لسی اور دہی کا استعمال موسم پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔ ویسے بھی رمضان میں دن میں تو لسی صرف نان مسلمز کے ہی لئیے دستیاب ہوتی ہے۔ اس لئیے سوائے ایک دو ہندو اور عیسائی گاہگوں کے اور کوئی لسی پینے نہیں آتا اور اگر آتا بھی ہے ابو اسے اتنا شرمندہ کرتے ہیں کہ وہ خود ہی شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہے۔ حالانکہ میرے ابو خود روزہ نہیں رکھتے مگر دوسروں کو شرم دلانے میں وہ کمال رکھتے ہیں۔ جیسے اگر ایک گاہک دکان میں داخل ہوا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کسٹومر: چاچا لسی ملے گی کیا؟&lt;br /&gt;ابو: ہاں اگر آپ غیر مسلم ہو تو۔&lt;br /&gt;کسٹومر: نہیں چاچا الحمداللہ میں تو مسلمان ہوں۔&lt;br /&gt;ابو: میاں مسلمان تو رمضان میں روزے رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;کسٹومر: چاچا میری کچھ مجبوری تھی۔&lt;br /&gt;ابو: کیا مجبوری تھی۔&lt;br /&gt;کسٹومر: میری طبیعت خراب ہے&lt;br /&gt;ابو: طبیعت خراب ہے تب تو تمہیں ویسے ہی لسی نہیں پینا چاہئے۔&lt;br /&gt;کسٹومر: نہیں اب تو اللہ کا کرم ہے۔&lt;br /&gt;ابو: چھ گھنٹے پہلے سحری کے وقت تمہاری طبیعت خراب تھی اور اب صحیح ہے؟&lt;br /&gt;کسٹومر: مجھے ڈاکٹر نے روزہ رکھنے سے منع کیا تھا&lt;br /&gt;ابو: غلط کوئی ڈاکٹر روزہ رکھنے سے منع نہیں کرتا بشرطیکہ بندے کی حالت بہت خراب ہو۔ مگر تم تو ماشاءاللہ ٹھیک ٹھاک لگ رہے ہو۔&lt;br /&gt;کسٹومر: آپ لسی پلارہے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ منع کردیں&lt;br /&gt;ابو: میں کیوں منع کردوں؟ اگر اتنے سوال جواب کے بعد بھی تم بے شرم بنے کھڑے ہو تو تمہاری غلطی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ سن کر کسٹومر جانے لگتا ہے تو ابو اسے آواز دے کر بلالیتے ہیں۔ اچھا آج تمہیں لسی پلادیتا ہوں مگر کل سے روزہ رکھنا۔ اور اگلے دن سے وہ کسٹومر غائب ہوجاتا ہے۔ وہ روزہ پھر بھی نہیں رکھتے مگر کوئی ایسی دکان ڈھونڈ لیتے ہیں جہاں انہیں یہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ دن پہلے کسی کام سے صدر جانا ہوا۔ میرے ساتھ عازب بھی تھا۔ ہم نے سوچا کہ گھر پہنچتے پہنچتے روزہ کھل جائے گا تو یہیں سے پیپسی کی بوتل لے لیں۔ ایک بیکری میں داخل ہوئے بوتل لینے کے بعد جو مڑ کر دیکھا تو روزہ خوروں کی بھیڑ اندر بیٹھی چھپ کر پیٹ پوجا کر رہی تھی۔ انہیں اسطرح کھاتے دیکھ کر عازب کی اور میری ہنسی چھوٹ گئی اور ان میں سے بھی کچھ مسکرانے لگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج دکان سے گھر آتے ہوئے بہت دیر ہوگئی۔ دکان سمیٹتے ہوئے ہی ایک بج گیا پھر اچانک لائٹ چلی گئی۔ باہر سب کی لائٹ آرہی تھی سوائے ہماری دکان کے۔ میری دکان کے برابر میں ایک پان والا ہے جس کے ساتھ ہم اپنا بجلی کا میٹر شئیر کرتے ہیں۔ چونکہ بیچارے پان والے کی دکان رمضان میں سارا دن بند رہتی ہے اسلئیے وہ رات بھر دکان کھول کر کسر پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلئیے وہ بہت پریشان تھا۔ ایک بجلی والا ہماری دکان کے علاقے میں گھومتا رہتا ہے۔ بیچارہ ہیروئینچی تھا آجکل اس نے نشہ چھوڑا ہوا ہے اور راتوں کو گلیوں میں پھرتا رہتا ہے۔ اسے ڈھنڈوایا پھر اس سے بجلی صحیح کروائی۔ دراصل یہ سب اسی کی کارستانی تھی وہ اکثر یہ حرکت کرتا ہے جیسے کسی کے میٹر کی سپلائی کاٹ دی اب آپ اسے بلائیں گے تو وہ آپ سے سو پچاس روپے اینٹھ لے گا۔ میں اس کی اس عادت سے اچھی طرح واقف ہوں اور اسے بھی معلوم تھا کہ میرے سامنے اس کی دال نہیں گلے گی۔ اس نے ایسے وقت بجلی کاٹی جب اس کے خیال میں ہماری دکان بند ہوجانی چاہئیے تھی۔ مگر اس کا بیڈ لک کے میں اسوقت وہیں موجود تھا۔ بجلی صحیح کرنے کے بعد وہ پان والے کے پیچھے پڑگیا کہ بھائی تمہارا کام کرا ہے پیسے دو۔ پان والا میرے پاس آیا بھائی اسے پیسے دو میں نے کہا ہر مرتبہ میں اتنا خرچہ کرتا ہوں آج تم خرچا کرو۔ پان والا کہنے لگا چلو آدھے آدھے کرلیتے ہیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے جب اس نے اپنے حصے کے پیسے دے دئیے تو بجلی والے سے کہنے لگا اب تم نعمان بھائی سے بھی پیسے لو تو بجلی والا بولا وہ تم فکر نہیں کرو میں نعمان بھائی سے بعد میں لے لوں گا۔ پان والا اڑ گیا کہنے لگا نہیں میرے سامنے لو۔ مگر بجلی والا جلدی سے بھاگ گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ڈھائی بجے گھر آیا نہایا دھویا سحری کی۔ آج کہیں باہر سے بھولی بھٹکی ایک چھپکلی ہمارے گھر میں گھس آئی ہے اس وقت کامران ایک ہاتھ میں جوتا دوسرے میں جھاڑو لئیے گھات لگائے بیٹھا ہے۔ ہمارے گھر میں سب چھپکلی سے بہت ڈرتے ہیں کامران بھی مگر اب کسی کو تو اس چھپکلی کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنا ہونگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;سحری ٹائم میں اکثر ٹی وی چینل لائیو کال ان شوز کر رہے ہوتے ہیں جس میں آپ اپنے سوال براہ راست عالم حضرات سے کرسکتے ہیں۔ ان میں سے اکثر سوال تو ایسے ہوتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے لوگوں کی کی ذہانت پر کہ وہ ایسے سوال کہاں کہاں سے ڈھونڈ لاتے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں میں بھی کسی پروگرام میں کال کروں اور پوچھوں کہ آیا روزے کی حالت میں چھپکلی مارنے سے روزے پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113028500813365374?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113028500813365374/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113028500813365374' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113028500813365374'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113028500813365374'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/10/blog-post_26.html' title='چھپکلی کی موت آتی ہے تو وہ ہمارے گھر کا رخ کرتی ہے'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113025007522717982</id><published>2005-10-25T19:10:00.000+05:00</published><updated>2005-10-25T19:21:15.453+05:00</updated><title type='text'>بےصلاحیت فنکار جو بہت جلد تہلکہ مچانے والے ہیں</title><content type='html'>میرا چھوٹا بھائی عازب گٹار بجانا سیکھ رہا ہے۔ عازب کا اور میرا پروگرام ہے کہ ہم بہت جلد اپنا ایک فیملی سونگ بنائیں گے۔ جیسے انڈین فلموں میں ہوتا ہے۔ اگر کبھی ہم بچھڑ گئے یا ہم میں سے کسی کی یادداشت چلی گئی تو یہ گانا بہت کام آئے گا۔ ویسے فی الحال تو عازب کی پریکٹس عاطف اسلم کے گانوں تک ہی محدود ہے لیکن پھر بھی ہم کچھ تک بندی کر ہی سکتے ہیں۔ سنئیے عازب پلیئینگ عاطف اسلم کا &lt;a href="http://www.soundclick.com/util/getplayer.m3u?id=2822456&amp;q=lo"&gt;عادت سے مجبور&lt;/a&gt; سونگ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرا دوسرا بھائی کامران شاعر ہے لیکن اس کی شاعری بہت سنجیدہ قسم کی ہوتی ہے اور عازب اور میں اپنا پہلا گانا خوشی سے بھرپور رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ اپنے پہلے گانے میں ہم مناہل کو ماڈل کے طور پر لیں گے۔ حالانکہ وہ ابھی صرف ڈھائی تین سال کی ہے مگر اداکاری اور آرٹ سے اس کا لگاؤ بہت نمایاں ہے۔ دیکھئیے یہ تصویر جس میں مناہل کیمرے کو متوجہ پاکر ایک خوبصورت پوز دے رہی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/Picture%2810%29.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/Picture%2810%29.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;یہ دوسری تصویر میرے بھائی عازب کی ہے۔ اس تصویر میں عازب اپنی یادداشت گم ہونے کی صورت میں جو شکلیں بنائے گا ان میں سے ایک کی پریکٹس کر رہا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/1600/Picture%288%29.jpg"&gt;&lt;img style="margin: 0px auto 10px; display: block; text-align: center; cursor: pointer;" src="http://photos1.blogger.com/blogger/539/1773/320/Picture%288%29.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;کامران کی تصاوہر بھی جلد شائع کی جائیں گی۔ لیکن میں اس انتظار میں ہوں کہ رمضان ختم ہوں تو اس کی تصویر کھینچوں۔ رمضان میں وہ بہت زیادہ مذہبی ہوگیا ہے۔ اتنا بڑا نماز کا نشان اس کے ماتھے پر آگیا ہے۔ اور پانچ ٹائم کی نماز پڑھنے سے وہ بہت سنجیدہ ہوگیا ہے۔ ایسی کوئی فکر کی بات نہیں امید ہے رمضان کے بعد وہ نارمل ہوجائے گا اور اس کی نماز کی عادت بھی قائم رہے گی۔ بہت جلد آپ میری بھی چند تصاویر دیکھ سکیں گے۔ اور اس کے بعد ہم اپنے فیملی بینڈ کے گانے کا ویڈیو پریمئیر بھی یہاں اسی بلاگ پر کریں گے۔ اگر آپ علی ظفر کے گانے سن سکتے ہیں اور فاخر اور ہارون کے ساؤتھ امریکا سے چرائے گئے گانے ہٹ کراسکتے ہیں تو ہمارے اوٹ پٹانگ گانے کیوں نہیں؟&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113025007522717982?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113025007522717982/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113025007522717982' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113025007522717982'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113025007522717982'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/10/blog-post_25.html' title='بےصلاحیت فنکار جو بہت جلد تہلکہ مچانے والے ہیں'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113013043686456081</id><published>2005-10-24T09:48:00.000+05:00</published><updated>2005-10-24T10:07:16.926+05:00</updated><title type='text'>تعارف</title><content type='html'>میں کراچی میں رہہتا ہوں اور دودھ کی دکان چلاتا ہوں۔ واجبی سی تعلیمی اہلیت رکھتا ہوں۔ تھوڑا سا ٹیکنالوجی سے لگاؤ ہے اور ڈائری لکھنے کی گندی عادت بچپن سے ہے۔ اگر کوئی بچپن سے ایک کام کر رہا ہو تو وہ عادت بہت پختہ ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو بچے کم عمر میں ناخن چباتے ہیں وہ بڑے ہوکر تمباکونوش بن جاتے ہیں۔ جو بچے سر کھجانے کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں وہ بڑے ہوکر ہیڈ این شولڈر کے ایڈ میں کام کرتے ہیں اور جو بچے دوسرے بچوں کی کاپیاں، پنسلیں وغیرہ چراتے ہیں وہ بڑے ہوکر این جی اوز کی فیلڈ میں آجاتے ہیں۔  اب چونکہ میں بڑا ہوگیا ہوں اسلئیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں بلاگر بن جاؤں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; اس بلاگ میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ آپکو یہ بلاگ صرف اسلئیے پڑھنا چاہئیے کیونکہ یہ بہت ہی زیادہ عام سا بلاگ ہے۔ اگر آپ پورے ایک سال تک میرا بلاگ پڑھیں گے تو میں آپکو اپنی دکان پر فری لسی پلاؤں گا اور آپکو لائف ٹائم ٹوئنٹی پرسنٹ ڈسکاؤنٹ بھی دوں گا۔ یہ بلاگ روز پڑھنے سے آپکے بال لمبے گھنے اور چمکدار ہوجائیں گے۔ یہ بلاگ آپکی جلد کو سورج کی مضر شعاعوں سے بھی بچاتا ہے کیونکہ اس میں شامل اکثر پوسٹس رات کے دوران پیش آنے والے واقعات پر مبنی ہونگی۔ اس بلاگ کا فارمولا آپکے مسلز بھی بنائے گا۔ کیونکہ اس کو پڑھنے سے آپکے مسلز میں تناؤ پیدا ہوگا اور تناؤ اور پھر ریلیکسیشن سے مسلز بنتے ہیں۔ اس بلاگ کو پڑھنے سے آپ ہر دلعزیز بھی پوجائیں گے۔ وہ اسطرح کی جب آپ کسی محفل میں میری پوسٹس کے حوالے دیں گے تو ہر کوئی یہ سوچتے ہوئے آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گا کہ یہ شخص کتنا عظیم ہے جو اتنا کٹھن کام روز انجام دیتا ہے۔ اس بلاگ کے پڑھنے کے دیگر فوائد بھی ہیں۔ ابھی پڑھئیے مزہ نہ آئے پیسے واپس۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="color: rgb(204, 0, 0);font-size:130%;" &gt; وارننگ:&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس بلاگ پر کبھی کبھی ایسے الفاظ بھی استعمال ہونگے جو نابالغ بچوں کو نہیں سننا چاہئیے اگر آپ کم عمر ہیں تو اپنے ممی ڈیڈی کو یہ بلاگ دکھائیں اور اگر وہ اجازت دیں تو آگے پڑھیں ورنہ کچھ بہت &lt;a href="http://urduweb.org/planet/"&gt;"مس شائستہ و پر تبسم"&lt;/a&gt; قسم کے بلاگ بھی اردو میں دستیاب ہیں جو ہر نابالغ اور کند ذہن بچے کو ضرور پڑھنے چاہئیے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113013043686456081?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113013043686456081/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113013043686456081' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113013043686456081'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113013043686456081'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/10/blog-post_113013043686456081.html' title='تعارف'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113011748245182740</id><published>2005-10-24T06:26:00.000+05:00</published><updated>2005-10-24T06:31:22.456+05:00</updated><title type='text'>دوسرا دن</title><content type='html'>ویسا ہی ایک اور دن۔ روزے کے بعد کچھ دیر ٹی وی دیکھا، دکان روانہ ہوا۔ دکان پہنچا تو کام کے ساتھ ساتھ باتیں بھی چلتی رہیں۔ عباس میری دکان پر کام کرتا ہے اس کا تعلق پنجاب کے ضلع چیچہ وطنی سے ہے۔ آج اس نے ایک واقعہ سنایا جو میں یہاں اسی کی زبانی لکھ رہا ہوں۔ اس کی زبانی لکھنا تو بہت مشکل ہے وہ بہت عجیب انداز میں بولتا ہے اور ایک ایک جملہ دو دو تین تین بار ری پیٹ کرتا ہے بیچ میں اگر کوئی گاہک آجائے تو اسے اپنا قصہ وہیں سے شروع کرنے میں بڑی دشواری ہوتی ہے اسلئیے وہ ایک دن میں ایک سے زیادہ قصہ نہیں سنا پاتا کیونکہ ایک قصہ سنانے ہی میں وہ گھنٹوں لگادیتا ہے۔ اسے اپنے کم تعلیم یافتہ ہونے کا بہت احساس ہے اسلئیے اس کے لہجے میں ایک پرزوریت پائی جاتی ہے وہ اپنی بات کا یقین دلانے کے لئیے بار بار ریپیٹ کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کی بات میں پینڈو پن کم سے کم نظر آئے حالانکہ اگر اس کی باتوں سے وہ پینڈو پن والی سادگی نکال دی جائے تو اس کی کہانی میں کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔ کم تعلیمیافتہ لوگ عموما اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ لوگ ان کے اسٹائل کا مذاق اڑائیں گے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خیر تو عباس بولا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بھائی میرے ایک دوست کا بھائی ہے وہ بھی بس مست ملنگ آدمی ہے۔ اس کا نام محمد احسان ہے مگر گاؤں میں سب اسے گل شیر کہتے ہیں۔ بھائی آپ میری بات کا یقین نہیں کرو گے مگر یقین مانو میں بالکل سچ بتا رہا ہوں۔ وہ ایسا بندہ ہے کہ سڑی ہوئی گرمیوں میں وہ پورے کپڑے، جوتے، جرابیں اور سر پر اونی ٹوپی پہن کر گھومتا ہے اور اگر کہیں سایہ ہو تو وہاں کھڑا نہیں ہوگا بلکہ دھوپ میں کھڑا ہوگا۔ ھائی آپ میری بات کا یقین نہیں کرو گے مگر یقین مانو میں بالکل سچ بتا رہا ہوں۔ وہ بری سے بری گرمی میں بھی گھر کے اندر چادر تان کر سوتا ہے۔ حالانکہ اس کے پاس سرکاری نوکری ہے مگر اس کی نوکری ایسی ہے کہ بس کام وام کوئی نہیں ہوتا سارا دن گھومتا رہتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے عباس کو ٹوک کر پوچھا کہ کہیں وہ پاگل تو نہیں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نہیں بھائی آپ میری بات کا یقین نہیں کرو گے مگر یقین مانو میں بالکل سچ بتا رہا ہوں۔ وہ بالکل پاگل نہیں ہے۔ آپ اس سے بات کرو بالکل صحیح بات کرے گا اور اتنی اچھی بات کرے گا کہ اگر آپ اس کے ساتھ بیٹھ جاؤ تو اتنا ہنسو گے اور خوش ہوگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے پوچھا "تو پھر وہ اتنی گرمی میں یہ حرکتیں کیوں کرتا ہے؟" عباس بولا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بھائی آپ میری بات کا یقین نہیں کرو گے مگر یقین مانو میں بالکل سچ بتا رہا ہوں۔ میں نے اس سے بہت بار پوچھا مگر وہ بولتا ہے کہ اس کو گرمی محسوس ہی نہیں ہوتی۔ اچھا ایک دفعہ کا ذکر سناؤں بھائی آپ میری بات کا یقین نہیں کرو گے مگر یقین مانو میں بالکل سچ بتا رہا ہوں۔ وہ ایک مرتبہ گھر والوں سے لڑ کر اپنے ایک دوست کے پاس چلا گیا۔ بہت دن وہاں رہا مگر گھر تو واپس آنا تھا۔ تو وہ واپس آنے لگا مگر اس کے پاس بس کے پیسے نہیں تھے تو وہ پیدل ہی چل پڑا راستے میں وہ ایک گاؤں سے گذرا تو وہاں ایک حویلی کے باہر مجمع لگا ہوا تھا۔ اس نے لوگوں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ یہاں جو بیچارے زمین دار رہتے ہیں ان کے ڈھنگروں میں بیماری آئی ہوئی ہے کل سے اب تک تین بھینسیں مر گئی اور دو مزید گرنے والی ہیں۔ تو بھائی آپ یقین کرو اس نے لوگوں کو بولا کہ تم سب سائڈ میں ہٹو میں دیکھوں گا اللہ نے چاہا تو سب صحیح ہوجائے گا۔ تو بھائی وہ گاؤں کے لوگ تو اس کو نہیں جانتے تھے مگر اس کا عجیب سے حلیہ دیکھ کر وہ بولے کہ پتہ نہیں کون ہے اور کیا پتہ کچھ کرامات ہی دکھادے۔ تو وہ اسے جانوروں کے پاس لے گئے۔ پھر اس نے ان جانوروں کے گرد سات چکر لگائے اور الٹا پلٹا پتہ نہیں کیا پڑھتا رہا اور ایک بالٹی پانی پر دم کر کے جانوروں پر چھڑکتا رہا۔ بھائی پھر اس نے وہ پانی ان لوگوں کو دیا اور کہا کہ بس کل تک یہ پانی چھڑکتے رہو اور نماز کے بعد دعا کرو سب جانور صبح تک کھڑے ہوجائیں گے۔ پھر بھائی جو بیچارہ زمیندار تھا اس نے اپنی جیب سے گل شیر کو پچاس روپے دئیے جس سے وہ بس میں بیٹھ کر گاؤں آیا۔ اچھا گاؤں میں تو کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ کیا گل کھلا کر آیا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بھائی آپ یقین کرو تین دن بعد اس گاؤں سے ایک گاڑی پوری بھر کر آدمیوں کی آئی اور ہمارے گاؤں کی چوک پر جہاں سے چیچہ وطنی کا راستہ جاتا ہے وہاں گل خان کا پوچھنے لگے۔ وہاں لوگوں نے بتایا کہ بھائی ہم گل شیر کو تو جانتے ہیں مگر گل خان نام کے کسی بندے کو نہیں جانتے اتنے میں میرے ابو وہاں پہنچے تو وہ انہیں ہوٹل میں لے گئے اور وہاں ان کو بٹھا کر پوچھا تو انہوں نے سارا قصہ سنایا اور یہ بتایا کہ ان کے سب جانور اگلے دن ہی ٹھیک ہوگئے۔ بھائی آپ یقین کرو وہ لوگ اتنا سامان کپڑے جوتے اور پتا نہیں کیا کیا اس کے واسطے لائے تھے۔ اور ہم نے تو اسے کبھی مسجد بھی نہیں جاتے دیکھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے عباس کو روکا اور کہا "کیا پتہ وہ گل شیر کوئی اللہ کا نیک بندہ ہی ہو"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نہیں بھائی آپ میری بات کا یقین کرو اسے تو شاید نماز پڑھنا بھی نہیں آتی ہوگی اور میں نے اس سے پوچھا کہ کیوں بے اب تو پیر ہوگیا ہے کیا؟ تو وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا کہ یار میں اسوقت بہت بھوکا تھا اور پیسے بھی نہیں تھے اور گاؤں تک پہنچتے پہنچتے تو میں شاید بھوک سے بیہوش ہوجاتا۔ میں نے سوچا کہ اور کچھ نہیں تو یہ لوگ مجھے لسی پانی تو پلاہی دیں گے یہ سوچ کر میں نے یہ ڈرامہ کیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے عباس سے پوچھا "مگر تو بتارہا تھا کہ گاؤں کہ لوگ تو کوئی بھی دروازہ کھٹکائے اسے کھانا دے دیتے ہیں وہ کسی سی مانگ نہیں سکتا تھا؟"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بھائی آپ یقین نہیں کرو گے مگر گاؤں کے آدمی مانگنے کو بہت برا فعل سمجھتے ہیں گل شیر بھلے پاگل ہی ہے مگر کبھی مانگے گا نہیں۔ آپ اسے کوئی چیز تحفے میں بھی دو گے تو وہ نہیں لے گا جب تک کہ وہ اس سے بڑھ کر کوئی چیز آپ کو دینے کے لائق نہ ہو۔  یہاں میں نے سوچا کہ عباس مبالغہ کر رہا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خیر میرے خیال میں جو لوگ سیدھے سادھے ہوتے ہیں اور کسی کا دل نہیں دکھاتے اللہ ان کی عزت رکھ لیتا ہے اور ان کے الٹے کاموں کو بھی سیدھا کردیتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ دیر بعد ہماری دکان پر ہمارا ایک ریگولر کسٹومر آیا۔ وہ روز ہماری دکان پر بیٹھ کر ایک پاؤ گرم دودھ بھی پیتا ہے اور ایک کلو دودھ کچا پارسل بھی لے جاتا ہے۔ رمضان میں وہ دودھ پینے نہیں آرہا کیونکہ ہمیں دودھ گرم کرتے کرتے آٹھ بج جاتے ہیں اور وہ مغرب کی نماز پڑھ کر سیدھا دودھ پینے آتا ہے۔ اب آجکل وہ آگے ایک اور دکان سے دودھ پینے جاتا ہے۔ رات کو آیا اور کہنے لگا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;"یار نعمان بھائی برا نہیں ماننا مگر ایک بات پوچھنا ہے۔ یار میں آگے والی دکان سے دودھ پیتا ہوں تو وہ ساڑھے سات روپے کا دیتا ہے اور تم لوگ نو روپے کا دیتے ہو کیوں؟"&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرا جی چاہا کہ اسکے ایک لگاؤں کان کے نیچے مگر ضبط کرنا پڑا اور الٹا تحمل سے اسے جواب دیا۔ دراصل آگے جو دکان ہے وہ گرم دودھ گائے کا بیچتے ہیں جو کہ بہت سستا ہے اور ہم گرم دودھ بھینس کا بیچتے ہیں جو اٹھائیس روپے کلو ہے۔ اب اسے خود ہی سوچنا چاہئیے تھا کہ کوئی دکان دار سات روپے پاؤ کا دودھ گیس خرچ کرکے کرسیاں ٹیبل لگا کر لیبر اور کاریگر رکھ کر اور چینی ڈال کر اسے صرف آٹھ آنے منافع پر کیسے دے سکتا ہے؟ اس رقم سے تو گیس کا بل بھی نہیں نکلے گا۔ مگر نہیں جناب بس شک کرنا کہ نعمان مجھ سے دو روپے زیادہ لے رہا ہے۔ اس ٹائپ کے گاہکوں سے میری بڑی ہٹتی ہے۔ دراصل ہم سب لوگ اتنے بے ایمان ہوگئے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر کوئی ہماری طرح بے ایمان ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج اتوار کی وجہ سے دکانداری کچھ کم ہوئی لگ ہی نہیں رہا کہ رمضان ہیں ورنہ کہاں رمضان میں ہمارے پاس دودھ کی اتنی قلت ہوتی تھی اور کہاں اب روز دودھ بچ جاتا ہے۔ دہی اور لسی کی سیل تو اور بھی زیادہ ڈاؤن ہے۔ دکان بند کرکے گھر کا ناشتہ لیا، امی کی گولیاں دوائیاں لیں، میرے کمرے کی ٹیوب لائٹ خراب ہو گئی تھی تو ایک ٹیوب لائٹ لی اور کوئی ڈیڑھ بجے گھر پہنچا۔ مناہل اور نورالعین مجھے زینوں پر ہی مل گئے وہ اپنے گھر جارہی تھی اعجاز بھائی انہیں لینے آگئے تھے۔ میں نے اوپر چڑھتے ہوئے ان کی موٹر سائیکل نہیں دیکھی ورنہ ضرور سلام دعا کرتا۔ خیر نہایا دھویا کھانا وانا کھایا ٹی وی دیکھا پھر سحری کے ٹائم دودھ پراٹھا کھایا۔ نماز کے بعد کمپیوٹر پر بیٹھے تو حیران رہ گیا کہ میری ڈائری چوبیس گھنٹے میں اردو سیارے میں شامل ہوگئی اور کئی تجربہ کار بلاگرز نے میری پہلی پوسٹ پر  مجھے مبارکباد اور مشورے بھی دئیے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113011748245182740?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113011748245182740/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113011748245182740' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113011748245182740'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113011748245182740'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/10/blog-post_24.html' title='دوسرا دن'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-18185113.post-113004472969479765</id><published>2005-10-22T21:48:00.001+05:00</published><updated>2005-10-23T10:28:15.340+05:00</updated><title type='text'>پہلا دن</title><content type='html'>یہ میرا بلاگ کم ڈائری ہے جہاں میں روز کچھ نہ کچھ لکھوں گا۔ اور جیسے جیسے میں کچھ کچھ لکھوں گا ویسے ویسے آپ لوگ میرے بارے میں جانتے جائیں گے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کل شام چھ بجے سو کر اٹھا۔ روزہ افطار کرنے کے بعد دکان روانہ ہوا۔ نورالعین اپنی بچی کے ساتھ رکنے آئی ہوئی ہے۔ دکان پہنچا اور دودھ بیچنے لگا۔ عباس سے ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر اویس آگیا۔ اویس ایک چوتیا قسم کا لڑکا ہے جس کے سر پر مردانگی کے عجیب بھوت سوار ہیں۔ اس کی عمر کوئی سولہ سترہ سال ہوگی۔ عام سی شکل صورت ہے اور اتنا جاہل ہے کہ بس۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یونہی ساڑھے بارہ بج گئے۔ دکان بند کی اور ناشتہ لیتا ہوا رکشے میں بیٹھ کر گھر آگیا۔ جس رکشے والے کے ساتھ میں روز آتا ہوں وہ بھی ایک عجیب کردار ہے۔ جتنا ٹوٹا پھوٹا اور کچھاڑا اس کا رکشہ ہے اتنا ہی میلا اور گندا وہ خود ہے۔ پچاس سال کا ہوگا۔ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں ماں باپ مر گئے کوئی بہن بھائی نہیں کچھ نہیں۔ رکشے چلاتا ہے اور رکشے میں ہی سوتا ہے۔ نہ گھر ہے نہ ٹھکانہ حتی کہ رکشہ بھی اس کا اپنا نہیں ہے۔ دیگر رکشے والے جو اسی اسٹینڈ پر کھڑے ہوتے ہیں اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس شخص نے ماں باپ کو بہت ستایا اسلئیے یہ آج اس حال کو ہے۔ مگر اسے دیکھ کر اور اس سے ایک دو باتیں کرکے مجھے یہ محسوس نہیں ہوا کہ اسے اپنے حال پر کوئی پچھتاوا ہے۔ شاید وہ اپنے اس برے حال کو اتنا برا محسوس نہیں کرتا جتنا دیگر لوگ کرتے ہیں یا شاید وہ اپنی اس بری حالت کا ذمہ دار بھی کسی اور کو ٹہرا کر مطمئن ہوجاتا ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گھر آیا تو کھانا وانا کھاتے ہوئے دو بج گئے مناہل کو لے کر باہر نکلا مگر میں جس دکان سے اسے ٹافیاں وغیرہ دلاتا ہوں وہ بند ہوگئی تھی۔ ویسے تو مناہل صرف ڈھائی سال کی ہے لیکن بہت اونچے ذوق رکھنے والے بچی ہے۔ چھوٹی موٹی دکانوں سے خریدی ہوئی چیز اسے اچھی نہیں لگتی۔ پھر بھی میں اسے قریب ہی ایک بیکری پر لے گیا وہاں سے اس نے بے دلی سے ایک دو چیزیں لے لیں۔ گھر واپس آئے تو سحری تک مناہل نے ادھم ٹھونکے رکھا۔ سب گھر والے سحری کر کے صبح سوئے، ابو دکان چلے گئے۔ اور میں انٹرنیٹ پر براؤسنگ کرتا رہا اچانک خیال آیا کہ اپنا بلاگ بناؤں۔ ویسے تو میری زندگی میں لکھنے کو ایسی کوئی خاص بات ہے نہیں مگر جب ایسے ایسے ایلے میلے بلاگ لکھ رہے ہیں تو میں کیوں نہ لکھوں۔ اب یہ سب لکھنے کے بعد شاید سوجاؤں گا۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/18185113-113004472969479765?l=noumaan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://noumaan.blogspot.com/feeds/113004472969479765/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=18185113&amp;postID=113004472969479765' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113004472969479765'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/18185113/posts/default/113004472969479765'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://noumaan.blogspot.com/2005/10/blog-post_22.html' title='پہلا دن'/><author><name>Noumaan</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://3.bp.blogspot.com/_DdV5RVU6Q8c/S514h6EApNI/AAAAAAAAA84/oa0xBaOLgFA/S220/noumaan.jpg'/></author><thr:total>4</thr:total></entry></feed>
